اجتماعی عصمت دری معاملے میں گیارہ لوگوں کو عمر قید، 6نابالغوں کا معاملہ خصوصی عدالت میں زیر غور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th June 2019, 4:40 PM | ملکی خبریں |

جھارکھنڈ،11؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) جھارکھنڈمیں دمکا ضلع کی سیشن عدالت نے ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں آج گیارہ لوگوں کوتاعمر قید بامشقت کی سزا سنائی ۔ ضلع اور ایڈیشنل سیشن جج ( دوئم) پون کمار کی عدالت نے خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری معاملے میں سماعت کے بعد گیارہ لوگ جان مرمو، الوینوس ہیمبرم ، جے پرکاش ہیمبرم ، سبھاش ہنس داس ، سورج سورین ، مارشیل مرمو ، دانیل کسکو، سمن سورین ، انیل رانا ، شیلندر مرانڈی اور صدام انصاری کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376( ڈی) کے تحت قید بامشقت کے ساتھ 20-20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی ۔ جرمانے کی رقم ادا نہیں کرنے پر ملزمین کو ایک سال مزید جیل کی سزا بھگتنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت کے ذریعہ 341/34,342/34,323/34 سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت بھی سزا سنائی گئی ہے ۔

غور طلب ہے کہ اجتماعی عصمت دری کی شکار متاثرہ کی شکایت پر17 لوگوں کے خلاف 07دسمبر 2017 کو دمکا مفصل تھانہ میں نامزد ایف آئی درج کی گئی تھی ۔ درج ایف آئی آر کے مطابق سات دسمبر کی شام کو متاثرہ گھومنے گئی تھی ۔ اسی درمیان ملزمین نے زبردستی اسلحہ کا خوف دکھا کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعہ کو انجام دیا تھا ۔ درج ایف آئی آر پر فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے 36 گھنٹے کے اندر سولہ نامزد ملزمین کو گرفتار کر لیا تھا۔

اس معاملے سے متعلق دیگر چھ نابالغوں کا معاملہ خصوصی عدالت ( چائلڈ کورٹ ) میں زیر غور ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

ایڈی یورپا کو پارٹی ہائی کمان کی تنبیہ۔ وزارتی قلمدان تقسیم کرو یا پھر اسمبلی تحلیل کرو

عتبر ذرائع سے ملنے والی خبر کے مطابق بی جے پی ہائی کمان نے وزیراعلیٰ کرناٹکا ایڈی یورپا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتی قملدانوں سے متعلق الجھن اور وزارت سے محروم اراکین اسمبلی کے خلفشار کو جلد سے جلد دور کرلیں ورنہ پھر اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے از سرِ نو انتخابات کا سامنا ...

چار فرضی صحافیوں کو پولیس نے کیا گرفتار

گوتم بدھ نگر ضلع تھانہ بیٹا کے پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ صحافی ہونے کا دعوی کرکے غیر قانونی وصولی کرتے تھے اور اپنے مفاد کے لئے انتظامی حکام پر دباؤ بناتے تھے۔