جیٹ ایرویز کا بحران بڑھا،آج سے پائلٹ طیارے نہیں اڑائیں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2019, 10:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی) مالی بحران میں پھنسی طیارہ خدمات فراہم کرانے والی کمپنی جیٹ ایئرویز کا بحران کم ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ اس کے پائلٹوں کی ایک تنظیم نیشنل ایوی ایٹرس گلڈ (این اے جی) نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر کی صبح دس بجے سے طیارے نہیں اڑائیں گے۔

نجی ایئرلائنس کے 1600 پائلٹوں میں 1,100 این اے جی کے اراکین ہیں۔ تنظیم کے ایک ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ انہوں نے پیر کی صبح دس بجے سے طیارے نہیں اڑانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انجینئروں اور انتظامیہ کے سینئر اراکین کے ساتھ پائلٹوں کو بھی جنوری سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ دیگر ملازمین کو تنخواہ کی جزوی ادائیگی کی جارہی تھی ، لیکن ان کی بھی مارچ کی تنخواہ اب تک نہیں ملی ہے۔

کمپنی نے یقین دلایا کہ قرض دہندن بینکوں کے کنسورٹیم کی طرف سے شروع کیے گئے حل کے عمل کے تحت جیسے ہی نقدی آتی ہے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی اس کی ترجیح ہوگی۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی قیادت والے کنسورٹیم نے 1500کروڑ روپے کی نقدی ہونے کا یقین دلایا ہے۔ کنسورٹیم نے ایئر لائنس کی 75 فیصد تک حصہ داری فروخت کرنے کے لئے بولی کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں دلچسپی خط جمع کرانے کی آخری تاریخ ختم ہوچکی ہے۔ اہل بولی لگانے والوں کے لئے مالیاتی ٹنڈر جمع کرانے کی آخری تاریخ 30اپریل رکھی گئی ہے۔

کچھ ہی مہینے پہلے 120 طیاروں کا آپریشن کرنے والی کمپنی کے طیاروں کی تعداد نقدی کی قلت کی وجہ سے پندرہ سے بھی کم رہ گئی ہے۔ کرایہ نہیں ادا کرنے کی وجہ سے طیارہ پٹہ پر دینے والی کمپنیوں نے بڑی تعداد میں اس کے طیارے گراونڈ کردیئے ہیں۔ اس نے پیر تک کے لئے اپنی تمام بین الاقوامی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

الیکشن کمیشن کا حلف نامہ - گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات قانون کے مطابق، کمزور پڑ رہی کانگریس 

گجرات میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر کانگریس کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے حلف نامہ داخل کیا ہے الیکشن کمیشن نے دو سیٹوں پر الگ الگ انتخابات کرانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔

بی ایس این ایل کی حالت خراب؛ ملازمین کو جون کی تنخواہ دینے کے لیے نہیں ہیں رقم

رکاری ٹیلی کام کمپنی بی ایس این ایل نے حکومت کو ایک خط  بھیجا ہے، جس میں کمپنی نے آپریشنز جاری رکھنے میں تقریبا نااہلی ظاہر کی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ رقم میں  کمی کے سبب کمپنی کے ملازمین کو  جون ماہ کی تنخواہ  تقریبا 850 کروڑ روپے  دے پانا مشکل ہے۔کمپنی پر ابھی قریب 13 ہزار کروڑ ...