آبپاشی پراجکٹوں کی شروعات کیلئے جے ڈی ایس ریاست گیر تحریک چلائے گی: دیوے گوڑا

Source: S.O. News Service | Published on 23rd August 2021, 12:56 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،23؍اگست(ایس او  نیوز)سابق وزیر اعظم اور جنتا دل ایس کے قومی صدر دیوے گوڑا نے کہا ہے کہ ریاستی لیجس لیچر اجلاس کے فوری بعد کرناٹک میں میکے ڈاٹو اور مہا دائی آب پاشی پراجکٹوں کی شروعات کے لئے جنتا دل (ایس) کی طرف سے ریاست گیر تحریک شروع کی جائے گی۔ اس کے لئے وہ ریاست بھر میں پدیاترا کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں پراجکٹوں کے لئے مرکزی حکومت سے منظوری کے لئے وہ کرناٹک سے ایک وفدوزیر اعظم مودی کے پاس لے جانے کا منصوبہ بھی رکھتے ہیں۔جے ڈی ایس دفتر میں ایک اخباری کانفرنس سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ میکے دا ٹو، مہا دائی اور آلمٹی ڈیم پڑوسی ریاستوں کے ساتھ آبی تنازعہ کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں پراجکٹوں کے تعلق سے کرناٹک کے مفادات کی حفاظت کے لئے جے ڈی ایس کی طرف سے تحریک جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کرناٹک کے مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔ علاقائی سیاسی جماعتیں ہی ریاست کے مفادات کی حفاظت اور نمائندگی بہترطریقہ سے کر سکتی ہیں۔ تمل ناڈو اورا ٓندھرا پردیش کی علاقائی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی نمائندگی کر رہی ہیں، لیکن کرناٹک میں دو بڑی قومی سیاسی جماعتیں کانگریس اور بی جے پی ریاست کے مفادات کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ لیجس لیچر اجلاس کے بعد ان کی پارٹی ریاست بھر میں آب پاشی پراجکٹوں کی جلد شروعات کے لئے تحریک شروع کرے گی۔ اس کے لئے پارٹی نے ابھی سے حکمت عملی وضع کرنا شروع کردیا ہے۔ کورونا وائرس کے متعلق انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی تباہی کا سلسلہ کب ختم ہو گا،اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جا سکتا۔ اسی کو بہانہ بنا کر پارٹی کو منظم کرنے کے کاموں کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود چند اضلاع کا دورہ کر کے وہاں پارٹی کو منظم کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھائیں گے۔پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے دوران بلوں کی منظوری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کے سبب عوام کو درپیش سنگین مسائل کے بارے میں ایوان میں نمائندگی نہ کی جا سکی۔انہوں نے کہا کہ سنگین مسائل حکومت کی توجہ کے محتاج رہ گئے اور سارا اجلاس توجہ کا محتاج رہ گیا۔ بعض حلقوں کے اس تبصرہ پر کہ جے ڈی ایس کی ریاستی سیاست میں کوئی حیثیت نہیں، دیوے گوڑا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں جے ڈی ایس کی طرف سے جو ریاست گیر تحریک شروع ہو گی اس میں پارٹی کی اصل سیاسی قوت کا اندازہ لگے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کی طرف سے سابق وزرائے اعظم جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپائی کے خلاف توہین آمیز بیانات دئیے جا رہے ہیں، اس سلسلہ کو بند کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی رہنماؤں کے کردار کو داغدار کر کے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس سے پارٹی کی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے تو یہ غلط ہے۔اس موقع پر رکن اسمبلی آر منجوناتھ، سابق وزیر این ایم نبی، سابق رکن کونسل ٹی اے شرونا، بنگلور و جے ڈی ایس صدر آر ھرکاش، سابق کارپوریٹر عمران پاشاہ اور دیگر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کی مدد کرنے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے: ضمیر احمد خان 

رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے جے ڈی ایس  پر الزام لگایا ہے کہ 30 ؍ اکتوبر کو سندگی ہانگل اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کے مقصد سے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

کلبرگی کے چنچولی میں زلزلوں کے جھٹکوں سے خوفزدہ لوگ گاؤں چھوڑنے پر مجبور۔شمالی کرناٹک میں زلزلوں کی وجہ ’’ہائیڈرو سسمسیٹی‘‘، این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں انکشاف

شمالی کنڑا کے بیدر اور کلبرگی ضلع میں سلسلہ وار زلزلے درحقیقت ’’ہائیڈ رو سسمسیٹی‘‘ ( زمین کے اندر پانی کے دباؤ کاعمل  ) کا معاملہ ہے جو مانسون کے بعد ہوتا ہے ۔ یہ انکشاف این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں ہوا ہے ۔

آئی ٹی کے دھاوے سیاسی تھے، کانگریس کے ساتھ کام کرنے پر نشانہ بنایا گیا ؛ انتخابی مہم کی کمپنی کا دعویٰ

بنگلورو میں محکمہ آئی ٹی کی جانب سے جس ڈیزائن با کسڈ‘‘ نامی کمپنی پر حال ہی میں دھاوا کیا ، اس کے منیجنگ ڈائرکٹر نریش اروڑا نے مرکزی محکمہ کو نشانہ بناتے ہوئے  کہا کہ یہ دھاوے واضح طور پر سیاسی تھے اور آئی ٹی عہد یداروں کو دھاوؤں کے دوران کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔

کمار اسوامی کی سدارامیا پر تنقید ، کانگریس کے مسلم قائدین کی ’’سیاسی نسل کشی ‘‘ کا الزام

جے ڈی ایس کے قائد اور سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کماراسوامی نے در پردہ نشانہ لگاتے ہوئے کرناٹک کانگریس میں مسلم قائدین کی ’’ سیاسی نسل کشی‘‘ کے لیے اپوزیشن قائد سدارامیا کومورد الزام ٹھہرایا۔ کنڑا زبان میں اپنے سلسلہ وارٹوئٹس میں کمارا سوامی نے سدارامیا کا نام لیے بغیر کہا کہ ...