سرینگر ایئر پورٹ پر میڈیا سے بدسلوکی، سوال پوچھنے پر بھا گ کھڑے ہوئے پولیس اہلکار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 25th August 2019, 11:15 AM | ملکی خبریں |

سری نگر /25 اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اپوزیشن جماعتوں کا ڈیلی گیشن ہفتہ کو سرینگر پہنچا۔ ایئر پورٹ پہنچنے پر رہنماؤں اور میڈیا کو الگ کر دیا گیا۔ میڈیا نے اپوزیشن رہنماؤں سے بات چیت کرنی چاہی، لیکن پولیس اہلکار نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ ’آج تک‘ کی صحافی موسمی سنگھ کے ساتھ دھکا مکی بھی کی گئی، ان کے ہاتھ میں چوٹ بھی آئی ہے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پولیس نے خواتین صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کیوں کی۔ جب میڈیا نے بدسلوکی کو لے کر سوال کیا تو پولیس اہلکار بھاگنے لگے۔ صحافیوں کو اپوزیشن رہنماؤں کے سری نگر دورے کی کوریج کرنے سے روکا گیا۔اس سے پہلے کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ایک طرف حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات معمول ہے، اور دوسری طرف وہ کسی کو جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں، یہ کیسا تضاد ہے۔ اگرحالات معمول پر ہیں تو سیاسی لیڈروں کو نظربند کیوں کیا جاتا ہے؟جموں و کشمیر حکومت کے اطلاعات و تعلقات عامہ محکمہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب حکومت جموں و کشمیر کے لوگوں کو سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے حملے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے احتجاجی عناصر کو کنٹرول کر آہستہ آہستہ عوامی نظام کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس صورت حال میں سینئر سیاستدانوں کی طرف سے عام ہوتے حالات کو چھیڑنے کوشش کر نہیں کرنی چاہیے۔ واضح ہوکہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا وفد آرٹیکل 370 ہٹنے کے پیش نظر ہفتہ کو جموں و کشمیر کے دورے پر پہنچا،جہاں انہیں ایئر پورٹ پر روک دیا گیا۔ اگرچہ انتظامیہ نے پہلے انہیں یہ کہتے ہوئے یہاں نہ آنے کی درخواست کی تھی کہ آہستہ آہستہ عام ہو رہے حالات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو واپس دہلی بھیجے جانے کو لے کر کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ کانگریس نے ٹوئٹ کیا کہ:’اگر حکومت کے دعوے کے مطابق جموں و کشمیر کی صورتحال معمول پر ہیں، تو راہل گاندھی کی قیادت میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کے وفد کو سری نگر ہوائی اڈے سے واپس کیوں بھیجا گیا ہے؟ مودی حکومت کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟کانگریس نے پولیس کی طرف سے میڈیا کے ساتھ بدسلوکی کئے جانے کی مذمت کی۔ پارٹی نے کہا کہ سرینگر پولیس کی طرف سے میڈیا سے جارحانہ طور پر پیش آنے اور ان اپوزیشن رہنماؤں کے وفد سے ملنے سے روکنے کی خبریں آ رہی ہے۔ ہم میڈیا کے خلاف اپنائے گئے سخت رویہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔وہیں گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ راہل گاندھی کو اب یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی ضرورت تب تھی جب ان کے ساتھی پارلیمنٹ میں بول رہے تھے۔ اگر وہ یہاں حالت خراب کرنا چاہتے ہیں اور دہلی میں ان کی طرف سے بتائے گئے جھوٹ کو دوبارہ کرنا چاہتے ہیں، تو یہ اچھا نہیں ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

بہار میں این آر سی معاملہ پر بی جے پی میں ہی اختلاف

بہار میں حزب اقتدار جنتا دل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو) کے ساتھ نائب وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کے سنیئر لیڈر سشیل کمار مودی جہاں ریاست میں قومی سٹیزن رجسٹر (این آر سی) کے مخالف ہیں وہیں نتیش حکومت کے محصولات اور اصلاحات اراضی اور بی جے پی لیڈر رام نارائن منڈل نے کہا کہ ...