تریپورہ  میں مسلمانوں اور اُن کی عبادت گاہوں پر شرپسندوں کے حملے؛ جماعت اسلامی ہند کا تریپورا کے شر انگیز عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd October 2021, 5:03 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،  23 اکتوبر  (ایس او نیوز/پریس ریلیز)    گذشتہ دو تین دنوں سے ریاست تریپورہ  میں مسلمانوں پر اور اُن کی عبادت گاہوں پر شرپسندعناصرکی جانب سے مسلسل حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ مسجدوں میں آگ زنی، مسلمان مرد و خواتین پر تشدد،  انہیں ہراساں کرنے اور گھروں پر بھگوا جھنڈے لہرانے کے واقعات کی اطلاعات  ہیں۔اشرار بلاخوف قانون کو توڑ رہے ہیں۔ ان تشدد کے واقعات اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کی جماعت اسلامی ہند نےسخت مذمت کی ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے حکومت تریپورہ سے مطالبہ کیا  ہے کہ  شر پھیلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔پولیس انتظامیہ اپنی فرض شناسی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اشرار کے ساتھ سختی سے نپٹے اور حالات کو فوری معمول پر لائے۔ بنگلادیش میں ہوئے واقعات کی مخالفت میں جو احتجاجی جلوس اگرتلہ اور دیگر مقامات پر نکالے گئے تھے ان میں مبینہ طور پر ملک کے مسلمانوں کے خلاف نفرتی نعرے لگائے گئے. احتجاج کا یہ طریقہ قابل مذمت ہے اور قانونی چارہ جوئی کا متقاضی ہے۔

سکریٹری جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نےوضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے ایک ہفتہ قبل بنگلادیش میں ہوئے واقعات اور اقلیتوں پر تشدد کی بھی شدید مذمت کی تھی اور حکومت بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہر حال میں اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت کرے۔جناب ملک صاحب نے کہا کہ ہم بنگلادیش کے ان واقعات پر  بھی غم و غصےکا اظہار کرتےہیں اور ان واقعات کو ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے استعمال کرنے کی کوشش پر بھی سخت تشویش اور ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔

ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اقلیتوں پر ظلم آج دنیاکے مختلف ملکوں میں ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ عمل سیاسی جماعتوں اور دائیں بازو کی تنظیموں کے لئے سیاسی مفاد کے حصول کا شارٹ کٹ اور  آسان ذریعہ بن گیا ہے.. یہ رجحان انسانی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ دنیا کا  کوئی مہذب معاشرہ اس رویہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ملک کے تمام انصاف پسند عوام بنگلہ دیش کے واقعات کی بھی مذمت کریں اور تریپورہ کے واقعات کے خلاف بھی آواز بلند کریں اور حکومتوں کو امن و امان اور انصاف کے تقاضے پورے کر نے کے لئے مجبور کریں۔

پریس ریلیز میں مزیدکہا گیا ہے کہ ان حالات میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری دوبالا ہوجاتی ہے۔کسی بھی مذہب کا  استحصال ظلم پھیلانے کے لیے نہ ہو۔ مذہبی رہنماؤں کی آواز فرقہ پرست لیڈران سے بلند ہونی چاہئے۔ یہ انسانیت اور ملک کے مفاد میں ہے اور وقت کا عین تقاضہ ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ہندوستان میں کورونا کے 9,765 نئے کیسز، 477 اموات

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا وائرس کے کل 9,765 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیز ملک میں کووڈ متاثرین کی کل تعداد اب تک بڑھ کر 3 کروڑ 46 لاکھ 06 ہزار 541 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کووڈ کی وجہ سے کل 477 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ملک میں کووڈ سے اب تک کل 4 لاکھ 69 ہزار 724 ...

اومیکرون کے بڑھتے خطرے کے باعث حکومت نے کہا: 11 ممالک کو خطرے کے زمرے میں رکھا گیا، ایئرپورٹ پر کورونا ٹیسٹ لازمی

دنیا بھر میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان، حکومت ہند نے بیداری کے طور پر کئی قدم اٹھائے ہیں۔ ان میں سے ایک ان متاثرہ ممالک سے سفر کرنے والے لوگوں کی سخت اسکریننگ ہے۔ شہری ہوا بازی کے وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا نے لوک سبھا میں سرمائی اجلاس کے دوران جمعرات کو کہا کہ حکومت ...

شفیق الرحمن برق کے بیان پردہلی پولیس میں شکایت درج

دہلی کے ایک وکیل نے جمعرات کو سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لوک سبھا ایم پی شفیق الرحمان برق کے خلاف رام مندر کی تعمیر کے بارے میں ان کے حالیہ بیان پر دہلی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت کے مطابق شفیق الرحمان برق نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ رام مندر زبردستی بنایا جا رہا ...

تقریباََسبھی پارٹیاں بی جے پی کے ساتھ سرکاربناچکی ہیں، دگ وجے سنگھ نے ممتابنرجی کوآئینہ دکھایا،کانگریس کے بغیر مضبوط اتحاد ممکن نہیں

ایسالگتاہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بالواسطہ بی جے پی کوفائدہ پہونچانے کی ڈگرپرچل رہی ہیں۔ اپوزیشن کے درمیان اختلاف کوہوادیتے ہوئے وہ کانگریس مکت بھارت کی طرف بڑھ رہی ہیں جوبی جے پی کابھی مشن ہے ۔