جبل پورسیمی مقدمہ،دہشت گردی کے الزام سے نچلی عدالت سے بری ملزمین کے خلاف داخل حکومت کی اپیل خارج،جمعیۃ علماء کی کوششوں سے ملزمین کو راحت ملی: گلزار اعظمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd May 2019, 11:46 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

 ممبئی،23/ مئی (ایس او نیوز/پریس ریلز)ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار5/ مسلم نوجوانوں کی نچلی عدالت سے باعزت رہائی کے خلاف حکومت کی جانب سے داخل اپیل کو گذشتہ ہفتہ جبل پور کی سیشن عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ مجسٹریٹ عدالت سے ملزمین کو ملی راحت عین قانون کے مطابق اور ریاستی حکومت کی اپیل میں کوئی ٹھوس پہلو نہیں جس کی وجہ سے مجسٹریٹ عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جاسکے۔ گذشتہ شام دفاعی وکلاء اور ملزمین کو فیصلہ کی کاپی مہیا کرائی گئی۔واضح رہے کہ سال2008میں پولیس نے محمد یونس انصاری، غیاث الدین عبدالغفار، شیخ سرفراز نظام الدین، شفیق احمد انصاری اور ناصر احمد انصاری پر نہایت ہی سنگین الزامات عائد کر تے ہوئے ان کے قبضے سے قابل اعتراض مواد و بشمول اسلامی لیٹریچر ضبط کر نے کا بھی دعوی کیا تھا ساتھ ہی ان کی سر گرمیوں پر بھی شکوک کا اظہار کیا تھا لیکن عدالت نے ثبوت و شواہد کی عدم موجودگی کے باعث بالآخیر ان مسلم نوجوانوں کو جبلپور کی مجسٹریٹ عدالت نے 6/ جولائی 2013ء کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کر دیا جس کے بعد ریاستی حکومت نے جبلپور سیشن عدالت میں اپیل داخل کی تھی جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑی۔گذشتہ دنوں جبل پور سیشن عدالت کے جج دیپک پانڈے نے ملزمین کے خلاف حکومت مدھیہ پردیش کی جانب سے داخل کردہ اپیل پر سماعت ہونے کے بعد اسے خارج کردیا اور سات صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں انہوں نے لکھا ہیکہ عدالت کو حکومت کی جانب سے داخل کردہ اپیل اور نچلی عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کے تعلق سے قانونی پہلو دستیاب نہیں ہوئے جس ؤأ؎؎کی وجہ سے اسٹیٹ کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی نے مسرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ مدھیہ پردیش میں قائم سیمی کے دیگر مقدمات پر بھی اثر انداز ہوگا کیونکہ زیادہ تر کیسوں میں ملزمین کو ممنوعہ تنظیم سیمی سے ہی پولیس نے وابستہ کرتے ہوئے ان پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ جمعیۃ علماء کے دفاعی وکلاء شری کنال دوبے، محمد پرویز اور محرم علی نے عدالت میں اپنی حتمی بحث کے دوران یہ دلیل دی کہ اسٹوڈٹنس اسلامک موومنٹ سے وابستگی کوئی جرم نہیں ہے نیز استغاثہ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ ملزمین کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اس سلسلے میں عدالت کو دفاعی وکلاء نے مزید بتایا تھاکہ ان نوجوانوں پر جو یو اے پی اے قانون کی مختلف دفعات عائد کی گئی ہے وہ  غیر قانونی طریقے سے لگائی گئی تھیں جس کے لیے وزارت داخلہ سے کوئی بھی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا نیز اسی کی بناء پر مجسٹریٹ عدالت نے تمام ملزمین کو مقدمہ سے باعز ت بری کردیا تھا۔گلزار اعظمی نے کہا کہ سیمی کے نام پر مدھیہ پردیش پولس نے ان جیسے درجنوں نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کرکے رکھا ہے اور ان کے مقدمات نہایت سست رفتاری سے جاری ہیں جسمیں تیزی لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور انہیں امید ہیکہ اس مقدمہ کی طرح دیگر مقدمات کا فیصلہ بھی انشاء اللہ ملزمین کے حق میں ہی آئے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

کورٹ نے راجیو سکسینہ کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے والے عدالت کے فیصلے پر روک لگائی

سپریم کورٹ نے آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے میں سرکاری گواہ راجیو سکسینہ کو دیگر بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر بدھ کو روک لگا دی

جانوروں پر حکومت کی مہربانی۔اب دوپہر 12تا3بجے کے دوران رہے گی کھیتی باڑی کی مشقت پر پابندی

کھیتی باڑی اور دیگر محنت و مشقت کے کاموں میں استعمال ہونے والے مویشیوں پر ریاستی حکومت نے بڑے مہربانی دکھاتے ہوئے ایک سرکیولر جاری کیا ہے کہ گرمی کے موسم میں تپتی دھوپ کے دوران دوپہر 12سے 3بجے تک کسان اپنے جانوروں کو کھیت جوتنے یا دوسرے مشقت کے کاموں میں استعمال نہیں کرسکیں گے۔

دُبئی میں 18 برس سے کم عمر بچوں کی ویزہ مفت؛ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک رہے گی سہولیت

 متحدہ عرب امارات میں سیاحتی سیزن کے دوران غیر مُلکی سیاحوں کے 18 برس سے کم عمر بچوں کے لیے مفت ویزے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اعلان فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈینٹٹی اینڈ سٹیزن شپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ دُبئی میں ہر سال سیاحتی سیزن کا آغاز 15 جولائی سے ہوتا ہے جو 15 ستمبر تک جاری ...