اسرائلی دہشت گردی عرب حکمرانوں کے لئے درس عبرت! ورنہ تمہارے عوام تمہیں دفن کرنے کے لئے دو گز زمین بھی نہیں دیں گے۔۔۔۔از:حکیم نازش احتشام اعظمی

Source: S.O. News Service | Published on 12th May 2021, 6:41 PM | اسپیشل رپورٹس |

سب سے پہلے ارض مقدس کی تازہ خبر ملاحظہ فرمائیں ،جہاں گزشتہ جمعہ کے روز یعنی 2 مئی 2021 سے اسرائیل کی دہشت گرد فوج نے کشتوں کے پشتے لگا رکھے ہیں اور قبلہ اول کے درو دیوار روزہ دار اور نہتے فلسطینیوں کے لہو سے لالہ زار بنے ہوئے ہیں۔ جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھوں میں ہے ابھی بھی نمرود کی الاد یہودیوں نے مسلمانوں کی خوں آشامی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ۔ الجزیر ہ، الاحرام اور القدس جیسے مؤقر خبریہ ادارے ظلم و ستم کی داستان دلخراش ویزولی اور تحریر شکل میں مستقل نشر کررہے ہیں۔ البتہ بدنام زمانہ اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا پیشاب پینے والا نشری ادارہ '' بی بی سی ،لند '' دیانت داری کے ساتھ خبریں شائع کرنے کی بجائے اسرائیل کے دفاع میں اپنی ساری توانائی لگائے ہوئے ہیں۔چناں 10 مئی 2021 کو بی بی سی اسرائیلی جارحیت ، بلکہ اس کی دہشت گردی کی جوخبر آنلائن شائع کی ہے ۔اسے ایک نظر دیکھ لیجئے۔

''اسرائیلی فوج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے بعد اسرائیل نے مرکزی شہر لد میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل کی طرف سینکڑوں راکٹ فائر کیے جبکہ اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔پیر سے شروع ہونے والے فریقین کے یہ حملے منگل کے دن اور رات کو بھی جاری رہے اور ان کارروائیوں میں اب تک دس بچوں سمیت 28 فلسطینی، دو اسرائیلی شہریوں سمیت 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسرائیلی حملوں میں 150 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔''

یہاں مسجد اقصی پراسرائیل کی دہشت گرد فوج اس وقت حملے اور مشین گنوں سے آگ برسارہی ہے ، جب لوگ افطار کے قبلہ اول میں جمع ہورہے ہیں۔عین افطار کے وقت بیت المقدس میں حماس کہاں سے اس کی کوئی تفصیل عالمی میڈیا میں نہیں ہے۔ یہ اطلاع صرف بی بی سی لندن کے غلیظ رپورٹروں کوہی ملی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی طرح بھی اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا دفاع کیا جائے۔

آج 12 مئی 2021کو عرب اخبارات کی اطلاعات کے مطابق ''غزہ میں قیامت صغریٰ برپا ہے، صیہونی فورسز کی وقفے وقفے سے وحشیانہ بمباری سے شہدا کی تعداد 36تک پہنچ گئی ہے، جس میں 13 بچے بھی شامل ہیں ،جبکہ دو روز کے دوران 700 سے زائد نہتے فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں ۔ایک دن میں سفاک اسرائیل کے اسی جنگی طیاروں نے غزہ پر کئی بم برسائے، بارہ منزلہ رہائشی عمارت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔اسپتال شہیدوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں، عورتوں بچوں سمیت کئی فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ 100سے زائد زخمی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ پر حملوں میں اضافے کا حکم دے دیا ہے۔وحشیانہ بمباری میں فلسطینیوں کے گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ عورتیں اور بچے پناہ کی تلاش میں غزہ کی گلیوں میں ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے پھررہے ہیں۔ شہدا کی تدفین کے دوران غمناک مناظر سامنے آئے، معصوم بچہ اپنوں کی جدائی برداشت نہ کرسکا، بھاگ کر بھائی اور والد کے جنازے کے پاس جا پہنچا، بچے کی بے بسی نے دیکھنے والوں کو رلا دیا۔ 11 سالہ بچے کے جنازے نے بھی کہرام مچا دیا۔فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیلی مظالم کا بھرپور جواب دیا ہے مگر عسکری آلات کی قلت کی وجہ سے ان کے دفاعی حملے کام نہیں کررہے ہیں۔مگر حسب قوت انہوں نے اسرائیلی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایک دن میں 300سے زائد راکٹ اسرائیلی شہروں پر برسائے ہیں، حماس کے راکٹ حملوں سے بزدل و سنگدل یہودیوں میں افراتفری پھیل گئی ہے۔اسرائیل کے شہر اشکیلون میں فلسطینیوں کے میزائل حملے میں یہودی آبادکار جہنم رسیدہوگئے ،جبکہ کئی زخمی ہیں۔ تل ابیب میں بھی اسرائیلی عمار ت پر فلسطینی میزائل لگا،سفاک دہشت گرد بنجامن نیتن یاہو کے خوف کا یہ عالم ہے کہ اس نے تل ابیب ایئر پورٹ کو بند کر دیاہے۔شہر لد میں اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ جس کے بعد ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے ہیں، اسرائیلی پولیس کی گاڑی جلا دی ہے۔ شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے ہیں۔دریں اثنا مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں اسرائیل کا فلسطینیوں پر تشدد جاری ہے۔ دو روز میں زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کرگئی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر حملے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل سے غیر قانونی طاقت کا استعمال فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ نے غزہ پراسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔''

قابل صد مبارکباد ہیں فلسطین کے جیالے اور صلاح الدین ایوبی ؒ کے ورثا جو بے سرو سامانی کے باوجود قبلۂ اول کے تحفظ کی خاطر مسلسل ڈٹے ہوئے اور یہودیوں کے مسجدالاقصیٰ میں مارچ کے منصوبے پر پانی پھیر نے کے لئے فلسطینیوں نے رات مسجد اقصیٰ میں گزاری ،تاکہ انتہاء پسند یہودیوں کو داخلے سے روکا جاسکے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے یہودیوں کے مسجد میں داخلہ کیلئے راستہ صاف کرنے کا حکم دیا۔ جس پر ہزاروں فوجیوں نے پیر کی صبح قبلۂ اول پر دھاوا بول دیا اور بے بس فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ نمازیوں پر ربڑ کی کوٹنگ والی گولیاں برسائیں‘، شیلنگ کی، بم بھی پھینکے اور انتہاء پسند یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں آگ لگا دی۔ ان حملوں میں زخمی ہونے والے چھ سو سے زائد افراد میں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اسکے باوجود نہتے فلسطینی ظالم اسرائیلی فوجوں کے آگے عزم و جرأت کی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں اور اسرائیلی مظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے قابض فورسز پر پتھرائو کرتے ہوئے آخری دم تک قبلۂ اول کے تحفظ کا اعلان کیاہے۔

دریں اثنا اسرائیلی حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملے کے مترادف قرار دیا ،جبکہ اسرائیل کے اس سفاکانہ اقدام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس بھی خاموش نہ رہ سکے، جنہوں نے اسرائیلی حکام کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ تمام قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف کردار ادا کریں۔ انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انہدام اور بے دخلی کے عمل کو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں روک دے۔ اسی طرح اسرائیلی فوجیوں کی اس جنونیت کا امریکہ، روس، یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے بعض سفیروں نے بھی نوٹس لیا اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جس سے مسلمانوں کے مقدس ماہ کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جائے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ عالم عرب کے بدوی حکمرانوں کو سانپ سونگھا ہوا اور ابھی تک ان کی زبان سے کسی قسم کی مضبوط آواز نہیں نکل رہی ہے ۔شاید اس مجرمانہ خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے خلاف ہونٹ کولیں گے تو ان کے امریکی اور صہیونی آقا ان کا پچھواڑا گیلا کردیں گے۔ مگر عوام کا جوش و جذبہ ،غم و غصہ اور ان کی بے قرار اس کا پتہ دے رہی ہے کہ امریکہ کی غلامی میں مست ان بدوی حکمرانوں کی چڈیاں کہیں ان کے عوام ہی نہ گیلی کردیں۔ ظالم کا ساتھ یا اس کے ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کا ساتھ دینے جیسا ہی ہے۔ لہذا یادر کھئے !غیور عوام اب جلد ہی اٹھ کھڑے ہوں گے ،پھر ان بدوی عیاشوں کا جینا حرام ہوجائے گا۔ تاریخ کی آنکھوں نے ایسے سینکڑوں عوامی انقلابات دیکھے ہیں ،لہذا عرب کے بدو حکمرانوں کو وقت سے پہلے ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو: ’میڈیکل ٹیررزم ‘ کا ٹائٹل دینے والی بی جے پی اب خاموش کیوں ہے ؟:کانگریس کا سوال

بیڈ بلاکنگ دھندے کو ’’میڈیکل ٹیررزم ‘‘ کا نیا ٹائٹل دینے والی بی جےپی اب خاموش  کیوں ہے، اس سلسلے میں کوئی زبان  کیوں نہیں کھول رہا ہے، یہ سوال   ریاستی کانگریس نے بی جے پی سے کرتے ہوئے  جواب مانگا ہے۔

فائیوجی کا ریڈئیشن نقصان دہ نہیں ، بلکہ ٹیکنالوجی کا بےجا استعمال نقصان دہ: فائیوجی کے ماہر انجنئیر محمد سلیم نے فراہم کیں معلومات

فائیو جی ٹکنالوجی ان دنوں عوام کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ کورونا وبا کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے لوگوں نے اس کے تار 5جی ٹکنالوجی سے جوڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔یہ سارا معاملہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر محمد سلیم انجینئر سے  مشرف علی کی بات چیت کا ...

کرونا ویکسین اور افواہوں کا بازار ؛ افسوسناک بات یہ ہے کہ بے بنیاد افواہیں مسلم حلقوں میں زیادہ اڑائی جا رہی ہیں ۔ ۔۔۔ آز: سہیل انجم

مئی کا مہینہ ہندوستان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ اس مہینے میں کرونا کی دوسری لہر نے ایسی تباہی مچائی کہ ہر شخص آہ و بکا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اپریل اور مئی کے مہینے میں کرونا سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ نہ تو شمشانوں میں چتا جلانے کی جگہ تھی اور نہ ہی قبرستانوں ...

رکن اسمبلی نے اپنے ترقیاتی فنڈ سے بھٹکل اور ہوناور سرکاری اسپتال کے لئے کیا آکسیجن سہولت والی دو ایمبولنس کا انتظام

بھٹکل ۔ہوناور اسمبلی حلقہ کے  ایم ایل اے سنیل نائک نے اپنے  حلقہ کے دو تعلقہ اسپتالوں کے لئے آکسیجن والی سہولت کا انتظام کیا  جس سے کووڈ کے اس وبائی دور میں   عوام کو فوری طور پر  ایمبولنس  کی مدد سے اسپتال پہنچنے میں آسانی ہوگی۔

ملت کے کروڑ وں کے اثاثے ہیں مگر،غریب مسلمان گزربسر کیلئے ز یورات گروی رکھنے پر مجبور۔ مسلمانوں کی اکثریت آمدنی سے بالکل محروم۔بلا سودی قرض کی فراہمی کے ذریعہ پریشان حال ملت کی مدد ممکن

 کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن نے سارے ملک میں معاشی بدحالی پیدا کردی ہے۔ ملک کے تمام ہی طبقات معاشی پریشانیوں اور مسائل کا شکار ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اس لاک ڈاؤن میں بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔