شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش ؛ کیا آج کا پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 10th November 2019, 7:38 PM | عالمی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

 اسلام آباد  10نومبر (آئی این ایس انڈیا) پاکستان قائم ہونے کے 72 سال بعد آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اصل میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔انہیں مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے تاج برطانیہ کی رخصتی اور دو آزاد مملکتوں کے قیام سے بہت پہلے علامہ اقبال نے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطبے میں اس وقت جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کیا تھا جب کسی نے اس پہلو پر سوچا بھی نہیں تھا۔

علامہ اقبال کی شاعری کے مختلف ادوار میں ان کی سوچ مختلف رہی ہے۔ کہیں وطنیت ان پر غالب ہے تو کہیں اسلام کی نشاۃثانیہ کی خواہش کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں ان کے کلام میں لبرل ازم ہے تو کہیں اجتماعیت کے فلسفے سے بھی متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے جس مملکت کا خواب دیکھا تھا، اس میں وہ کیسا نظام چاہتے تھے، اس پر بحث آج بھی جاری ہے۔9 نومبر علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش ہے۔ اگرچہ ان کی تاریخ ولادت پر تاریخ دانوں میں اختلافات ہیں، لیکن پاکستان میں سرکاری طور پر 9 نومبر 1877 کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کیا جاتا ہے۔اقبال کے آباؤ اجداد لگ بھگ اٹھارویں صدی کے آخر میں کشمیر سے نقل مکانی کر کے سیالکوٹ آئے تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی اس کے بعد لاہور آ گئے جہاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔ یونیورسٹی میں ان کے استاد ٹی ڈبلیو آرنلڈ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان کی علمی اور فکری زندگی کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

زمانہ طالب علمی میں ہی انہوں نے شاعری شروع کر دی تھی اور وہ مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی شاعری کا منفرد پہلو اور گہرائی لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگی۔ایم اے کرنے کے بعد علامہ اقبال نے کچھ عرصہ اورینٹل کالج میں ملازمت کی اور گورنمنٹ کالج میں انگریزی اور فلسفہ بھی پڑھایا جس کے بعد وہ یورپ چلے گئے، جہاں میونخ یونیورسٹی سے انہوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ لندن آگئے اور وہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ قانون پڑھنے کا غالباً مقصد یہ تھا کہ انہوں نے وکالت کا آزادانہ پیشہ اختیار کرنے کے لیے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔کچھ عرصہ لاہور میں تعلیم و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد علامہ اقبال نے ملازمت کو خیر باد کہہ کر وکالت شروع کر دی۔

اس دوران عالمی سطح پر آنے والی تبدیلیوں نے جنوبی ایشیا کے حالات کو بھی متاثر کیا اور آزادی کی تحریکیں زور پکڑنے لگیں۔اقبال نے بھی ان تبدیلیو ں کے اثرات کو قبول کیا اور انہیں احساس ہوا کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے دبایا جا رہا ہے۔ وہ جو کچھ محسوس کر رہے تھے، اس کی جھلک شعروں میں نمایاں ہوتی گئی۔1926 میں علامہ اقبال پنجاب اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے۔ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ہندوستان کی تقسیم دو آزاد مملکتوں میں ہوئی اور مسلمانوں کے لیے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کا خواب دیکھنے والی آنکھ یہ دن نہیں دیکھ سکی، پاکستان بننے سے چند سال پہلے 21 اپریل 1938 میں علامہ اقبال کا انتقال ہو گیا۔اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی۔ ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری متعدد زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

امریکا کا بحرالکاہل میں ممنوع بیلسٹک میزائل کا تجربہ

پینٹاگون نے امریکا اور روس کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کے تحت ممنوع قرار دیے گئے میزائل کا تجربہ کرلیا۔مذکورہ معاہدہ گزشتہ برس ترک کردیا گیا تھا، تاہم اس پر اسلحے کی روک تھام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے ماسکو کے ساتھ اسلحے کی غیر ضروری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ڈان اخبار ...

 افغان فوجی کی اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ، 23 ہلاک

افغانستان میں کم از کم ایک فوجی اہلکار نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 23 فوجی مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ممکنہ طور پر طالبان سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی نے انجام دی۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق فوج میں بھرتی طالبان کے ایک گروہ ...

  لیبیا فوج کا طرابلس کے قریب ترکی کا جنگی ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

لیبیا کی قومی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں طرابلس کے قریب ترکی کا ایک فوجی ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیبیائی فوج کے حامی سوشل میڈیا صفحات پر گردش کرنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی ایک ڈرون طیارہ عین زارہ کے مقام پر مار گرایا گیا۔

شاہ سلمان کے حکم پر کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن کمیشن کا قیام

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کے روز تین شاہی فرامین جاری کیے جن میں مملکت میں مالیاتی اور انتظامی بدعنوانی کے انسداد سے متعلق تنظیمی اور ہیئتی اسلوب کار کی منظوری دی گئی۔ ان فرامین کے تحت مملکت میں کنٹرول اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ اور ایڈمنسٹریٹو ...

 عراق مظاہروں میں سیکڑوں ہلاکتیں، سلامتی کونسل کا تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف پرتشدد واقعات اور کریک ڈاؤن کے حوالے سے تحقیقات کرائیں۔ اس سے قبل عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں جاری عوامی مظاہروں اور احتجاج میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ...

نیوزی لینڈ آتش فشاں کا دھماکہ: چھ لاشیں برآمد، ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوئی

 نیوزی لینڈ کی فوجی ٹیم نے سیاحوں میں مقبول وہائٹ جزیرے پر حال ہی میں ہوئے آتش فشاں کے دھماکے میں مارے گئے مزید 6 لوگوں کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اس قدرتی حادثہ میں مارے گئے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔

بی جے پی حکمرانی کا زوال: 29 سے گھٹ کر 10 ریاستوں تک محدود ... آز: م. افضل

بی جے پی کے جولوگ کل تک کانگریس مکت بھارت کا نعرہ چیخ چیخ کر لگارہے تھے اب خاموش ہیں شایداس لئے کہ اب بی جے پی کا ہی دائرہ سمٹنے لگاہے، این ڈی اے بکھررہا ہے ،مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی بھی کھلتی جارہی ہے اور ایک ایک کرکے ریاستیں اس کی حکمرانی کی قید سے آزادہوتی جارہی ہیں ، تازہ ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

6 دسمبر، جس نے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔از: ظفر آغا

’دسمبر 6‘ ہندوستانی سیاست کا وہ سنگ میل ہے جس نے سیاست کا نقشہ ہی پلٹ دیا۔ اسی روز 1992 کو ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر کے دور کی ایک چھوٹی سی مسجد منہدم ہوئی اور بس سمجھیے کہ اس روز ہندوستانی آئین میں سیندھ لگ گئی۔