مرکزی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کی وجہ سے محصولات وصولی میں کمی آئی: اشوک گہلوت

Source: S.O. News Service | Published on 7th November 2019, 11:32 AM | ملکی خبریں |

جےپور،7؍نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی)  راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ ملک کی کمزور ہوتی معیشت، اشیاء اور خدمات (جی ایس ٹی) سمیت مرکزی حکومت کے دیگر غیرذمہ دارانہ فیصلوں کی وجہ سے محصولات میں کمی آئی ہے اور جس کا اثر راجستھان پر بھی پڑا ہے۔ گہلوت نے گزشتہ رات وزیراعلیٰ کے دفتر میں مالیاتی محکمہ کی جائزہ میٹنگ کے بعد ٹوئٹ کرکے مذکورہ بالا اظہار خیال کیا۔

گہلوت نے کہا کہ مالی سال 2018۔19 کے لیے راجستھان کو مرکز سے تقریباً 5 ہزار 600 کروڑ روپیے کم ملے تھے اور رواں مالی سال میں تقریباً 7 ہزار 348 کروڑ روپیے کم ملنے کے امکانات ہیں۔ لہٰذا اب اس کے پیش نظر کام کی ترجیحات نئے سرے سے طے کرنا ضروری ہے۔

رواں مالی سال میں ریاست کونہ صرف مرکزی ٹیکس سے ملنے والی رقم میں تقریباً 4 ہزار 172 کروڑ روپیے بلکہ مختلف مرکزی تعاون سے چلنے والی اسکیموں کے گرانٹ میں تقریباً 3 ہزار 176 کروڑ روپیے کی تخفیف ممکن ہے۔

انہوں نےمیٹنگ میں افسران کو ہدایات دیں کہ مرکز سے حاصل ہونے والے ٹیکسوں کی رقم، گرانٹ میں کمی کو دیکھتے ہوئے ریاست میں ترقیاتی کاموں کی ترجیحات پر دوبارہ غوروخوض کیا جائے اور ریاست کے اپنے وسائل سے محصولات وصولی بڑھانے پر بھی زور دیا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی-شاہ کی قیادت کی وجہ سے ایودھیا پر ایسا فیصلہ آیا، یوگا گرو بابا رام دیو نے نوے فیصد مسلمانوں کے آباء واجداد کو ہندو بتایا

 9 نومبر کو ایودھیا معاملے میں فیصلہ آنے کے بعدجہاں پہلے ہرطرف’’ امن اورکسی کی جیت نہیں ‘‘کے دعوے اوربیانات دیے جارہے تھے،اب حسب ِ توقع اشتعال انگیزبیانات آنے شروع ہوگئے ہیں۔جس سے سوال آتاہے کہ کیااپنے لیڈروں کوزبان قابورکھنے کی نصیحت بھی جملہ تونہیں تھی؟

لکھنؤ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ، بابری مسجد معاملہ کے فریق اقبال انصاری ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ اتوار 17؍ نومبر کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد ہوگی، اس میٹنگ میں ملک بھر سے بورڈ کے ایکٹیو اراکین شامل ہونے کےلیے وہاں پہنچ چکے ہیں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے میٹنگ شروع ہوگی۔

کشمیر: خراب موسمی حالات، جوتوں کی قیمتیں آسمان پر

 وادی کشمیر میں وقت سے پہلے ہی موسم کی بے رخی نے جہاں اہلیان وادی کو درپیش مصائب ومسائل کو دو بھر کردیا وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جوتے فروشوں نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا 104 واں دن، ہنوز غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری

وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز لگاتار 104 ویں دن بھی غیر یقینی صورتحال کے بیچ معمولات زندگی پٹری پر آتے ہوئے نظر آئے تاہم بازار صبح اور شام کے وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر اکا دکا سومو اور منی گاڑیاں چلتی رہیں لیکن نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ...