عراق میں نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس ہنگاموں کی نذر۔ بھگدڑ اور افراتفری کے درمیان اسپیکر کا انتخاب

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2022, 12:14 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بغداد، 11؍ جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی)  عراق میں  خداخدا کرکے نئی پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوئی لیکن اس کے پہلے اجلاس کا پہلا ہی دن ہنگاموں کی نذر ہو گیا۔ اس دوران  ایوان میں بھگدڑ جیسا ماحول تھا۔ اسی افراتفر ی کے دوران نئے اسپیکر کا انتخاب عمل میں آیا۔  یاد رہے کہ عراق میں عام انتخابات کو ۳؍ ماہ ہو چکے ہیں۔ لیکن نئے عوامی نمائندوں کو ایوان پہنچ کر  اپنے آئینی فرائض انجام دینے کی راہ میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر اتوار کو اس کا پہلا اجلاس منعقد کیا گیا۔   

   پہلے اجلاس میں اسپیکر کا انتخاب ہونا تھا جس کیلئے ووٹنگ کی جانی تھی۔ لیکن اجلاس کے شروع ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی  اور بھگدڑ  جیسا ماحول پیدا ہو گیا۔اور اسی افراتفری کے دوران  محمدالحلبوسی کو ایوان کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ حالانکہ اس کیلئے باقاعدہ ووٹنگ ہوئی  لیکن ہنگاموں کے درمیان ۔محمدالحلبوسی اور محمود المشہدانی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کیلئے پارلیمان کے ۲۲۸؍ اراکین نے ووٹنگ  میں حصہ لیا۔ایوان نمائندگان (پارلیمان) کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الحلبوسی کو ان کے حریف مشہدانی کے ۱۴؍کے مقابلے میں ۲۰۰؍ ووٹ ملے ہیں جبکہ ۱۴؍ووٹ مسترد کردیئے گئے ہیں۔اس افتتاحی اجلاس کی صدارت  پہلے محمود المشہدانی  کرنے والے تھے کیونکہ وہ ایوا ن میں سب سے عمررسیدہ ہیں، لیکن ان کی طبیعت  اچانک صحت بگڑ جانے کی وجہ سے سب سے  ان کے بعدسب سےعمررسیدہ رکن پارلیمان خالد الدراجی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ ایوان کی صدارت ہی کے معاملے میں بات بگڑگئی اور ایوان میں  افراتفری مچ گئی۔ خالد الدراجی نے افراتفری اور بھگدڑ کے بعد ا جلاس کو  عا رضی طورپرملتوی کر دیا۔ بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق محمود مشہدانی پر بعض اراکین  نے مبیّنہ طور پرحملہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑی تھی۔

 اب پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی۔  یاد رہے کہ عراقی پارلیمنٹ میں کسی بھی  پارٹی کو اتنی اکثریت حاصل نہیں ہے جو کہ  اپنے دم پر وزیراعظم منتخب کر سکے۔ ۳۲۹؍ اراکین والی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ سیٹیں  مذہبی پیشوا مقتدیٰ الصدرکی پارٹی کے پاس ہے۔ انہیں ۷۳؍ سیٹٰں حاصل ہوئی ہیں۔اور امکان ہے کہ  انہیں دیگر کئی گروہوں کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن اس کیلئے انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ کیونکہ ان میں سے کئی پارٹیاں انتخابی نتائج کو مسترد کرچکی ہیں اور اب جبکہ وہ کسی طرح ایوان کی کارروائی  میں شامل ہوئی ہیں تو  حکومت سازی کے عمل میں اپنی بات منوانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔عراق کے سب سے بااثر سیاسی رہنماؤں میں سے ایک مقتدیٰ الصدر ۱۰؍اکتوبر کو منعقدہ انتخابات میں سب سے بڑے فاتح رہے تھے۔ واضح رہے کہ  مقتدیٰ الصدر کا شمار امریکہ مخالف لیڈروں میں ہوتا ہے ساتھ ہی وہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بھی خلاف تھے۔ امریکی  فوجیوں پر حملوں میں ان کی تنظیم کے ملوث ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں۔ 

 ان کے حریف ایران کے حامی  گروہ ہیں جو اپنی دو تہائی نشستوں سے محروم ہو گئے تھے اور یہ ان کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ یا د رہے کہ اکتوبر میں انتخابات کے نتائج آنے کے بعد  مسلح گروہوں کے حامیوں نے دو ماہ سے زیادہ عرصے تک بغداد کے گرین زون کے ارد گرد خیمے لگائے اور دھرنا دیا تھا۔انھوں نے عراق کی اعلیٰ عدالت میں انتخابی نتائج کے خلاف اپیل بھی دائرکی تھی۔لیکن عراق کی عدالتِ عظمیٰ نے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں  کی جانب سے دائر کردہ اس اپیل کو مسترد کردیا تھا اور گزشتہ ماہ کے آخر میں انتخابی نتائج کی توثیق کرتے ہوئے حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف کردیا تھا۔

  اس کے بعد ان سیاسی پارٹیوں کے درمیان  میٹنگوں کا ایک طویل دور چلا جس کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق  ہوا۔  کسی طرح اتوار کو یہ کارروائی شروع ہوئی۔ یاد رہے کہ ۲۰۰۳ء  میں امریکہ کے حملے کے بعد سے عراق انتشار کا شکار ہے۔  یہاں اب تک جتنی حکومتیں آئیں انہیں امریکہ کی کٹھ پتلی قرار دیا گیا۔ گزشتہ ۲؍ سال سے عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے تھے جس میں امریکی فوجوں کی واپسی اور کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ بالآخر یہ حکام نے ان مطالبوں پر کان دھرے اور  دونوں  ہی باتوں کو تسلیم کیا گیا۔ امریکہ نے اپنی فوجیں  واپس بلانے کا اعلان کیا تو دوسری طرف   الیکشن بھی کروائے گئے لیکن ان انتخابات میں صرف ۴۴؍ فیصد ووٹروں نے حصہ لیا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

سعودی حکومت کا ایسا اصول جس کے سبب 10 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں نے ملازمت چھوڑ دی

  مملکت سعودی عرب میں 2018 کے آغاز سے 2021 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 45 ماہ کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ آئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق ملازمین کی یہ تعداد ملک میں غیر ملکی ملازمین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہے۔

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

امیکرون کے بعد مزید نئے ویرینٹ کا امکان: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض ختم نہیں ہوا ہے اور اومیکرون کے بعد بھی نئی شکلیں سامنے آنے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ دلائل دیے جا رہے ہیں کہ ...

’کورونا سے شفایاب ہونے کے بعد بھی کئی لوگوں کو مہینوں تک آرام نہیں!‘ 40 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا

دنیا بھر میں کورونا سے شفایاب ہونے والے افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے کے بعد بھی مہینوں تک لوگوں کو آرام نہیں ملتا اور وہ کووڈ کے بعد کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نومبر 2021 میں گئی تحقیق کے بعد کہا گیا کہ دنیا ...

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -

یوپی میں سردی کا ستم جاری، بارش کے آثار

 اترپردیش میں گھنے کہرے، گلن بھری ٹھنڈ اور شیت لہر سے بدھ کو بھی معمولات زندگی متاثر رہی۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 72گھنٹوں میں ریاست کے کئی مقامات پر بارش کی پیشین گوئی کی ہے۔ ریاست کے کئی علاقے دیر رات سے گھنے کہرے کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔

کاروار سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت اترپردیش انتخابات کے لئے کانگریس قانونی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے صدر مقرر

ضلع اُترکنڑا کے کاروار سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ دیو دت کامت کو اتر پردیش انتخابات میں کانگریس پارٹی کی قانونی کورآرڈی نیشن کمیٹی کا صدر بنایا گیا ہے

ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس رنویر پر زوردار دھماکہ، 3 ہلاک، متعدد زخمی

ممبئی  میں ہندوستانی بحریہ کے ڈاکیارڈ پر منگل کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا ،یہاں جنگی جہاز آئی این ایس رنویر پر ایک زور دار دھماکہ ہواجس میں ہندوستانی بحریہ کے تین فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق دھماکہ آئی این ایس رنویر کے اندرونی ...

بھٹکل میونسپالٹی کی کارپرعائد کیا گیا 500 روپیہ جرمانہ؛ کار کے اسٹیکرس نکال دئے گئے

بھٹکل ٹاون میونسپالٹی پہنچ کر اسسٹنٹ آر ٹی او نے میونسپالٹی کی کار کے تین اسٹیکرس سمیت کرناٹک سرکار کا ایمبولم لگا ہوا اسٹیکر بھی نکال دیا اور اس تعلق سے میونسپالٹی پر 500 روپیوں کا جرمانہ بھی عائد کردیا، واردات آج بدھ صبح قریب دس بجے پیش آئی ہے۔