ایران: سیاحت اور صنعت کے وزراء کرونا سے متاثر، پاسداران انقلاب کے 5 ارکان فوت

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 12th March 2020, 8:42 PM | عالمی خبریں |

تہران،12مارچ(آئی این ایس انڈیا)ایران میں حکومتی ذمے داران اور ارکان پارلیمنٹ میں کرونا وائرس کے انکشاف کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں بدھ کے روز اعلان کیا گیا کہ وزیر صنعت رضا رحمانی اور وزیر سیاحت علی اصغر منسان بھی اس مہلک وائرس کے متاثرین کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ''فارس'' نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ کے دو ارکان کووید – 19 وائرس (کرونا) میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب مذکورہ نیوز ایجنسی نے صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ جہانگیری کی صحت کے حوالے سے کئی روز سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ حالیہ عرصے میں منعقد ہونے والے اعلی سطح کے اجلاسوں کی تصاویر میں جہانگیری کہیں نظر نہیں آئے۔مختلف رپورٹوں کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے 20 سے زیادہ ارکان کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

بدھ کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیر جنرل رمضان شریف نے اعلان کیا کہ کرونا وائرس کے سبب پاسداران کے 5 ارکان موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے مذکورہ عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران کے ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ اہل کار اس وقت کرونا وائرس کے انسداد کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ایران میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 354 ہوگئی ہے۔ یہ تعداد گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 63 افراد کے فوت ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران میں اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد ایک دن میں واقع ہونے والی یہ سب سے زیادہ اموات ہیں۔ ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لیبارٹری کے نئے نتائج کی بنیاد پر کووِڈ-19 کے 958 نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 9000 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 2959 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایران میں پاسداران انقلاب کے سیاسی محکمے کے سابق ذمے دار فرزاد تذری کی کرونا وائرس کے سبب موت کا اعلان کیا گیا تھا۔ تذری نے ماضی میں پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے ادارے میں بھی کام کیا تھا۔ وہ جنوب مشرقی ایران میں سیستان اور بلوچستان کے صوبوں میں سرگرم رہا۔دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز حکومتی اجلاس میں کہا کہ کرونا کے بحران کا مقابلہ کرنے میں تمام ذمے داران کی جانب سے تعاون کیا جا رہا ہے۔ روحانی کے مطابق شہروں پر عائد طبی قیود عمل درامد کے وقت مزید مسائل کا باعث بن رہی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی