کوئی صورت نظر نہیں آتی !

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th November 2016, 4:05 PM | مہمان اداریہ |

کوئی اور بحران ہوتا تو ممکن تھا کہ عوام پر اتنا اثر انداز نہ ہوتا جتنا کہ نوٹوں کا بحران اثر انداز ہورہا ہے۔ جب عوام کے ہاتھوں میں پیسہ ہی نہیں ہوگا تو کس بازار میں رونق رہے گی اور کون سی انڈسٹری چلے گی ؟ ہمارے خیال میں مودی حکومت نے اثرات اور نتائج پر غور کئے بغیر اس منصوبے کو نافذ کردیا ہے۔ لیکن اب جبکہ عوامی پریشانیاں اظہر من الشتمس ہیں، وزیر اعظم ، عوامی مسائل اور مصائب اور ان سے پیدا شدہ بے چینی کو سمجھے بغیر بیانات دے رہے ہیں۔ 

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے اپنی حکومت اور پارٹی کے اراکین سے کہا ہے کہ وہ اپنے دفاع کی کوشش نہ کریں بلکہ خود کو اس اعتماد کے ساتھ پیش کریں کہ ’’نوٹ بندی ‘‘ بہتری مستقبل کیلئے ہے ۔ بہتر مستقبل کی اُمید کس برتے پر کی جائے یہ اُنہوں نے نہیں بتایا لیکن اظہار اعتماد کا حربہ وہ خود بھی آز مارہے ہیں۔ اُن کا یہ جملہ کہ ’’غریب چین کی نیند سورہا ہے او امیر پریشان ہے، نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہے‘‘ زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر خالی خولی اعتماد ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت ملک میں کوئی غریب یا عام آدمی ایسا نہیں جو چین کی نیند سورہا ہو۔ دکاندار پریشان گاہک پریشان، بینک ملازمین پریشان بینک صارفین پریشان ، مریض پریشان اسپتال کا عملہ پریشان وغیرہ کسی کو راحت نہیں ہے۔ ہر شخص حکومت کے فیصلے کی مذمت ہی کررہا ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم نجانے کس رپورٹ کی بنیاد پر غریب آدمی کو مطمئن اور امیر کو فکر مندر قرار دے رہے ہیں۔ ’’کڑک چائے‘‘ غریبوں کو پسند ضرور ہے لیکن نوٹ بندی کا ’’کڑک ‘‘ فیصلہ ان کے گلے کے نیچے نہیں اُتر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے وزیر اعظم کسی اور ملک کی کہانی سنارہے ہوں۔ ہندوستان کی کہانی تو ایسی نہیں ہے۔ یہاں تو اے ٹی ایم اور بینکوں کی طویل قطاریں ، جو پانچوں چھٹے دن بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں، اُس داستان غم کی طرح ہے جس میں نئے نئے موڑ روزانہ آرہے ہیں اور جو ختم ہونے کے قریب بھی نہیں پہنچی ہے۔ 

پریشانی اور فکر مندی میں اضافہ اس لئے بھی ہورہا ہے کہ نوٹ بحران سے پیدا شدہ مسائل کے ختم ہونے کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اے ٹی ایم کی قطاریں ابھی کئی ہفتے معمول بنی رہیں گی کیونکہ جاری شدہ نئے نوٹوں کیلئے اے ٹی ایم مشینوں میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ ملک بھر میں 2؍ لاکھ 2؍ ہزار اے ٹی ایم ہیں جہاں کے 4؍ لاکھ ٹرے اور کیسیٹ بدلنے ضروری ہیں کیونکہ 5؍ سو اور 2؍ ہزار کے نئے نوٹ سائز میں سابقہ نوٹوں سے مختلف ہیں۔ اے ٹی ایم میں نصب مشینوں میں وہ ٹرے اور کیسیٹ نہیں ہیں جو نئے نوٹوں کے مواقف ہوں۔ کب ان مشینوں میں یہ انتظام ہوگا یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ اس عمل کی انجام دی کیلئے صرف 3؍ ہزار انجینئر ہیں۔ ہرانجینئر رات دن مصروف کار رہے تب بھی آئندہ کئی ماہ تک اے ٹی ایم مشینوں کا نئی نوٹوں کے موافق ہوجانا ممکن نہیں۔ یہ مشینیں کسی فیکٹری میں رکھی ہوئی نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ انجینئروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا پڑیگا۔ مختصر یہ کہ پریشانی کے دن محدود نہیں لا محدود ہیں ۔ اس دوران عام آدمی تو ہلکان ہوگا ہی، مارکیٹس کا چہرا بھی اُترا ہوا ملے گا ، فیکٹریوں کی نبض بھی سست ہوجائیگی ، لین دین اور خرید و فروخت کی محفلیں بھی ویران رہیں گی ، سماجی تقریبات کی رونقیں بھی ماند پڑ جائینگی اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہوگا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ عوامی دشواریوں کو سمجھے بغیر قطعی یک رُخے انداز میں کیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت کو اس کی غلطی کا احساس دلایا جائے۔ دیکھنا ہوگا کہ آج پارلیمنٹ میں اپوزیشن کتنے دم خم کا مظاہر ہ کرتی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

اے پی سی آر ۔ حق کی لڑائی میں نیا کاروان ۔۔۔۔ ازقلم: مدثر احمد

ہندوستان میں جمہوری نظام اور مسلمانوں کے مسائل پر قانونی کارروائی کرنے والی تین تنظیمیں ہیں ان میں جمیعت العلماء ہند ، اے پی سی آر اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کے قانونی مسائل پر لڑائی لڑنے کے پابند ہیں ، ان میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں جمیعت العلماء ہند اور ...

اس بار مسلمان ناکام کیوں؟ کہاں ہے1985کا پرسنل لاء بورڈ،جس کی حکمت عملی نے حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ؟ (روزنامہ سالار کی خصوصی رپورٹ)

مودی حکومت کی ہٹ دھرمی، سیاسی چال بازی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سیاسی غیرشعوری، مسلم تنظیموں کی غیر دانشمندی اور پورے مسلمانوں کی نااہلی و آپسی نااتفاقی کی وجہ سے ایک نشست میں تین طلاق کا بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا-اب اسے صدر ہند کے پاس رسمی طور پر بھیجاجائے گا جہاں ...

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

گاندھی سے گوڈسے کی طرف پھسلتے ہوئے انتخابی نتائج   ۔۔۔۔    اداریہ: کنڑاروزنامہ ’وارتا بھارتی‘  

لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے  اور بی جے پی کو تاریخ سازکامیابی حاصل ہونے پر مینگلور اور بنگلور سے ایک ساتھ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ وارتھا بھارتی نے  بے باک  اداریہ لکھا ہے، جس کا اُردو ترجمہ بھٹکل کے معروف صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے کیا ہے،  ساحل ا ٓن لائن ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...