کورونا وائرس کے بہانے بی جے پی حکومت فرقہ وارانہ ایجنڈے پر واپس

Source: S.O. News Service | Published on 7th April 2020, 11:54 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،7؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)عالمی وباء کورونا وائرس سے ہندوستان میں شہریوں کے متاثر ہونے اور دیگر متاثرہ ممالک کے مقابل کمتر اموات درج ہونے کا سلسلہ آج جاری رہا لیکن ایک تبدیلی نوٹ کی گئی ۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی زیرقیادت مرکزی اور بعض ریاستی حکومتوں کو COVID-19 کے مخفف کی شکل کے نام والے مرض کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا ہے اور وہ اس کی آڑ میں اپنے پرانے سیاسی ایجنڈے کی طرف چل پڑے ہیں ۔

اُس کی شروعات تبلیغی جماعت کے نظام الدین مرکز دہلی میں 13 تا 15 مارچ کے اجتماع کو بکھیڑا بناتے ہوئے شروع کی جاچکی ہے اور اب اُسی عنوان کے تحت کورونا وائرس اور جاریہ لاک ڈاؤن کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازش اور اقدامات شروع ہوچکے ہیں۔

خبررساں ایجنسیاں بھی جن میں سرکاری ادارے شامل ہیں، کورونا وائرس کی خبروں میں خصوصیت سے تبلیغی جماعت کے اجتماع کا ذکر کرتے ہوئے متاثرین کو اُس سے جوڑ رہے ہیں ۔ وہیں اُترپردیش ، آسام اور اُترکھنڈ میں تبلیغی جماعت کے ارکان کو اس طرح تلاش کیا جارہا ہے جیسے وہ کوئی دہشت گردانہ حملہ کرکے روپوش ہوئے ہیں ۔ محلہ محلہ اُن کی تلاش جاری ہے اور جہاں کہیں وہ ملتے ہیں اُنھیں گاڑیوں میں بھر بھر کر دواخانوں کو پہونچاکر قرنطینہ میں ڈالا جارہا ہے ۔

اُترکھنڈ پولیس نے تبلیغی جماعت کے ارکان کو انتباہ دیا ہے کہ وہ ازخود رجوع ہوں ۔ اگر کوئی بھی روپوش رہتا ہے اور انفیکشن پھیلاتا ہے تو اُس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا ۔ اُترکھنڈ کے ڈی جی پی انیل راتوری نے کہا کہ اگر متعلقہ علاقہ میں کوئی فرد کورونا وائرس کے سبب فوت ہوتا ہے تو وہاں پائے جانے والے تبلیغی ارکان کے خلاف قتل کا کیس درج کیا جائے گا ۔

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوشنبہ کو مرکزی وزارت صحت نے کہاکہ کورونا وائرس کے زائد از 4000 کیس ہوچکے ہیں جن میں سے کم از کم 1445 کو دہلی میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے اجتماع سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی تخصیص آنند وہار ، دہلی میں لاکھوں مزدوروں اور ورکرس کے اژدھام کے بعد سے کسی نیوز ایجنسی نے نہیں کی ہے جبکہ آنند وہار میں مزدوروں کے سیلاب کے مقابل مرکز کے اجتماع کے شرکاء کی تعداد کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔

22 مارچ کو وزیراعظم نریندر مودی نے جنتا کرفیو کا اہتمام کرایا اور اگلے روز بھوپال میں بی جے پی کے شیوراج سنگھ چوہان نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ کے ساتھ جشن منایا ۔ جنتا کرفیو کا اعلان 19 مارچ کو کیا گیا تھا جس کے بعد چیف منسٹر اُترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ اپنے سرکاری قافلے کے ساتھ ایودھیا گئے جہاں بھرپور ہجوم کے درمیان مذہبی رسم ادا کی ۔

بی جے پی حکومتوں کی نظروں میں یہ سب بھیڑ بھاڑ سے کورونا وائرس نہیں پھیلا بلکہ محض تبلیغی جماعت اس کی ذمہ دار ہے ۔ برطانیہ میں مذہبی تنظیم اسکان (ISKCON) نے کچھ تبلیغی جماعت کی نوعیت کا ایونٹ منعقد کیا جبکہ برطانیہ کورونا سے ہندوستان کے مقابل زیادہ متاثر ہے ۔ اس کے باوجود وہاں ایسی کوئی تخصیص نہیں ہورہی ہے کہ مخصوص کمیونٹی کے سبب وائرس پھیل رہاہے لیکن ہندوستان جیسے ہی تبلیغی جماعت کے بعض ارکان کے وائرس سے متاثر ہونے کا کیس سامنے آیا پورے ملک کے وبائی بحران کو فرقہ وارانہ نوعیت کا رنگ دیتے ہوئے مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جس طرح ہندو متاثر ہوئے ہیں ، سکھ ، عیسائی اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ، اُسی طرح مسلمان بھی متاثر ہوئے ۔

اس وائرس کے سدباب کے لئے سوشل ڈسٹنسنگ (سماجی دوری) برقرار رکھنا اور خود کو زیادہ سے زیادہ الگ تھلگ اور گھروں تک محدود رکھنے جیسی احتیاطی تدابیر کا معاملہ ہے ، اُس میں شمال سے جنوب تک ، مشرق سے مغرب تک پورے ہندوستان میں خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ اس کا ایک ثبوت دہلی ہے جہاں سینکڑوں کیس اُن افراد کے خلاف درج کئے گئے ہیں جو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ کیسے معقول اور حق بجانب ہوسکتا ہے کہ جب جب کورونا وائرس کی نیوز میڈیا یا کسی بھی شعبے سے نشر کی جائے اُس میں خصوصیت سے تبلیغی جماعت کے اجتماع کا ذکر کیا جاتا رہے ۔ مرکزی وزارت صحت نے آج کہا کہ گزشتہ ماہ نظام الدین ویسٹ میں منعقدہ اجتماع کے سبب وائرس سے متاثر ہونے کی شرح میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔

وزارت یا حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آنند وہار کے اژدھام سے متاثرین کی شرح میں کتنا اضافہ ہوا اور اسی طرح دیگر مقامات پر ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز شخصیتوں کی قیادت میں سماجی دور کے احتیاطی اقدام کی جو خلاف ورزی ہوئی اُس سے متاثر ین کی شرح پر کیا اثر پڑا ۔ روزانہ کھانے پینے کی ضروری اشیاء کیلئے بازاروں میں ہجوم دیکھنے میں آرہا ہے ۔کئی مقامات پر ٹریفک جام بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ کیایہ سب کورونا وائرس کو پھیلانے کا سبب نہیں؟

بہرحال جہاں تک وزارت کے دیئے گئے اعداد و شمار کا معاملہ ہے قومی سطح پر تاحال 111 اموات کورونا وائرس کے سبب ہوئی ہیں اور جملہ معاملوں کی تعداد بڑھکر 4281 ہوگئی ہے ۔ تاہم پی ٹی آئی کو بعض ریاستوں سے موصولہ راست مواد کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 137 اموات ہوچکی ہیں اور متاثرین یا مصدقہ معاملوں کی تعداد 4678 ہوگئی ۔ اُن میں سے 344 صحتیاب ہونے پر ڈسچارج کئے جاچکے ۔ اس دوران وزیراعظم مودی اور بعض ریاستی حکومتیں کورونا وبائی بحران سے موثر طورپر نمٹنے کے بجائے قوم کو احمقانہ مشورے دے رہے ہیں اور لاک ڈاؤن میں توسیع کی تجاویز پیش کرتے ہوئے عوام کو مزید خوفزدہ کرنے میں مصروف ہیں۔

22 مارچ کی جنتا کرفیو کے بعد سے مرکزی حکومت نے نہ صرف کورونا وائرس کے متاثرین بلکہ صورتحال کے شکار کروڑوں غریبوں اور نچلے متوسط طبقے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے بلکہ آج وزیراعظم نے قوم کو یہ ’خوشخبری ‘دی کہ کووڈ۔19 کو شکست دینے کی طویل لڑائی باقی ہے اور اُنھوں نے وزراء کو تاکید کی ہے کہ لاک ڈاؤن کو بتدریج ختم کرنے کیلئے منصوبے تیار کریں۔

وزیراعظم کی دانست میں اس وباء سے لڑائی کا مطلب کیا ہے وہ گزشتہ روز ہی واضح ہوگیا جب اُنھوں نے خواہ مخواہ لائیٹ بند کرنے اور دیئے جلانے کی مشق کرائی ۔ چیف منسٹر تلنگانہ چندرشیکھر راؤ نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کی جائے کیونکہ وائرس سے لڑنے کا یہی واحد ہتھیار ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لاک ڈاؤن کے دوران جان گنوا نے والے مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کو 25لاکھ روپئے معاوضہ دینے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

   سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا  کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے   مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر تیاری کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کرنے کی جگہ اور اپنے گھروں کو پیدل سفر کرنے والے جو مہاجر مزدور بھوک اور تھکن سے جان گنو ا چکے ہیں،  ان کے ...