وزیر داخلہ امت شاہ کی پراسرار ’تسلی‘ کہا؛   ہندوستانی مسلمان، ہندوستانی تھے اور آئندہ بھی رہیں گے

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 12th December 2019, 5:36 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 11 دسمبر (آئی این ایس انڈیا)وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو متنازعہ شہریت ترمیمی بل کو راجیہ سبھا میں بحث کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے مسلمان ہندوستانی شہری تھے، ہیں اورآئندہ بھی رہیں گے۔پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیر مسلم تارکین وطن کو بھارتی شہریت فراہم کرنے کی فراہمی والے اس بل کو پیش کرتے ہوئے ایوان بالا میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ان تینوں ممالک میں اقلیتوں کے پاس ”مساوی حقوق“ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں اقلیتوں کی آبادی کم از کم 20 فیصد کم ہوئی ہے۔ اس کی وجہ مبینہ طور پر ’ان کا خاتمہ، بھارت میں قیام اور دیگر وجوہ‘شامل ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ ان مہاجرین کے پاس روزگار اور تعلیم کے حق نہیں تھے۔ امت شاہ نے کہا کہ بل میں تشدد کا شکار ہوئے غیر مسلم اقلیتوں کو شہریت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔اس بل میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور عیسائی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا قانون ہے۔واضح ہو کہ اس بل نام نہاد متنازعہ بل کو لو ک سبھا سے پاس کرالیا گیا ہے۔ ایوان بالا میں کئی اپوزیشن ارکان نے اس بل کو پرور کمیٹی میں بھیجنے کے لئے کی پیشکش کی ہے۔بل پر بحث کے بعد اس کے پاس وقت ان کی پیشکش کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔شاہ نے اس بل کے مقصدوں کو لے کر ووٹ بینک کی سیاست کے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے 2019 کے عام انتخابات کے لئے اپنے منشور میں اس کا اعلان کیا تھا اور پارٹی کو اسی پر کامیابی ملی تھی۔تاہم امت شاہ نے مسلمانوں کو پر اسرار تسلی دیتے ہوئے کہا کہ:’مسلمانوں کو فکر کرنے کی کوئی ’ضرورت‘ نہیں ہے کیونکہ وہ بھارت کے شہری ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے‘۔امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی آسام کے لوگوں کے ’مفادات‘ کو تحفظ فراہم کرے گی۔وزیر داخلہ جب آسامی لوگوں کے مفادات کے تحفظ کی بات کر رہے تھے تو راجیہ سبھا کا ٹی وی نشریہ کچھ وقت کے لئے روک دیا گیا،کیونکہ اپوزیشن ارکان نے درمیان میں نوک جھونک شروع ہوگئی۔واضح ہو کہ یہ بل متنازعہ بل کئی آئینی امور کے معارض ہے، اس لیے ملک کے مختلف حصوں میں زبردست احتجاج ہو رہا ہے۔ نو سواسکالروں او ردانشورا ن نے ایک مشترکہ بیان جاری کر کہا ہے کہ ہندوستانی شہریت کے تعین کے لئے مذہب کو قانونی بنیاد بنایا جانا پریشان کن ہے اور ملکی دستور کے خلاف ہے۔شہریت ترمیمی بل اس سال جنوری میں بھی لایا گیا تھا اور لوک سبھا میں منظور کیا گیا تھا۔ مگر 16 ویں لوک سبھا کی مدت ختم ہو جانے کی وجہ سے یہ راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہو پایا تھا۔ مودی حکومت اپنی دوسری اننگ میں اس متنازعہ بل کو پھر لائی ہے۔  

ایک نظر اس پر بھی

متھرا : کرشن مندر کے لئے مسجد کے انہدام کا اعلان کرنے والے دیو مراری کے خلاف ایف آئی آر

 ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد فیصلہ مندر کے حق میں آنے کے بعد سے ایک طبقہ کے حوصلہ بلند نظر آ رہے ہیں اور اب ان کی نظریں ملک کی دیگر ان مساجد پر مرکوز ہیں جہاں تنازعہ کھڑا ہوتا رہا ہے۔

یوپی میں نظم و نسق کی حالت کافی خراب: مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے اترپردیش میں نظم ونسق پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جرائم پر کنٹرول اور نظم ونسق کے معاملے میں سابقہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور برسراقتدار بی جے پی میں اب کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔

دبئی میں ایک سواری نے ایک شخص کو رونڈ ڈالا؛ مہلوک ایشیائی شخص کی شناخت ہنوز نہیں ہوپائی؛ پولس نے عوام سے کی تعاون کی اپیل

یہاں ایک سواری کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا مگر اُس شخص کی شناخت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ کون ہے، کس ملک یا کس  شہر سے ہے کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ یہ ایشیاء کے  کسی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔

بھٹکل کا نوجوان اُدیاور میں ہوئے سڑک حادثہ میں شدید زخمی؛ علاج کے لئے مالی تعاون کی اپیل

بھٹکل مخدوم کالونی کا ایک نوجوان اُڈپی کے اُدیاور میں سڑک حادثہ میں شدید زخمی ہوا ہے اور اسے منی پال کستوربا اسپتال شفٹ کیا گیا ہے، نوجوان کی مالی حالت کمزور ہونے  کی وجہ سے علاج کے لئے  قریب تین لاکھ  روپیوں کی فوری ضرورت ہے۔ نوجوان کی شناخت سمیرسوکیری (34) کی حیثیت سے کی گئی ...

بھٹکل میں الحاج محی الدین مُنیری کے نام سے موسوم ہائی ٹیک ایمبولنس کا خوبصورت افتتاح

   یہاں نوائط کالونی میں  دبئی کے معروف تاجر جناب عتیق الرحمن  مُنیری کی طرف سے ان کے والد مرحوم الحاج محی الدین مُنیری کے نام سے منسوب ایک ہائی ٹیک ایمبولنس کا خوبصورت افتتاح عمل میں آیا جس میں بھٹکل کی سرکردہ شخصیات سمیت علماء و عمائدین   موجود تھے۔

بنگلورو فساد: مسلمانوں نے پیش کی ہم آہنگی کی مثال، انسانی زنجیر بناکر مندر کی حفاظت

کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں سوشل میڈیا کی ایک قابل اعتراض پوسٹ کے بعد بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فساد کے درمیان مسلم نوجوانوں نے مذہبی ہم آہنگی کی مثال پیش کرتے ہوئے ایک مندر کی حفاظت کی اور ہندوستان کی اس خوبصورت تصویر کو نمایاں کیا جس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیے۔

 بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی نئی عمارت کی تعمیرروک دی جائے۔ پنچایت اراکین نے کیا اسسٹنٹ کمشنر سے مطالبہ 

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کے اراکین نے اسسٹنٹ کمشنرکو میمورنڈم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے تحصیلدار نے جالی پٹن پنچایت کی نئی عمارت تعمیر کرنے کا جو کام شروع کیا ہے