ویسٹ انڈیز کے ساتھ ہندوستان کھیل سکتا ہے اپنا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th March 2018, 12:50 PM | اسپورٹس |

نئی دہلی،18؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اس سال ویسٹ انڈیز کو ہندوستانی دورے پر کرکٹ سیریز کے لئے آنا ہے۔اس دورے پرہندوستان اپنا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیل سکتا ہے۔بی سی سی آئی کے ذرائع کے مطابق یہ میچ راجکوٹ یا پھر حیدرآباد میں کھیلا جائے سکتا ہے۔اگر منتظمین کی کمیٹی اس بات کی اجازت دیتی ہے تو اس میچ کا انعقاد کیا جائے گا۔غور طلب ہے کہ ہفتہ کو بی سی سی آئی نے ہندوستان کے ہوم سیریز کے لئے مقامات کا اعلان کیا۔ہندوستانی ٹیم اپنے گھر میں صرف تین ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔جون میں افغانستان کے خلاف ہونے والے واحد تاریخی ٹیسٹ کے علاوہ اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔اس کے علاوہ ہندوستان ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز اور تین ٹی -20 میچ بھی میزبانی کرے گا۔سیریز کے ون ڈے میچ ممبئی، گوہاٹی، کوچی، اندور اور پونے میں نومبر کے آغاز میں کھیلے جائیں گے۔وہیں ٹی -20 میچوں کی میزبانی کولکاتہ، چنئی اور اتر پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن (یوپی سی اے )کو ملی ہے۔کولکاتہ کا مقابلہ چار نومبر کو کھیلا جائے گا، جبکہ دیگر میچوں کی تاریخ مقرر ہونا ابھی باقی ہے۔دورہ و پروگرام کمیٹی کے چیئرمین اور اتر پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر راجیو شکلا نے کہا کہ یوپی سی اے کو اس میچ کی میزبانی ملی ہے۔ہم آنے والے وقت میں طے کریں گے کہ یہ میچ کانپور میں کرایا جائے گا یا کسی اور اسٹیڈیم میں منعقد ہوگا۔ویسٹ انڈیز کی میزبانی کے بعد ہندوستان آسٹریلیا کے دورے کے لئے روانہ ہو جائے گا۔اس کے بعد ہندوستان فروری مارچ میں آسٹریلیا کی پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز اور دو ٹی -20 بین الاقوامی میچوں کی میزبانی کرے گا۔پانچ ون ڈے میچ موہالی (24 فروری)، حیدرآباد(27فروری)، ناگپور (02مارچ)، دہلی( 05مارچ)، رانچی (08مارچ)کو منعقد کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ دو ٹی -20 مقابلے بنگلور( 10 مارچ)، وشاکھاپٹنم (13 مارچ)کو منعقد ہوں گے۔آسٹریلیا کے خلاف دہلی میں ہونے والے مقابلے میں بی سی سی آئی کے ایگزیکٹو چیئرمین سی کے کھنہ نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ دہلی کو مارچ میں میچ کی میزبانی ملی ہے۔ایسے میں فضائی آلودگی کا کوئی مسئلہ نہیں دیکھنے کو ملے گا، جیسے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ہوا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی