گلوبل ہنگر انڈیکس 2020 جاری، 107 ممالک کی فہرست میں ہندوستان 94 ویں نمبر پر

Source: S.O. News Service | Published on 18th October 2020, 10:39 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،18؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) عالمی سطح پر بھوک انڈیکس میں ہندوستان کی پوزیشن میں معمولی بہتری آئی ہے۔ تاہم یہ اب بھی سنگین زمرے میں ہیں، جبکہ کئی ممالک کی پوزیشن میں کافی بہتری آئی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2020 کی تازہ رپورٹ میں107ممالک کو شامل کیاگیاہے۔ اس فہرست میں ہندوستان کو94 واں نمبرملا ہے اوراسے اب بھی بھوک کے ’سنگین‘ زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ماہرین نے اس کیلئے نفاذ کے ناقص طریقہ کار ، موثر نگرانی کے فقدان ، غذائی قلت سے نمٹنے کیلئے مایوس کن نقطہ نظر اور بڑی ریاستوں کی ناقص کارکردگی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پچھلے سال 117ممالک کی فہرست میں ہندوستان 102 ویں نمبر پر تھا۔ پڑوسی بنگلہ دیش ، میانمار اور پاکستان بھی ’سنگین ‘ زمرے میں ہیں۔ لیکن اس سال کے بھوک انڈیکس میں ہندوستان سے اوپر ہیں۔ بنگلہ دیش 75 ویں ، میانمار 78 ویں اور پاکستان 88 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ کے مطابق نیپال 73 ویں اور سری لنکا 64 ویں نمبر پر ہے۔ دونوں ممالک ’وسط‘زمرے میں آتے ہیں۔ چین ، بیلاروس ، یوکرین ، ترکی ، کیوبا اور کویت سمیت 17 ممالک نے بھوک اور غذائی قلت کی نگرانی کرنے والے عالمی ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) میں اعلیٰ رینک پر رہے۔ یہ معلومات جمعہ کو جی ایچ آئی کی ویب سائٹ پر دی گئی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی 14 فیصد آبادی غذائیت کا شکار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 سال سے کم عمرکے بچوں میں اموات کی شرح 3.7 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ ایسے بچوں کی شرح 37.4 تھی، جو نقص تغذیہ کی وجہ سے نہیں بڑھ پاتے۔ 1991 سے لے کر اب تک بنگلہ دیش ، ہندوستان ، نیپال اور پاکستان کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے خاندانوں میں بچوں کے قد نہیں بڑھ پانے کے معاملے زیادہ ہیں، جو مختلف اقسام کی کمی سے متاثر ہیں۔ ان میں متناسب غذائیت کی کمی ، زچگی کی نچلی سطح اور غربت وغیرہ شامل ہیں۔ اس عرصے کے دوران ، ہندوستان میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی درج کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبل از وقت پیدائش اور کم وزن کی وجہ سے بچوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے ، خاص طور پر غریب ریاستوں اور دیہی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پروگراموں کے نفاذ کے ناقص عمل ، مؤثر نگرانی کے فقدان اور غذائیت کی کمی سے نمٹنے کے طریق کار میں ہم آہنگی کی کمی اکثر غذائیت کے ناقص انڈیکس کی وجوہ بنتی ہے۔ بین الاقوامی خوراک پالیسی ریسرچ تنظیم نئی دہلی میں ریسرچ اسکالر پورنیما مینن نے کہا کہ ’ہندوستان کی درجہ بندی میں مجموعی طور پر تبدیلی کیلئے اترپردیش ، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی بڑی ریاستوں کی کارکردگی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایاکہ قومی اوسط اترپردیش اور بہار جیسی ریاستوں کی طرف سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے ...جن ریاستوں میں حقیقت میں زیادہ غذائیت کی کمی ہوتی ہے ،ملک کی آبادی میںان کا نمایاں رول ہوتاہے‘۔ ہندوستان میں پیدا ہونے والا ہر پانچواں بچہ اترپردیش میں ہے۔ لہٰذا اگر زیادہ آبادی والی ریاست میں غذائیت کی کمی کی سطح زیادہ ہے تو یہ ہندوستان کی اوسط میں بہت زیادہ حصہ ڈالے گی۔ 

واضح ہے کہ تب ہندوستان کی اوسط سست ہو گی۔ مینن نے کہاکہ اگر ہم ہندوستان میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اترپردیش ، جھارکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور بہار میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہوگی۔

ایک نظر اس پر بھی

جموں وکشمیر پولس کی اپیل؛ بندوق اٹھانے والے بچے بندوق چھوڑ دیں، ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی

جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے ملی ٹینسی کا راستہ اختیار کرنے والے مقامی نوجوانوں سے قومی دھارے میں واپس لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے جن بچوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے اگر وہ واپس آئیں گے تو انہیں کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کی ...

کیا بہار این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک نہیں؟ نتیش کی آبادی کے حساب سے ریزرویشن کی مانگ پر بی جے پی غیر متفق

بہار انتخابات میں این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ اس کی مثال اس وقت نظر آئی جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک انتخابی ریلی سے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن طبقہ کی آبادی کے حساب سے ہونا چاہیے،

ہندوستان میں کورونا کے نئے کیسز کی تعداد پھر 50 ہزار سے کم، فعال کیسز میں لگاتار کمی

ملک میں لگاتار چھٹے دن کورونا وائرس کے نئے کیسز 50000 سے بھی کم رپورٹ ہوئے ہیں اور اس جان لیوا وبا سے شفایاب ہونے والے مریضوں کی تعداد زیادہ رہنے سے اموات اور ایکٹیو کیسز کی شرح میں کمی آرہی ہے۔