یوم آزادی: کورونا کے پیش نظر لال قلعہ تقریب کے لیے وزارتِ دفاع کے خصوصی انتظامات

Source: S.O. News Service | Published on 14th August 2020, 9:52 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزارت دفاع نے کورونا وبا کے تناظر میں یوم آزادی کی تقریبات میں لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور اس بار مہمانوں کو دو گز کی دوری پر ماسک کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ وزارت نے تقریب کے دوران سماجی فاصلے، ضروری احتیاط اور قومی تقریب کی پاکیزگی اور وقار کے مابین توازن برقرار رکھنے کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ کسی کو بھی دعوت نامے کے بغیر تقریب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس بار یوم آزادی کی تقریبات میں مشق کے دوران، معاشرتی فاصلے کے ضابطے پر عمل کیا جائے گا اور اس تقریب کی کشش 'اسکول کے بچے' اس بار نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں اس بار کورونا کی وجہ سے تقریب سے دور رکھا گیا ہے۔ تقریب کا آغاز صبح 6.30 بجے این سی سی کیڈٹس کے گائے جھنے والے حب الوطنی کے ترانوں سے ہوگا۔ تمام عہدیدار شام 7.15 بجے وزیر اعظم کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور وزیر اعظم لال قلعے کی فصیل سے قومی پرچم لہرا ئیں گے۔

جائے تقریب پر سہل نقل وحمل، بھیڑ کم کرنے اور مناسب فاصلے کو یقینی بنانے کے لئے لکڑی کے فرش قالین سے ڈھک دیاگیا ہے۔ تمام مدعو مہمانوں کے لئے آسانی سے گزرنے کو یقینی بنانے اور لوگوں کو قطار میں کھڑا ہونے سے روکنے کے لئے مناسبفاصلے پر اضافی میٹل ڈیٹیکٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔ پارکنگ کے بیشتر علاقوں میں گاڑیاں آسانی سے داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لئے اینٹیں بچھائی گئی ہیں۔

گارڈ آف آنر میں شامل سیکیورٹی اہلکاروں کو سیکیورٹی کے لئے قرنطین میں رکھا گیا ہے۔ رہنما خطوط کو مد نظر رکھتے ہوئے، تقریب کے دوران دو مہمانوں کے درمیان بیٹھنے کا فاصلہ دو گز یعنی 6 فٹ رکھا گیا ہے۔ تقریب میں داخل ہونے کے لئے دعوت نامہ کا ہونا ضروری ہے، لہذا جو لوگ باضابطہ دعوت نامہ نہیں رکھتے انہیں تقریب میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ عہدیداروں، سفارتکاروں، عوامی نمائندوں اور میڈیا وغیرہ کو 4000 سے زیادہ دعوت نامے جاری کردیئے گئے ہیں۔ حفاظت کے مدنظر این سی سی کیڈٹس کو چھوٹے اسکول کے بچوں کی بجائے تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا تھا اور انہیں گیان پتھ پر بٹھایا جائے گا۔

کووڈ سے متعلق حفاظتی اقدامات کے لئے مدعو مہمانوں کو حساس بنانے کے لئے، ہر دعوت نامے والے کارڈ کے ساتھ کووڈ سے متعلق ہدایات پر عمل کرنے کے لئے مخصوص مشورے جاری کیے گئے ہیں۔ تقریب ختم ہونے کے بعد، ہر دعوت نامہ والے مہمان کی نشست پر اپیل کارڈ رکھا جائے گا تاکہ وہ اس سلسلے میں رہنما اصولوں پر عمل کریں اور مقام سے باہر نکلتے وقت تحمل اور صبر کو برقرار رکھا جاسکے۔ اس سلسلے میں کمنٹری کے بوتھ سے وقتا فوقتا ایک اعلان بھی کیا جائے گا۔ اس میں ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری بھی شامل ہوگی۔

لوگوں کے مابین مناسب فاصلہ یقینی بنانے کے لئے حکام کے توسط سے ایک منظم منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں، تمام مدعو مہمانوں سے مستقل طور پر درخواست کی جائے گی کہ وہ ان ہدایات پر عمل کرنے میں خلوص کے ساتھ تعاون کریں۔ تقریب کے دوران ڈرل میں معاشرتی فاصلاتی معیار کے ساتھ ساتھ دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے گا۔ داخلے کے دوران، کسی بھی شخص کو کووڈ سے متعلق کوئی بھی علامت پائے جانے پر قریب ہی چار کووڈ بوتھ قائم کیے گئے ہیں،جو ایک مادھواداس پارک میں اور دو 15 اگست کے پارک میں ہیں۔ ان چاروں مقامات پر ایمبولینسیں بھی تعینات کی جائیں گی۔

مدعو مہمانوں کے تمام داخلی راستوں پر تھرمل اسکریننگ کی جائے گی۔ لال قلعے کے اندر اور باہر کے احاطے کو اچھی طرح سے صاف کردیا گیا ہے۔ تمام مدعو مہمانوں سے ماسک پہننے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، تقسیم کے لئے مختلف مقامات پر مناسب تعداد میں ماسک رکھے جارہے ہیں۔ اسی طرح پہلے سے طے شدہ مقامات پر ہینڈ سینیٹائزر بھی دستیاب ہوں گے۔ مہمانوں کو تمام معلومات پہنچانے کے لئے ڈسپلے بورڈ بھی لگائے گئے ہیں۔ اس خطے کی تزئین کی خوبصورتی کو بڑھانے کے لئے این سی سی کیڈیٹس کے پیچھے گیان پتھ پر پھولوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ممبئی میں طوفانی بارش سے سیلابی صورتحال، عام زندگی مفلوج، متعدد رہائشی کالونیاں زیر آب

ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں گزشتہ شب سے جاری بھاری بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں اس طرح کی بارش نے ایک بار پھر شہر کی عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔