بھٹکل میں موٹر گاڑیوں کی بڑھتی تعداد۔ آمدورفت کی دشواریوں پر قابو پانے کے لئے ٹریفک پولیس اسٹیشن کا قیام اشد ضروری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 18th February 2020, 12:54 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 17/فروری(ایس او نیوز) بھٹکل شہر تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پرتیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ یہاں پر موٹر گاڑیوں کی تعداد میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے جس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اوراس سے سڑک حادثے بھی زیادہ ہونے لگے ہیں۔ اس لئے عوام کا سنجیدہ طبقہ یہ چاہتا ہے کہ بھٹکل شہرمیں ٹریفک پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے۔

 شہر کے تنگن گنڈی کراس، نوائط کالونی رابطہ کراس، جالی کراس، شمس الدین سرکل، بس اسٹانڈ، تعلقہ پنچایت دفتر، نیشنل ہائی وے، مین روڈ، قدیم بس اسٹانڈ، ماری کٹے، چوتھنی جانے والا راستہ، پھول بازارجیسے علاقوں میں موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت اور پیدل راہگیروں کی حفاظت ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ان علاقوں میں ہفتے میں دو تین حادثات ہونا معمول کی بات ہوگئی ہے۔ یہاں سے پیدل راہگیروں کو سڑک پار کرنا جان جوکھم میں ڈالنے کا کام بن گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اور شہری علاقے کے علاوہ مضافاتی علاقوں میں بھی تقریباً یہی صورتحال ہے۔ 

یہ صحیح ہے کہ بھٹکل شہر تعلقہ ہیڈکوارٹر ہے مگر یہاں پر فی کس گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ خاص کر دوپہیہ گاڑیوں کی بھرمار ہے۔ اس کااندازہ لگانے کے لئے ہفتہ واری بازار کا نظارہ دیکھنا کافی ہے۔اس وقت بھٹکل میں روزانہ جو موٹر گاڑیاں اندرون شہر سڑکوں پر دوڑتی ہیں ان کی تعداد یہاں دی جارہی ہے۔

75,000 دوپہیہ گاڑیاں  
1,500 آٹو رکشا
سو سے زائد سرکاری بسیں 
پچاس سے زائد نجی بسیں 
دس ہزار کار اور دوسری موٹر گاڑیاں 
تین سو سے زائد اسکولی بسیں 
ڈیڑھ سو سے زائد ٹورسٹ ٹیمپو، گوڈس ٹیمپو


    ایک طرف شہر کے بعض ذمہ داران  بھٹکل میں ٹریفک  پولس اسٹیشن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تو بعض  ذمہ داران کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے فورلائن کی تعمیر کا کام شہر میں ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ دن بدن بگڑتاجارہا ہے۔بھٹکل کے معروف کاروباری جناب ایم ایس محتشم کا کہنا ہے کہ بھٹکل میں گذشتہ چھ سالوں  ٹریفک کا مسئلہ کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہوگیا ہے، ایک حساب سے ہائی وے کا کام شروع ہوتا ہے اور فلائی اوور بریج کا کام مکمل ہوتا ہے تو  پھر دور دراز علاقوں کی طرف جانے والی سواریاں فلائی اوور کے  اوپر سے گذرجائیں گی اور حالیہ سڑک پر صرف مقامی لوگوں کی ہی گاڑیاں دوڑیں گی  تو ٹریفک کا مسئلہ ایک حد تک حل ہوسکتا ہے۔

 بھٹکل میں ٹریفک کے مسائل اور ٹریفک پولیس اسٹیشن کے قیام کے سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک نے بتایا کہ  میں نے اس سے پہلے ہی اس مسئلے کو حکومت کے سامنے رکھا ہے اور یہاں پر ٹریفک پولیس اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز کو منظوری دینے کی درخواست کی ہے۔اب یہ تجویز کس مرحلے میں ہے اس کا جائزہ لینے کے بعد جلد ہی اس سمت میں کارروائی کروں گا۔

  ڈی وائی ایس پی کے سی گوتم نے کہا کہ ابھی مجھے بھٹکل میں آئے ہوئے چند ہی دن گزرے ہیں۔ ٹریفک کے مسائل کے تعلق سے میں تفصیلات حاصل کی ہیں۔ محکمہ پولیس کی طرف سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ٹریفک پولیس اسٹیشن کے قیام کے سلسلے میں اس   سے پہلے بھیجی گئی تجویز کا معائنہ کروں گا۔

جبکہ سرکل پولیس انسپکٹر ایم ایس  پرکاش  نے بتایا کہ بھٹکل میں ٹریفک کے جو مسائل ہیں انہیں درست کرنے کے لئے مختلف مقامات پر پولیس عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔ وقفے وقفے  سے موٹر گاڑیوں کی تلاشی لینے کی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر کے اندرگاڑیوں کی آمد ورفت کے لئے درپیش مسائل کو حل کرنے اور مزید بہتر انداز میں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں پایا گیا کورونا پوزیٹیو کا ایک اور مریض؛چھوٹے بھائی کے بعدآج بڑے بھائی کی بھی رپورٹ آئی پوزیٹو؛ کئی لوگوں کو کیا گیا انجمن کورنٹائن سینٹر منتقل

چھوٹے بھائی کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو موصول ہونے کے بعد آج اسی کے بڑے  بھائی کی رپورٹ بھی پوزیٹیو موصول ہوئی جس کے ساتھ ہی بھٹکل یا اُترکنڑا میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔

کورونا معاملات کو لے کر بھٹکل لاک ڈاون کی صورتحال کا جائزہ لینے کاروار ایس پی کا بھٹکل دورہ؛ تعلقہ اسپتال پہنچ کر بھی لیا جائزہ؛ کل کریں گے مشتبہ مریضوں کو انجمن ہوسٹل میں منتقل

بھٹکل میں کورونا متاثرین کی سنگین صورتحال کے بعد لاک ڈاون کا جائزہ لینے اور حفاظتی انتطامات  کے تعلق سے جانکاری حاصل کرنے ضلع اُترکنڑا کے ایس پی شیوپرکاش دیوراج نے آج پیر کو بھٹکل کا دورہ کیا ، پولس کو ضروری ہدایات دینے اور اخباری نمائندوں سے بھی بات چیت کرنے اور یہاں کے ...

بھٹکل: کوروناوائرس کی روک تھام اور لاک ڈاون میں مزید سختی برتنے اب اُڑائے جائیں گے ڈرون کیمرے؛ گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرنے والے ہوشیار

صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھٹکل کو لے کر تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ  اتنے چھوٹے سے علاقہ میں  کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد  بڑھتی جارہی ہے۔چونکہ یہاں کے اکثر لوگ بیرون ممالک میں رہتے ہیں، اس لئے یہ وائرس دوسرے ملکوں سے یہاں آرہی ہے۔  ہمیں دہلی سے فون بھی ...

بھٹکل لاک ڈاؤن: کسی کے بیمارہونے پر ہیلپ لائن کو فون کریں، ڈاکٹر خود گھر پر پہنچ جائیں گے۔ضلع انتظامیہ کی یقین دہانی

کورونا وائرس وباء کی وجہ سے جو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اس میں بہت سارے مسائل پیش آ رہے ہیں، جس میں ایک اہم مسئلہ لوگوں کے بیمار ہونے کی صورت میں اسپتال یا ڈاکٹر کے پاس مریض کو لے جانے کا ہے۔

کرناٹک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 88 ہوگئی؛ متاثرین کی تعداد میں روزبروز اضافہ سے معاملہ سنگین

کرناٹک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔ ہفتہ کے روز جہاں ایک ہی دن میں 18نئے معاملات سامنے آئے اتوار کے روز مزید 7نئے معاملوں کے انکشاف نے اس صورتحال کی سنگینی کی طرف واضح اشارہ کیا ہے۔ 

پوری دنیا ایک نادیدہ دشمن سے مصروف جنگ ہے؛ پوری دنیا بیک وقت ایک ہی قسم کے عذاب میں مبتلا .... سہیل انجم

اس وقت پوری دنیا ایک ایسے دشمن سے مصروف جنگ ہے جو دکھائی نہیں دیتا، جو اندھیرے کا تیر ہے، جو کبھی بھی کسی کو بھی آکے لگ سکتا ہے اور اس کی زندگی کی شمع گل کر سکتا ہے۔ایشیا ہو یا افریقہ، امریکہ ہو یا یوروپ، خطہ خلیج ہو یا کسی اور علاقے کا کوئی ملک سب اس کی زد پر ہیں اور سبھی تباہی و ...

کورونا وائرس کی سنگینی کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے؛ بازاروں میں غیر ضروری گھومنے سے پرہیز اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں

ہندوستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس وقت اس خطرناک وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد کے حساب سے مہاراشٹرا نمبر ایک کیرالہ نمبر2 جبکہ کرناٹک نمبر 3 پر ہے۔

کرونا وائرس سے متاثرہ بھٹکل کے تینوں لوگوں کے دبئی کے دوست احباب کی رپورٹ نگیٹیو؛ کیا دبئی میں بھی بھٹکلی شخص کورونا میں ایڈمٹ ہے ؟

کرونا وائرس سے متاثرہ تینوں افراد کے  دبئی میں مقیم دوست احباب نے دبئی اسپتال پہنچ کر اپنی جانچ کرائی ہے اور سبھوں  کی رپورٹ نیگیٹو موصول ہوئی ہے۔ دبئی کے سماجی کارکن جناب جیلانی محتشم نے بتایا کہ  انہوں نے تینوں لوگوں کے دوست احباب اور رشتہ داروں سے رابط  کیاتھاجنہوں نے ...

کورونا =این پی آر !!! ...... از: مدثر احمد

طوفان نوح سے قبل حضرت نو ح علیہ السلام نے کئی دعائیں اللہ رب العزت کے حضور میں مانگیں ، اس دوران جب وہ کشتی بنارہے تھے انکی قوم نے ان سے سوال کیا کہ اے نوح آخر کیا بات ہے کہ آپ خشکی پر کشتی بنارہے ہیں جبکہ پانی میں کشتی بنائی جاتی تھی ۔