ہریانہ: دہلی کے علاقوں میں ماحولیاتی بہاؤ بڑھانے سے ماحولیاتی تباہی پیداہوسکتی ہے

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2021, 11:18 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 13 جنوری (آئی این ایس انڈیا) ہریانہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ یمونا ندی کے دہلی حصے میں ماحولیاتی بہاؤ بڑھانے کے مشورے سے اتفاق نہیں کرتی ہے کیونکہ اس سے ریاست میں ایک ماحولیاتی تباہی پیدا ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی یونین برائے تحفظ قدرت کے مطابق ماحولیاتی بہاؤ ماحولیات اور ان کے فوائد کو منظم کرنے کے لئے ندی، گیلی زمین یا ساحلی علاقے میں بہتا ہوا پانی ہے اور بہاؤ کو باقاعدہ بنایا جاتا ہے۔ روڑکی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائڈروولوجی (این آئی ایچ) نے اپنے مطالعے میں یہ تجویز دی ہے کہ دریائے یمونا کے ماحولیات کو محفوظ رکھنے کے لئے ہریانہ کے یمونا نگر میں 23 مکعب میٹر پانی کو جنوری اور فروری میں 10 کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی جگہ پر چھوڑ دیا جائے۔

ہاتھنی کنڈ بیراج سے مغربی یمونا نہر اور مشرقی یمونا نہر کے ذریعہ دریا میں بہاؤ کو بالترتیب ہریانہ اور اتر پردیش میں آبپاشی اور دہلی میں پانی کی فراہمی کے لئے چل رہا ہے۔ ہریانہ حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) میں دائر اپنے جواب میں کہا ہے کہ ریاست 1994 کے ایم او یو کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ہاتھنی کنڈ سے 10 سیکنڈ کیوبک میٹر فی سیکنڈ پانی چھوڑ رہی ہے۔ اس مفاہمت نامہ پر غور صرف 2025 کے بعد کیا جاسکتا ہے اگر کوئی شراکت دار ریاست یہ چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست این آئی ایچ کی طرف سے ماحولیاتی بہاؤ کے حجم میں اضافے کی سفارش سے مکمل طور پر متفق نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ہریانہ میں ماحولیاتی تباہی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہریانہ حکومت نے وزارت آبی وسائل کے سامنے اس موضوع کو اٹھایا ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ وہ این آئی ایچ کی رپورٹ کو قبول نہ کرے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہنگامہ ؛ پولس لاٹھی چارج، آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے؛ کسانوں نے پولس کی بیریکیڈ توڑ کر داخل ہوگئے دہلی

  کسان تنظیموں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران  دہلی میں کئی مقامات پر کسانوں اور پولس کے درمیان جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق  کسانوں نے پولیس بس کو آئی ٹی او پر ہائی جیک کرلیا ہے ، جبکہ ایک کرین بھی چھین لی گئی ہے۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق  آئی ٹی او پر ...

بھاجپائیوں کیلئے مشکلیں کھڑی :بھاجپا کے ’جے شری رام‘ کے جواب میں ترنمول کا ’ہرے کرشنا ہرے رام ‘ کا نعرہ

23 جنوری کو سبھاش چندر بوس کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران جب مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو اسٹیج پر خطاب کے لئے مدعو کیاگیا ،تو سامعین کی طرف سے ،جن کی اکثریت بھاجپانواز کی تھی، نے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاکر خطاب میں مخل ہونے کی کوشش کی ۔

مہاراشٹر: آزاد میدان میں کسانوں کی یلغار

مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف دہلی میں دوماہ سے جاری کسانوں کا احتجاج تاریخ رقم کر رہا ہے- ان قوانین کے خلاف پنجاب و ہریانہ کے کسانوں کے سڑکوں پر اترنے کے بعد سخت سردی میں مودی حکومت نے ان کسانوں پر پانیوں کی بوچھارماری مگر کسان پیچھے نہیں ہٹے-

توپھربابری مسجدکی شہادت کاعدالت میں فخرکے ساتھ اعتراف کیوں نہیں کیا؟ پرکاش جاوڈیکرکے بیان پراویسی کی تنقید، سپریم کورٹ کہہ چکاہے،مندرتوڑنے کاثبوت نہیں

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کے بابری مسجدکی شہادت کیس کے بارے میں دیئے گئے تبصرہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کیلئےپورے طور سے وقف: صدر رام ناتھ

صدر رام ناتھ کووند نے زرعی شعبہ میں ترقی کے لئے کسانوں، ملک کی سرحدوں کی سلامتی یقینی  بنانے میں کامیاب رہے جوانوں اور کووڈ سے  نمٹنے اور ترقی  کے مختلف شعبوں میں خدمات کے لئے سائنسدانوں کومبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسانوں سمیت تمام طبقوں کی فلاح وبہبود کے لئے پوری  ...