ریاست کرناٹک میں گمشدہ افراد کی تعداد میں اضافہ

Source: S.O. News Service | Published on 10th October 2019, 6:11 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،10؍اکتوبر(ایس او نیوز) کرناٹک پولیس کے ذریعہ انجام دئے گئے ایک مطالعہ نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ گھروں کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ان میں سے ہر ایک سو افراد میں کم از کم چالیس لوگ گھریلو جھگڑوں اور خاندانی مسائل کی وجہ سے ایسا کر تے ہیں جبکہ تیس فیصد افراد مالی پریشانیوں کی وجہ سے گھر چھوڑ دیتے ہیں، جس میں قرضہ کا بوجھ بھی شامل ہو تا ہے، مطالعہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بیس فیصد افراد خصوصاً نوجوان عشق کے چکر میں اپنے گھروں کو خیر باد کہہ دیتے ہیں -حیرت کی بات یہ ہے کہ گھروں سے بھاگ جانے یا گمشدگی کے معاملات ایسے گھروں میں زیادہ ہوتے ہیں، جن میں اکیلے اور آزادانہ خاندان آباد ہوتے ہیں ارو جن گھروں میں مشترکہ خاندان ہوتے ہیں یعنی ماں باپ اور بھائی بھاوج وغیرہ ایک ہی چھت کے نیچے بسیرا کرتے ہیں ان میں گھر چھوڑ کر چلے جانے کے معاملات بہت کم ہوتے ہیں -ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ ”اکیلے خاندانوں کے مقابلہ میں ملے جلے خاندانوں کی طرف سے گمشدگی کی خبریں بہت کم آتی ہیں -اچانک جذبات کا ابھار، شدید غصہ، فیصلوں میں جلد بازی اور بدلے کے جذبات ہوتے ہیں جن کے نتیجہ میں کسی شخص کو اس بات کا حوصلہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ گھر چھوڑ کر چلا جائے“-ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر اکیلے خاندانوں میں حالات کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہ معاملات اس طرح کے خاندانوں میں زیادہ نظر آتے ہیں -ریاستی پولیس کے ذرائع کے مطابق ریاست بھر میں جاریہ سال کے ابتدائی دس مہینوں کے دوران کل 10,683افرادکی گمشدگی کی خبریں آئی تھیں، جن میں سے 6,256افراد کو پولیس نے تلاش کر لیا ہے اور انہیں دوبارہ اپنے خاندانوں سے ملا دیا گیا ہے مگر 4,427افراد اب بھی لا پتہ ہیں -اسی طرح ان معاملات کو سلجھانے کا فیصد جاریہ سال کے دس مہینوں میں 58.6فیصد رہا جبکہ پچھلے سال (2018 کے بارہ مہینوں میں) یہ تناسب63.9فیصد تھا، سال 2018میں کل13,544 افراد لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے6,256 افراد کو پولیس نے تلاش کر لیا تھا-

ایک نظر اس پر بھی

رام ہندوستان میں نہیں تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے تھے؛ گلبرگہ میں ایک بدھسٹ سنت کا دعویٰ

یہاں پرمنعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں معروف بدھسٹ سنت بھنتے آنند مہشتویرنائب صدر اکھل بھارتیہ بِکّو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ رام ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا جنم تھائی لینڈ میں ہوا تھا۔اور اس مسئلے پر وہ کسی کے ساتھ بھی کھلی بحث کرنے اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے تیار ...

شموگہ میں عشق ومحبت کی شادی کا المناک انجام۔ وہاٹس ایپ پر طلاق دئے جانے کے بعدڈی سی دفتر کے باہرمطلقہ خاتون کادھرنا؛ مسلم تنظیموں کو توجہ دینے کی ضرورت

عشق و محبت کے چکر میں مبتلا ہوکر جس لڑکے سے شادی کی تھی اسی نے وہاٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کردیا تو مطلقہ خاتون ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

عالمی یوم بنات کے موقع پر بنگلور کی اقرا اسکول کی نور عائشہ کا لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

عالمی یوم بنات کے موقع پر  اقرا انٹرنیشنل اسکول بنگلور کی بانی ڈائرکٹر نور عائشہ نے   معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت وہ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ کارڈف سے بزنس گریجویٹ نور ...

بنگلور میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام دلت-مسلم مذاکرہ میں سماجی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ دلت-مسلم مذاکرہ میں شریک مندوبین نے زمینی سطح پر سماجی اتحاد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھانے اور دلتوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا

این آر سی کے متعلق مسلمان پریشان کیوں نہ ہوں؟ امیت شاہ کا فرمان اور ریاستی وزیر داخلہ بومئی کا متضاد بیان- کسے مانیں کسے چھوڑیں؟

کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، ...

سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ کیلئے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری

ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون میں ترمیم کے بعد جاریہ تعلیمی سال اگرچہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کے معاملہ میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر محکمہ تعلیم اس اضافہ سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کہ یہ نتائج اس کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے ہیں،