الیکٹرانک میڈیا کا متعصبانہ رویہ دوبارہ منظر عام پر،میٹرو کے دو واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th May 2019, 12:57 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،14؍مئی (ایس او نیوز) شہر کے میٹرو اسٹیشن میں پیش آئے دو معمولی واقعات کو دہشت گردی کا رنگ دینے میں متعصب الیکٹرانک میڈیا نے اپنی تمام حدوں کو پارکردیا ہے۔ دو افراد کہیں پر سفر کرنے کے مقصد سے میٹرو اسٹیشن پہنچے تھے، مگر اچانک متعصب الیکٹرانک میڈیا کے چند چینلوں نے انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہوئے خبرو ں کو نشر کرنا شروع کردیا۔ جب پڑوسیوں سے انہیں اس بات کا پتہ چلا تو وہ خود حیران رہ گئے۔ دن بھر کام کاج ختم کرکے میٹرو میں سفر کے ذریعے وہ اپنے گھر تو پہنچ گئے تھے، مگر ایک نیوز چینل میں ان کی تصاویر اس طرح پیش کی گئیں کہ انہوں نے اپنے کمر میں بم باندھا ہوا تھا، جس کے ذریعے نفرت پھیلنے کا خدشہ تھا، اس طرح کی مذموم و ناقابل برداشت حرکت سرزد ہوگئی، مگر ریاستی حکومت نے فرضی خبر نشر کرنے والے چینلوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی بھی نہیں کی۔ پہلا واقعہ 6 مئی بروز پیر کا ہے، شام 7.18 بجے راجستھان سے تعلق رکھنے والا ساجد خان میجسٹک میٹرو اسٹیشن پہنچا تھا، وہ ہر سال ماہ رمضان میں زکوٰة وصول کرنے بنگلورو آتا، اور مساجد کے روبرو زکوٰة وغیرہ کی رقم وصول کرتا ہے، اس طرح عطیہ میں ملے چند سکے اور ہاتھ میں تصویز ہونے کے سبب میٹرو کے دروازے پر واقعے میٹل ڈئکٹر میں آواز آنے لگی، جب سکیورٹی گارڈوں نے مزید جانچ کی کوشش کی تو کنڑا زبان سے لاعلم ساجد خان خوفزدہ ہوگیا، اور الجھن میں مبتلا ہونے کے سبب میٹرو میں سفر کئے بغیر ہی وہ واپس لوٹ آیا تھا، جس کے دوسرے ہی دن اخباروں اور نیوز چینلوں میں دہشت گردوں کی آمد کی خبریں آنے لگیں۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ وہ خودکش بمبار ہوگا، اس کے پاس بندوق بھی تھی، میٹرو اسٹیشن میں داخل ہونے کے لئے تعاون کرنے پر اس نے ایک کروڑ روپئے دینے کی لالچ دی، اور یہ تک بتایا گیا کہ سری لنکا سے دہشت گرد بنگلورو پہنچ گئے ہیں، یہ بھی درخواست کی جانے لگی کہ اس طرح جبہ پہن کر داڑھی رکھنے والے مشتبہ افراد نظر آئیں تو فوراً پولیس یا اپنے نیوز چینل کو مطلع کریں۔ میٹرو عملے نے بھی سستی شہرت کے لئے یہ بیانات دیئے کہ ہاں اس نے منہ پر کپڑا باندھا ہوا تھا، اور انہیں بھی خدشہ ہے کہ وہ دہشت گرد ہی ہوگا۔ میٹرو حکام نے اپنے سی سی ٹی وی فوٹیج الیکٹرانک میڈیا تک پہنچا کر اسے اپنا کارنامہ بھی تسلیم کرلیاتھا، سی سی ٹی وی مناظر حاصل ہوتے ہوئے متعصب ذہنیت کے چند نیوز چینلوں نے دل کھول کر اس میں ایڈیٹنگ بھی کی۔ ان افراد کے چہروں پر خود سے کپڑے باندھ دیئے گئے۔ ان کی کمر پر بم کے بیلٹ دکھائے گئے، اور عوام کو خوفزدہ کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ یہاں تک کہ معتبر قرار دیئے جانے والے چند اخباروں نے بھی خودکش بمبار ہونے کا شبہ ظاہر کردیا۔ سنسنی پیدا کرنے کے لئے یہ بھی کہا گیا کہ جب مشتبہ فرد میٹرو اسٹیشن سے فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا، تب وہاں موجود آٹو رکشا ڈرائیوروں نے بھی اسے پکڑنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم پولیس تحقیقات میں ساجد بے قصور نکلا، وہ کہیں فرار نہیں ہوا تھا، بلکہ آر ٹی نگر کی ایک مسجد کے روبرو عطیات وصول کرتے وقت پولیس کے ہاتھ لگ گیا تھا، میڈیا کی سنسنی خیزی سے وہ پوری طرح لا علم تھا، اگر وہ پولیس کے ہاتھ لگنے کے بجائے الیکٹرانک میڈیا کے ہاتھ لگ جاتا تو اس کا کیا حال کیا ہوتا، اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ اسی طرح دوسرا واقعہ 7 مئی بروز منگل کو پیش آیا، شام 5.45 بجے دستی گھڑیوں کی مرمت کرنے والے 57 سالہ ریاض احمد کے ساتھ پیش آیا ، وہ حسب معمول میجسٹک انڈر گراؤنڈ میں اپنا کام ختم کرکے میٹرو کے ذریعے اپنے گھر پہنچنے کی جستجو میں میجسٹک میٹرو اسٹیشن پہنچے تھے۔ جانچ کے دوران جب سکیورٹی عملے نے جیب میں موجود اشیاء دیکھی تو انہیں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی، اور وہ میٹرو کے ذریعے اپنے نائینڈنہلی میں واقعے اپنے گھر پہنچ گئے، مگر چند ہی لمحوں بعد میڈیا کی ''دہشت گردی'' کا آغاز ہوگیا تھا، خصوصی طور پر پبلک ٹی وی میں پائجامہ والا فرد خودکش بمبار سمیت طرح طرح کی قیاس آرائیوں کے ساتھ خبر نشر کی گئی، علاوہ زیں ٹی وی 5 نامی چینل نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کیا کہ اس کی خبر نشر ہونے کے بعد 11 انٹلی جنس اور ین آئی اے سمیت ملک کی اہم تحقیقاتی ایجنسیاں الرٹ ہوگئی ہیں، اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ سب سے پہلے اس نے اس خبر کو بریک کیاتھا۔ تب ریاض احمد کے پڑوسی نے انہیں آکر بتایا کہ ٹی وی میں آپ کی تصاویر دکھائی جارہی ہیں، اور دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے، جس سے خوفزدہ ریاض احمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپارپیٹ پولیس تھانے پہنچ گئے اور پبلک ٹی وی کے خلاف شکایت درج کرائی۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ 30 سالوں سے میجسٹک انڈر پاس میں گھڑیوں کی مرمت کا کاروبار کررہے ہیں، اور ان کے پاس بی بی یم پی کا ٹریڈ لائسنس بھی موجود ہے، اور سوال کیا کہ ٹی وی میں انہیں دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے، کیا داڑھی رکھنا اور جبہ پہننا دہشت گردی کی علامت ہے؟۔ جس کے بعد خود پولیس کمشنر سنیل کمار اور ڈی سی پی روی چنانانور نے واضح کیا کہ دونوں بے قصور ہیں، اور الیکٹرانک میڈیا میں جھوٹی خبریں نشر ہوئی تھیں، مگر اب تک ان بے قصوروں کو بدنام کرنے کے معاملے پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اب ان دو واقعات پر ترقی پسند کنڑا نیوز پورٹل ''نانوگئوری'' نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ میٹرو اسٹیشن کے سی سی ٹی وی فوٹیج غیر قانونی طریقے سے الیکٹرانک میڈیا کو کس نے اور کیوں فراہم کئے؟۔ اگر ان جھوٹی خبروں کی بنیاد پر ماب لنچنگ جیسے واقعات رونما ہوں تو اس کے لئے کون ذمہ دار بنے گا؟۔ کیا اس نے معاشرہ میں امن برقرار رہ جائے گا۔ کیا میڈیا کی ''دہشت گردی'' پر کوئی سزا نہیں ہے؟۔ اس معاملے پر کوموسوہاردا ویدیکے کے جنرل سکریٹری کے یل اشوک نے کہا کہ خوف پھیلانا ہی دہشت گردی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ٹی آر پی کے چکر میں مخصوص فرقہ کو بدنام کرتے ہوئے معاشرے میں ان کے تعلق سے منفی تاثرات قائم کرنے کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے، جس کا مقصد فرقہ پرست سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ترقی پسند مفکر سری پادبھٹ نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوششوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو ان دو واقعات سے ثابت ہوچکا ہے، اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو مستقبل کے حالات مزید خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ حقائق سے دوری اختیار کرکے عوام مخالف خیالات کے اظہار پر اگر قابو نہیں پایا گیا اور سزا نہیں دی گئی تو آئندہ کچھ بھی ہوسکتا ہے انہوں نے ان نیوز چینلوں کے خلاف تحقیقات کے علاوہ سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یس آئی او کے صدر نہال کا کہنا ہے کہ ان پر کارروائی کے علاوہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش پر انہیں اور متاثرین کے حوصلوں کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب ریاست میں مسلمانوں کے ووٹوں سے بننے والی سکیولر حکومت قائم ہے، اس دور میں ایسے واقعات کا ہونا شرمناک ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ریاستی حکومت نے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کیا

ریاست کی سابقہ کانگریس جے ڈی ایس حکومت کے دور میں کی گئی مبینہ ٹیلی فون ٹیپنگ کی سی بی آئی جانچ کے ا حکامات صادر کرنے کے دودن بعد ہی آج ریاستی حکومت نے کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

بنگلورو: نشے میں دھت شخص نے فٹ پاتھ پر 7 لوگوں کو کچل دیا

شراب کے نشے میں دھت ایک شخص نے بہت تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور فٹ پاتھ پر چل رہے 7 افراد اس کار کی زد میں آ گئے۔ زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور خبر لکھے جانے تک ان لوگوں کی حلات نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بینگلورو کے ایچ ایس آر لے آؤٹ علاقے کا ہے۔