مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ لے گا ’ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز‘، مہاراشٹر حکومت نے سونپی ذمہ داری

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2022, 8:48 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،23؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر کے اقلیتی ترقی کے محکمہ نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ٹی آئی ایس ایس) کو ریاست کے ان 56 شہروں میں، جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں، مسلم طبقہ کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی پر ایک مطالعہ کرنے کا کام سونپا ہے۔ ایک حکم نامہ میں محکمہ نے اس پروجیکٹ کے لیے 33 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ حکومت کی تجویز کے مطابق ’’اس مطالعہ میں مسلم کمیونٹی کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ساتھ ہی کمیونٹی پر ریاست کی تعلیم، صحت، روزگار، ہاؤسنگ، کریڈٹ تک رسائی اور بنیادی ڈھانچے کی پالیسیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔‘‘ رپورٹ کے مطابق محمود الرحمٰن کمیٹی کے بعد مسلم کمیونٹی پر یہ پہلا ریاست گیر مطالعہ ہوگا۔

مہاراشٹر حکومت کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اقتصادی اور تعلیمی ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے کے لئے ان کی ریاست میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ جائزہ لینے کی ذمہ داری ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو سونپی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ ٹاٹا ریسرچ کونسل، ممبئی نے مہاراشٹر میں 6 مقامی محصولات کمشنروں سمیت 56 کارکنوں کو شمار کیا ہے۔ انٹریوز اور طبقہ کے سروے کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 2008 میں اس وقت کی کانگریس-این سی پی حکومت نے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر محمود الرحمان کی سربراہی میں مہاراشٹر میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے، جس کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں پانچ سال لگے، مہاراشٹر میں مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو مایوس کن قرار دیا تھا۔ 2013 میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مہاراشٹر میں تقریباً 60 فیصد مسلمان خط غربت سے نیچے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کا حصہ صرف 4.4 فیصد تھا اور کمیونٹی میں گریجویٹس کی کل تعداد صرف 2.2 فیصد تھی۔

کمیٹی نے تعلیم اور ہاؤسنگ- سرکاری اور نجی دونوں میں مسلمانوں کے لئے ریاست میں 8 فیصد ریزرویشن کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ ریزرویشن کی سفارش کمیونٹی کے ایک بڑے طبقے کی تکالیف کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے۔ رحمان کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر، 2014 میں اس وقت کی کانگریس-این سی پی حکومت نے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور ملازمتوں میں مسلمانوں کے لیے 5 فیصد ریزرویشن کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی حکومت کے رخ میں تبدیلی نظر آئی۔

بمبئی ہائی کورٹ نے 14 نومبر کو اپنے فیصلے میں ملازمتوں میں 5 فیصد ریزرویشن کی شق کو ہٹا دیا لیکن کہا کہ مسلمانوں کو تعلیم میں 5 فیصد ریزرویشن ملنا چاہیے۔ 2014 میں اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت نے یہ کہتے ہوئے ریزرویشن کو نافذ کرنے کے لیے قانونی قدم نہیں اٹھایا کہ وہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی حمایت نہیں کرتی۔

ایک نظر اس پر بھی

گیان واپی مسجد معاملہ پر الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت، وارانسی عدالت کے فیصلہ پر 31 اکتوبر تک روک

  الہ آباد ہائی کورٹ نے وارانسی کی ایک عدالت کے گیانواپی مسجد کا اے ایس آئی سروے کرانے کے حکم پر لگی روک میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس پرکاش پاڈیا نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 18 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

انکیتا بھنڈاری کے ملزمین کی پیروی کرنے سے وکیلوں کا انکار، ضمانت عرضی پر سماعت ملتوی، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ تیز

اتراکھنڈ کے رشی کیش کی رہنے والی انکیتا بھنڈاری قتل واقعہ کے ملزمین پلکت آریہ، انکت اور سوربھ بھاسکر کی عدالت میں پیروی کرنے سے کوٹ دوار کے وکلا نے انکار کر دیا ہے۔ ک

نوٹ بندی کی آئینی درستگی کو چیلنج کرنے والی 59 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں 12 اکتوبر کو ہوگی سماعت

مودی حکومت کی جانب سے 2016 میں نافذ کی گئی نوٹ بندی کے آئینی جواز کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں 12 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سوال کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کیا باقی ہے؟ کیا اس معاملے کی جانچ کرنے کی ضرورت ...

یوپی: لکھیم پور کھیری میں دلخراش سڑک حادثہ، بس اور ٹرک کے تصادم میں 8 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

 اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں آج صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ معلومات کے مطابق بس اور ٹرک کے درمیان تصادم میں 8 افراد جاں بحق، جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے عیسی نگر تھانہ علاقے کی کھماریا پولیس چوکی کے نزدیک شاردا ندی کے پل پر درجنوں مسافروں ...

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کو لگا چونا! کاروباری پر عائد کیا 3.25 کروڑ کی ٹھگی کرنے کا الزام، پولیس میں درج کرائی شکایت

 بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور اداکار روی کشن مبینہ طور پر 3.25 کروڑ روپے کی ٹھگی کا شکار ہو گئے ہیں، اس واقعہ کی اطلاع پولیس نے دی ہے۔ گورکھپور صدر سے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے گورکھپور کینٹ تھانہ میں ایک بلڈر کے خلاف 3.25 کروڑ کی ٹھگی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا ہے۔

مرکزی حکومت کے ملازمین کو ملی سوغات، مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد کا اضافہ

مرکزی حکومت نے ایک کروڑ سے زیادہ سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والے افراد کو تہواروں کے موقع پر سوغات پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی بھتہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔