بھٹکل میں بارش کی وجہ سے 50ایکڑ سے زائد زرعی زمین برباد : دھان کی فصل پانی میں بہہ گئی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 19th August 2019, 6:14 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:19؍اگست(ایس اؤ نیوز) تعلقہ میں  سیلاب کے کم ہونے کے بعد بارش سےہونے والے نقصانات ظاہر ہونےلگے ہیں۔ موسلا دھار بارش اور طوفانی ہواؤں سے گرنے والے گھروں کی مرمت و درستی ایک طرف تو  کیچڑ میں تبدیل ہوئی زرعی زمین اور فصل کی بربادی دوسری دکھ بھری کہانی سنارہی ہیں۔

تعلقہ کے بینگرے ، المنے ، مرڈیشور سمیت کئی علاقوں کے کھیتوں میں نالوں کا پانی گھس جانے کے نتیجےمیں قریب 50ایکڑ سے زائد زمین پر کھڑی دھان کی فصل برباد ہوکر سڑ گل گئی ہے۔ ایک نظر کھیتوں پر دوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی کھیتی ہی نہیں کی گئی ہے۔ کسانوں کی طرف سے خریدے گئے بیج، زرخیزی کی محنت سب کچھ پانی میں بہہ گیاہے۔ سال بھر غذا کی فراہمی کرنےو الے کھیت اس طرح گدلے ہوجائیں تو کسانوں کی ابتر حالات کا کوئی جواب نہیں مل پارہاہے۔

ساحلی پٹی پر کھیتی کی زمین بہت ہی کم ہے ، کسانوں کے پاس سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین نہیں ہے۔ چھوٹی سی زمین پر ہی یہاں کے کسان کھیتی کرتےرہے ہیں۔ لیکن نفع نقصان کی وجہ سے کئی کسانوں نے کھیتوں میں ہی گھروں کی تعمیر کرتےہوئے دیگر ذرائع کی تلاش میں ہیں تاکہ زندگی کا گزارہ ہوسکے۔ ان وجوہات کی بنا پر ساحلی پٹی پر دن بدن زرعی زمین سکڑتی جارہی ہے۔کسان  پہلے سے زیادہ ابتر حالات سے گزر رہاہے۔ انہیں دوبارہ کھیتی کی طرف راغب کرنے میں وقت کی حکومتیں بھی ناکام ہورہی ہیں۔ ساحلی پٹی کےکسانوں کوا کثر نظر انداز کیا جاتارہاہے۔ کسان کا نام آتےہی منڈیا ، میسور کی طرف دیکھنا ساحلی سیاست دانوں کی عادت بن گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں کے زرعی مزدور سیاست دانوں کے چیلے بن جانے سے ان کے لئے جدوجہد کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ کسانوں کے آنسو سڑی ہوئی دھان کی فصل سے ٹپکتے ہوئے پانی کی طرح زمین میں جذب ہورہےہیں ان آنسوؤوں کے دکھڑے کو سمجھنے والا کوئی نظر نہیں آرہاہے ۔یہاں کے بد قسمت  کسانوں کا کہنا ہے کہ بینگرے علاقے میں قریب 8-10ایکڑ زرعی زمین مکمل طورپر برباد ہوگئی ہے۔ سب کچھ پانی میں بہہ گیاہے ۔ بینگرے گرام پنچایت کے صدر وینکٹیا بھئیرومنے نے مانگ کی ہے کہ حکومتیں یہاں کےکسانوں کی مشکلات پر توجہ دیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کے بیلکے گرام پنچایت حدود میں بار اینڈ ریسٹورنٹ کی مخالفت: دیہی عوام نے سونپا اے سی کو میمورنڈم

تعلقہ کے بیلکے گرام پنچایت حدود کے گورٹے کراس کے قریب نجی زمین پر بار اینڈ ریسٹورنٹ کی شروعات  کے لئے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔ اس کو کسی حال میں بھی منظوری نہ دینے کا مطالبہ لے کر علاقہ کے عوام نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم سونپا۔

مرڈیشور آر این ایس پالی ٹکنک میں محکمہ پولس کے زیراہتمام انسداد جرم اور سڑک تحفظ پروگرام : ضلع میں ہر دن ایک موت پر ضلع ایس پی شیوپرکاش کی تشویش

بھارت میں سڑک حادثات سنگین روپ لے رہےہیں، اترکنڑا ضلع میں ہردن ایک ہلاکت ہوتی ہے اور اس میں زیادہ تر کم عمر والے ہونے پر ضلع ایس پی شیوپرکاش دیوراج نے تشویش ظاہر کی۔

اترکنڑا ڈسٹرکٹ فٹ بال اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ فٹ بال لیگ ٹورنامنٹ میں بھٹکل کی بیفا ٹیم چمپئین

اترکنڑا ڈسٹرکٹ فٹ بال اسوسی ایشن نے کرناٹکا اسٹیٹ فٹ بال اسوسی ایشن کے اشتراک سے سرسی اور بیندور میں سالانہ فٹ بال لیگ چمپئین شپ 2020کا انعقاد کیا تھا ۔ 16فروری سے 23فروری تک منعقد ہوئے فٹ بال ٹورنامنٹ میں بھٹکل فٹ بال کلب نے چمپئین شپ کا خطاب جیتا۔

بھٹکل میں موٹر گاڑیوں کی بڑھتی تعداد۔ آمدورفت کی دشواریوں پر قابو پانے کے لئے ٹریفک پولیس اسٹیشن کا قیام اشد ضروری

بھٹکل شہر تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پرتیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہے۔ لیکن اس ترقی کے ساتھ یہاں پر موٹر گاڑیوں کی تعداد میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے جس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں اوراس سے سڑک حادثے بھی ...

اسمبلی الیکشن: الٹی ہو گئیں سب تدبیریں۔۔۔ آز: ظفر آغا

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں... جی ہاں، دہلی اسمبلی الیکشن جیتنے کی بی جے پی کی تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں اور آخر نریندر مودی اور امت شاہ کو کیجریوال کے ہاتھوں منھ کی کھانی پڑی۔ دہلی میں بی جے پی کی صرف ہار ہی نہیں بلکہ کراری ہار ہوئی۔

اسکول کا ناٹک ۔پولس حیلہ بازی کا ناٹک                        ۔۔۔۔۔۔بیدر کے شاہین اسکول کے خلاف ہوئی پولس کاروائی پر نٹراج ہولی یار کی خصوصی رپورٹ

بیدر کے شاہین اسکول میں کھیلے گئے ایک ڈرامے میں اداکاری کرنے والے   اسکولی بچوں سے بار بار پوچھ تاچھ کرنے والے  پولس  کا رویہ ، نہایت  خطرناک اور  خوف میں مبتلا کرنے والا ہے۔ ایک وڈیو کلپ پر انحصار کرتےہوئےمتعلقہ  ڈرامے میں شہری ترمیمی قانون کی تنقید کئے جانے اور وزیرا عظم کی ...