بھٹکل میں بارش سے متاثرہ عوام کی  پریشانی اور تکالیف میں کمی نہیں : مزدور، ماہی گیر سمیت عوام حالات سے متاثر

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 9th August 2019, 9:12 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل:9؍اگست   (ایس اؤ نیوز)تعلقہ میں ماہ اگست کے صرف 9دن گزرنے تک بارش کا پیمانہ روایت کے مطابق 70فی صد کو پہنچ چکا ہے۔بارش کے  رواں سال پہلے مہینے  کے 15دن بارش نہ ہونے سے جو نقصان ہواتھا وہ تقریباً پورا ہوگیا ہے۔ جمعہ کی صبح سورج کی  کرنیں گرچہ  اجالے اور راحت کی امید جتانےکے بعد بھی عوام کی تکالیف و پریشانیوں  کا کوئی حل نظر نہیں آرہاہے۔

تعلقہ میں برستی موسلادھار بارش کی وجہ سے 10ہزار سے زائد مزدور وں کی زندگی کا گزارہ مشکل ہوگیاہے، کمائی کے لئے دیہی علاقوں سے شہری بازار آنے والے چھوٹے موٹے بیوپاری بھیگ کر خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔ مزدور انتظار میں ہیں کہ تھوڑی سی بارش رک جائےتو کہیں کوئی کام مل جائے۔ مزدور وں کی حالت اتنی ابتر ہوگئی ہےکہ روزمرہ کی اشیاء خریداری کے لئے بھی پیسہ نہیں ہے۔ ماہی گیروں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ بھٹکل کی مچھلی مارکیٹ پچھلے چند دنوں سے ویران سی لگ رہی ہے۔ قریب 24000ماہی گیروں کے خاندان مشکلات میں گزارہ کررہے ہیں۔ مقامی سطح پر 537کشتیاں ، 207بوٹ ڈر کے مارے ساحل پر ہی لنگر ڈالےہوئے ہیں۔ جس کےنتیجے میں صرف ماہی گیر اور مزدور ہی نہیں بلکہ کئی ایک پر اس کے اثرات ہورہے ہیں، مارکیٹ میں بیوپار ماند پڑگیاہے۔

بھٹکل میں مچھلی کے قحط سے عوام سبزی ترکاری کی طرف رخ کرنےپر مجبور ہیں۔ یہاں کی  کہانی  کچھ اور ہی کہتی ہے،چونکہ شمالی کرناٹکا کے اکثر اضلاع سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں ،سبزی ترکاری بھی کم آرہی ہے تو ترکاری کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ٹماٹے فی کلو گرام 50روپئے سے زائد ہے تو آلو اور پیاز 30سے کم نہیں ہے۔ مقامی خواتین بھینڈی ، ترائی ،ککڑی وغیرہ جہاں تہاں فروخت تو کررہےہیں مگر یہاں بھی قیمتیں موقع کا فائدہ اٹھارہی ہیں۔ کلی طورپر کہاجاسکتاہےکہ پچھلے 15دنوں سے برستی موسلادھار بارش نے حقیقت میں عوامی زندگی کو مفلوج بنادیاہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔