کرناٹک کا سب سے اہم حلقہ گلبرگہ؛ کیا ا س بار کانگریس اپنا قلعہ بچا پائے گی..؟ (آز: قاضی ارشد علی)

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 19th April 2019, 11:01 PM | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ملک بھر میں چل رہے 17ویں لوک سبھا کے انتخابات کے دو مراحل مکمل ہوچکے ہیں ۔تیسرا مرحلہ 23؍اپریل کو مکمل ہوگا ۔ریاستِ کرناٹک کے28پارلیمانی حلقہ جات میں سے14حلقہ جات میں رائے دہی مکمل ہوچکی ہے ۔باقی رہ گئے14حلقہ جات میں الیکشن پروپگنڈہ زوروں پر ہے۔18؍اپریل کو ہوئے14حلقہ جات میں انتخابات میں سے کچھ اہم حلقہ جات بھی تھے۔ جن میں ٹمکور حلقہ سے سابق وزیر اعظم مسٹرایچ ڈی دیوے گوڑا مقابلہ کررہے ہیں ‘حلقہ بنگلور(شمال) سے مرکزی وزیر مسٹر سدانند گوڑا بی جے پی اُمیدوار ہیں ۔

23؍اپریل کو منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی متعدد اہم شخصیات انتخابی میدان میں نظر آرہے ہیں جن میں گلبرگہ سے کانگریس کے قد آور قائد لوک سبھا میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈر مسٹرملیکا رجن کھرگے بھی شامل ہیں۔ جو12 ویں مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔اس سے قبل 9مرتبہ کرناٹک اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لئے اور ہر بار کامیاب رہے ۔2009کے پارلیمانی انتخابات میں انھیں کانگریس اُمیدوار بنایا گیا ‘اس میں بھی وہ کامیاب رہے2014میں چلی مودی لہر کا بھی مقابلہ کئے اور کامیاب رہے ‘اس طرح کاریکارڈ شائد ہی ہندوستان میں اور کسی کاہو۔کسی دلت رہنما نے12انتخابات میں حصہ لیا اور ایک بھی شکست کا منہ نہیں دیکھا۔ 

حلقہ انتخاب کلبرگی اس کا پہلے نام گلبرگہ ہوا کرتا تھا ‘آج بھی لوگ گلبرگہ کے نام سے جانتے ہیں ۔ہندوستان میں ہوئے پہلی لوک سبھا کے انتخابات 1951-52سے یہ پارلیمانی حلقہ وجود میں آیا ہے۔گلبرگہ کے پہلے ایم پی اُس وقت کی ریاست حیدرآباد کے اسٹیٹ کانگریس صدر سوامی راما نند تیرتھ تھے۔ اس سے گلبرگہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔گلبرگہ 1337ء میں بہمنی حکومت کا پایہ تخت بنا تھا اور کئی سال تک بہمنی سلطنت کا دارالخلافہ رہنے کے بعد بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بیدر منتقل ہوا تھا۔اس کے بعد یہ شہر صوبہ کا صدر مقام بنا پھر ریاستِ حیدرآباد کے ہندوستان مںے شامل ہونے کے بعد 1948ء میں ڈیویژن ہیڈکوآرٹر کی حیثیت سے ترقی کرتا گیا ۔

گلبرگہ میں دو یونیورسٹیاں قائم ہوگئیں ‘میڈیکل اور انجینئرنگ کالجس قائم ہوئے ‘اس طرح یہ تعلیمی مرکز بن گیا ہے۔

سیاسی اعتبار سے گلبرگہ کرناٹک کے اقتدار میں بہت بڑا حصہ حاصل کیا ہے۔ گلبرگہ سے کرناٹک کے دو وزیر اعلی عہدہ پر فائز رہے ۔ویریند رپاٹل دو مرتبہ وزیر اعلی بنے تھے ‘اور دھرم سنگھ وزیر اعلی بننے والے دوسرے نمبر پر تھے۔سابق تین دہوں تک گلبرگہ کی سیاست پر دھرم سنگھ اور کھرگے کی جوڑی چھائی رہی‘ جس کا نتیجہ پسماندہ طبقات کو ریاست کے اقتدار میں بڑی حد تک شامل ہونے کا موقع ملا ۔

جاریہ عام انتخابات کے پس منظر میں گلبرگہ کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں سے ملیکار جن کھرگے کانگریس اُمیدوار ہیں جنھوں نے گذشتہ پانچ سال سے لوک سبھا میں بی جے پی کا مقابلہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے کھرگے ہی تھے جنھو ں نے مودی کے تیکھے اور چُبتے ہوئے سوالوں کا اُتنی ہی شدت سے جواب دیا۔ عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ کرناٹک کے یا جنوبی ہندوستان سے جو بھی قائد نئی دہلی کی سیاست میں آتا ہے وہ اُتنا جارحانہ رُخ اختیار نہیں کرتا جتنا کھرگے نے اختیار کیا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ زبان کا مسئلہ بھی ہوتاہے۔ جنوب سے منتخب ہونے والے نمائندوں کو ہندی ‘اُردو نہیںآتی اور شمال والوں کو انگریزی نہیں آتی۔اسی طرح رابطہ قائم نہیں ہوپاتا۔جنوب کے لوگ اپنی بات سمجھا نہیں سکتے ‘شمال کے لوگ سمجھ نہیں سکتے۔جہاں تک ملیکارجن کھرگے کا معاملہ ہے اُن کی مادری زبان مرہٹی ہے اور ان کی ساری زندگی اُردو بولنے والوں کے درمیان گزری ہے اسی لئے وہ روانی سے ہندی میں تقریر کرسکتے ہیں ‘اپنی تقاریر میں ضرورت کے حساب سے اُردو اشعار کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے انھوں نے لوک سبھا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔ کھرگے کی یہی طاقت اور انتخابات ہر حال میں جیتنے کی روایت آج ان کے دشمن کی نشانہ بنتی آرہی ہے۔سیاسی حلقوں میں چاہے کانگریس ہو یا دیگر پارٹیوں میں کھرگے کے تعلق سے بغض و کنہ رکھنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے۔45سال طویل سیاسی زندگی گزارنے والے ملیکارجن کھرگے کے کئی دوست ہیں تو متعدد دشمن بھی ہیں۔سیاسی مفاد حاصل کرنے والوں کی مسابقت میں دوستی دشمنی لازمی ہے۔ پھر بھی کھرگے الیکشن کے پیچ و ختم سے واقف ہیں ۔اُنھیں پتہ ہے کہ کس کو دوست بنانا ہے اور کس کو نظر انداز کرنا ہے۔ جاریہ انتخابات کھرگے کی اسی سمجھ بوجھ پر منحصر ہیں۔

جہاں تک حلقہ انتخاب گلبرگہ کا تعلق ہے ‘اس میں8اسمبلی حلقہ جات آتے ہیں ۔گلبرگہ (شمال)‘ گلبرگہ(جنوب)‘ گلبرگہ(دیہی)‘سیڑم‘جیورگی ‘افضل پور ‘چیتا پور اور گرمٹکل ۔ان 8حلقہ اسمبلی میں4پر کانگریس ایم ایل ایز ہیں‘3پر بی جے پی اور ایک پر جنتادل(ایس) کے ایم ایل ایز ہیں۔آبادی کے حساب سے سب سے زائد دلت رائے دہندوں کی تعداد ہے ‘اُس کے بعدمسلمانوں کی تعداد 20-22فیصد ہے۔ لنگایت 15فیصد ہیں۔ دیگر پسماندہ طبقات کربا‘کولی‘ وغیرہ کی تعداد بھی کافی ہے۔ویسے بھی تعلیمی اداروں ‘انڈسٹریز اور بزنیس پر لنگایت طبقہ کا قبضہ ہے۔ حیدرآباد کرناٹک کے دیگر اضلاع کی طرح سیاسی دنیا میں بھی لنگایت طبقہ کے لوگ چھائے ہوئے ہیں ‘لیکن تعداد میں کمی کے باعث اقتدار میں حصہ داری محدود رہی ہے۔ویریندر پاٹل کے بعد کوئی بڑالنگایت لیڈر نہیں اُبھرا ہے۔اس کا فائدہ ملیکارجن کھرگے اور دھرم سنگھ کی جوڑی کو ہوتا رہا ہے۔

عام طورپر مسلمانوں اور دلتوں کی تعداد کافی ہونے سے علاقہ حیدرآباد کرناٹک میں بی جے پی کو اُتنی زمین حاصل نہیں ہوئی جو بلگام ڈیویژن یا دیگر علاقہ جات میں حاصل ہوئی ہے۔اسی لئے آج تک بھی بی جے پی قیادت میں حیدرآباد کرناٹک علاقہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔لیکن جب سے ملیکارجن کھرگے لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر بنے ہیں تب سے قومی سطح پر ان کا نام اُبھر نا شروع ہوا ہے تب سے قومی و ریاستی سطح پر بی جے پی ملیکارجن کھرگے پر نظر رکھنے لگی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ملیکارجن کھرگے کو ہرانے کی تیاری دو سال پہلے سے ہی شروع ہوگئی تھی۔کرناٹک پردیش بی جے پی نے ایک منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا شروع کیا ہے۔ ا س کیلئے پارٹی کے ایک جنرل سکریٹری کو مقرر کیا ہے جن کا نام روی ہے۔ دو سال سے کھرگے کے مقابل صحیح اُمیدوار کی تلاش کی جارہی تھی ‘بی جے پی میں تو کوئی ایسا اُمیدوار نہیں تھا جو کھرگے کو ٹکر دے سکے۔ اسی لئے چنچولی کے کانگریس ایم ایل اے اُمیش جادھو کو منتخب کیا گیا ‘حالانکہ اُمیش جادھو کوئی سیاسی امیج نہیں رکھتے ۔انھوں نے سرکاری ڈاکٹر کی حیثیت سے 25-30سال تک گلبرگہ ضلع کے باہر کام کیا ہے۔ اور2008ء میں جب ڈی لمیٹیشن ہوا اور گُلبرگہ کو ایس سی ریزرو declaredکیا گیا تب ڈاکٹر اُمیش جادھو نے اپنے عہدہ سے استعفی دے کر کانگریس میں شمولیت اختیارکی۔سابق وزیر اعلی مسٹر دھرم سنگھ کی طفیل 2013کے اسمبلی انتخابات میں اُنھیں چنچولی حلقہ انتخاب سے کانگریس کا ٹکٹ حاصل ہوا ۔اوروہ کامیاب ہوئے۔سابق وزیر اعلی سدارامیا نے اُنھیں پارلیمنٹری سکریٹری بنایا ۔2018ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں ڈاکٹراُمیش جادھو کانگریس کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوئے۔اور شائد منسٹر بننا چاہتے تھے ‘نہیں بن سکے ۔ا س بات کا غصہ تھا کہ وہ کانگریس چھوڑ کر آج بی جے پی کے اُمیدوار ہیں اور ملیکارجن کھرگے جن کو وہ اپنا گرو کہتے تھے انکے مقابلہ میں بی جے پی کا حربہ بنے ہوئے ہیں ۔

گلبرگہ الیکشن ملیکارجن کھرگے اور اُومیش جادھو کے درمیان نہیں بلکہ ملیکارجن کھرگے اور نریند رمودی کے درمیان ہے‘کیونکہ ملیکارجن کھرگے نے5سال تک لوک سبھا میں مودی کا مقابلہ کیا ہے۔ اگران انتخابات میں کھرگے کو ہرایا جاتا ہے تو سیکولرزم اور آئین کو ختم کرنے والی طاقتوں اور آئین کو بچانے والی طاقتوں کے درمیا ن جو جنگ چل رہی ہے گلبرگہ اُس کی ایک مثال ہے ۔ اگر بی جے پی کامیاب ہوتی ہے تو ملک بھر میں سیکولرزم اور آئین کو بچانے والوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔کمزور طبقات اور اقلیتوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ مضمون کسی کی تائید یا مُخالفت میں نہیں بلکہ ملک کے کمزور طبقات کو انصاف دلانے کیلئے لکھا جارہا ہے۔ ہر اُس آدمی کوچاہے وہ کسی قوم کا‘ ذات کا ‘طبقہ کا ہو اُسے چاہئے کہ اس جنگ میں شامل ہوکر آئین کے تحفظ کیلئے کی جارہی جدوجہد کو طاقت دیں ۔جس کیلئے ووٹ دینا ضروری ہے۔جہاں تک ہوسکے زیادہ سے زیادہ ووٹ دیں۔ الیکشن کے دن گھر بیٹھے رہنا کسی بھی حالت میں دانشمندی کاکام نہیں ہے۔ہمیں اُمیدہے کہ کرناٹک اور خصوصا گلبرگہ کے لوگ کے رائے دہندے اپنی دور اندیشی اور دانشمندی کا ثبوت دیں گے۔

مضمون نگار جناب قاضی ارشد علی، بیدر، کرناٹک کے سابق رکن قانون ساز کونسل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

روشن بیگ کے گھر پرسی بی آئی کا چھاپہ، سابق وزیر کی عرضی ضمانت پر سماعت 25نومبر تک ملتوی

آئی ایم اے کیس کے سلسلہ میں اتوار کے روز سی بی آئی کی طرف سے گرفتار سابق وزیر روشن بیگ کی رہائش گاہ پر پیر کی صبح سی بی آئی افسروں نے چھاپہ مارا اور وہاں کافی دیر تک تلاشی لینے کے بعد لوٹ گئی۔

ریاست کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں میں نئے اراکین اسمبلی نے حلف اٹھایا

است کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں، آر آر نگر اور سرا میں حال ہی میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے منی رتنا اور ڈاکٹر راجیش گوڑا نے اراکین اسمبلی کی حیثیت سے حلف لیا۔ ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں منعقدہ ایک سادہ تقریب میں اسمبلی اسپیکر ویشویشور کاگیری نے دونوں نئے ...

ڈاکٹر کے نارائن راجیہ سبھا کے لئے بلامقابلہ منتخب

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر ڈاکٹر کے۔ نارائن پیر کے روز راجیہ سبھا میں بلامقابلہ منتخب قرار دیئے گئے۔ریاستی سکریٹریٹ ودھان سودھا کے سکریٹری وشالکمشی نے ڈاکٹر نارائن کو راجیہ سبھا کے لئے بلامقابلہ منتخب قرار دیا۔

دیوالی تہوار کے موقع پر بھٹکل میں  تیز ہوئی ہے آن لائن خریداری۔ مقامی دکاندارو ں کا متاثر ہونا یقینی !

دیوالی تہوار کے موقع پر  بازاروں میں دکاندار اپنی دکانیں اس امید میں سجائے بیٹھتے ہیں کہ اس موسم میں خوب کمائی کریں گے اور مندی کے دنوں کا خسارہ پورا کرلیں گے۔ امسال تو ویسے بھی پچھلے سات آٹھ مہینوں سے کورونا وباء اور لاک ڈاؤن نے ہر جگہ کمر توڑ رکھی ہے تو ظاہر ہے کہ دیوالی کے ...

بہار میں جنگل راج کا  تازہ نمونہ: ہندو لڑکے سے  شادی کرنے سے انکارپر زندہ جلادی گئی مسلم دوشیزہ 

بہار میں  بی جے پی کی حمایت یافتہ این ڈی اے کی حکومت نے نتیش کمار کی قیادت میں پھر از سرنو اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی  دو دن بھی نہیں گزرے ہیں ، مگر وہاں پیش آنے  والی  وحشت اور بربریت کی تازہ واردات نے امن پسند شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

ضلع شمالی کینرا میں سست رفتاری سے ہورہی ہے نیشنل ہائی وے کی توسیع لیکن ٹول وصولی جاری

زشتہ 7 سال سےنیشنل ہائی وے ۶۶کو فورلین میں تبدیل کرنے کا جو منصوبہ چل رہا ہےوہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ اب ضلع شمالی کینرا میں جو کام چل رہا ہے   تو اس کی رفتار  کچھوے جیسی ہوگئی ہے۔حالانکہ اس منصوبے کو 5سال کی مدت میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا، لیکن سست رفتاری کو اگر دیکھیں ...

رجا راجیشوری نگر اور سرا کے نتائج؛ کرناٹک کی تینوں سیاسی جماعتوں کے لئے سبق ۔۔۔۔ خصوصی تجزیہ : ناہید عطاء اللہ

کرناٹک کے دو اسمبلی حلقوں سرا اور راجا رجیشوری نگرا اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخابات کے نتائج نے کرناٹک کی تینوں اہم سیاسی جماعتوں کو سبق سکھایا ہے کہ ہر اسمبلی حلقوں میں عوام کو ایسے امیدوار کی ضرورت ہے جو ان سے قریب رہ کر کام کرسکتا ہے۔

ارنب نے جو بویا وہ کاٹ رہے ہیں، اب یہ چیخ چلّاہٹ کیوں!۔۔۔۔ از: ظفر آغا

صاحب ایک مثال ہے ’سوپ تو سوپ چھلنی بولے جس میں چھید بہتّر!‘ یہ مثال اس وقت اس بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر صادق آتی ہے جو ریپبلک ٹی وی کے مشہور و معروف اینکر ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر ماتم منا رہی ہے۔