آئی ایم اے کے اثاثوں کو نیلام کرنے حکومت کا فیصلہ، کامپٹنٹ اتھارٹی کے ذریعہ سرمایہ کاروں کو رقم لوٹانے کی طرف پہلا قدم

Source: S.O. News Service | Published on 12th November 2019, 10:52 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12؍نومبر(ایس او  نیوز) کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ کے مرحلے میں ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے آئی ایم اے کے سربراہ منصور خان کے جن اثاثوں کو ضبط کیا گیا ان کوریاستی حکومت نے نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس معاملہ کی سی بی آئی کی طرف سے تحقیق جاری ہے۔ اس مرحلے میں یہ جانکاری ملی ہے کہ منصورخان نے اپنی بیویوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام پر بھی جائیدادیں حاصل کی ہیں،ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی منصور خان کی املاک موجود ہے جن کے بارے میں ایس آئی ٹی اور اس کے بعد سی بی آئی نے کافی معلومات یکجا کی ہیں۔منصورخان اوران کی کمپنیوں کے اثاثوں کی ضبطی اور ان کی نیلامی کے لئے بنگلور و ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے ایک کامپٹنٹ اتھارٹی کا قیام پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی کی طرف سے ضبط شدہ املاک کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ضبط شدہ املاک کی مجموعی قیمت کم از کم 350کروڑ روپے کی ہو سکتی ہے۔ آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو دھوکہ دے کر جس طرح منصور خان نے ملک سے راہ فرار اختیار کی اور اس کے بعد ریاستی پولیس کی ایس آئی ٹی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے منصورخان کو ملک واپس لانے کے لئے جد وجہد کی اس کے بعد سے اس امر پر کسی کی توجہ ہی نہیں جارہی تھی کہ منصورخان کو تو گرفتار کیا جا چکا ایس آئی ٹی اور سی بی آئی جانچ کر رہی ہے لیکن جن سرمایہ کاروں نے اس کمپنی میں اپنی رقم لگائی تھی ان کا کیا ہو گا۔ لیکن ریاستی حکومت نے اس معاملہ میں خوش آئند موقف اپناتے ہوئے اب منصور خان کے اثاثوں کو نیلام کر کے سرمایہ کاروں کی رقم لوٹانے کے لئے پہل کی ہے۔ کامپٹنٹ اتھارٹی کی طرف سے نیلامی کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقم سے کس بنیاد پر سرمایہ کاروں کی رقم لوٹائی جائے گی ان تمام کے لئے حالانکہ اب تک کوئی رہنما خطوط وضع نہیں کئے ہیں۔اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے رہنما خطوط وضع ہونے کے بعد یہ طے ہو گا کہ کن سرمایہ کارو ں کو کس بنیاد پر اور کتنی رقم لوٹائی جائے گی۔ اس دوران سرکاری ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کامپٹنٹ اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ آئی ایم اے معاملہ میں جتنی بھی شکایتیں درج ہوئی ہیں ان تمام کا بغور جائزہ لیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم اے میں سرمایہ کاری کرنے اور انہیں رقم نہ لوٹانے کے سلسلے میں منصور خان کے فرار ہونے کے بعد تقریباً 52ہزار شکایتیں درج ہوئی ہیں لیکن ایس آئی ٹی اور سی بی آئی کی پوچھ گچھ کے دوران منصور خان اور ان کی کمپنی کے ڈائرکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مختلف کمپنیوں میں سرمایہ لگانے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہے۔ ن میں سے ہو سکتا ہے کہ بہت ساری شکایتیں ان سرمایہ کاروں کی ہوں جنہوں نے اپنا سرمایہ پہلے ہی واپس لے لیا ہو۔ اس سلسلہ میں سی بی آئی کی طرف سے آئی ایم اے کے کمپیوٹرس سے ڈاٹابرآمدکیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کامپٹنٹ اتھارٹی اس ڈاٹا کی بنیاد پر تمام شکایتوں کا جائزہ لے گی جس میں یہ پتہ چل جائے گا کہ آئی ایم اے میں کتنے سرمایہ کاروں کی رقم ہے اور جن لوگوں نے شکایتیں درج کی ہیں ان میں سے کتنوں نے اپنا سرمایہ واپس نکالا ہے ساتھ ہی کتنی شکایتیں فرضی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکام نے نہ صرف آئی ایم اے سے برآمد کئے گئے ڈاٹا بلکہ آئی ایم اے کی طرف سے سرمایہ کاروں کو رقم جن بینک کھاتوں سے اداکی گئی ان کی تفصیلات کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ سرمایہ کار جنہوں نے آئی ایم اے سے رقم نکال لینے کے بعدبھی شکایت درج کرائی ہے ان کی نشاندہی کر کے انہیں الگ کیا جائے او راس کے بعد حقیقی سرمایہ کاروں پر مشتمل ایک فہرست تیار کی جائے جن کو رقم لوٹانے کے لئے ضروری قدم اٹھائے جا سکیں۔کامپیٹنٹ اتھارٹی کی طرف سے جو قدم اٹھایا جا رہا ہے ممکن ہے کہ اس کے پورا ہونے میں کافی وقت لگے۔ یہ ابھی کہنا اتنا آسان نہیں ہے کہ کتنی مدت تک سرمایہ کاروں کو ان کی رقم مل سکے گی لیکن رقم لوٹانے کے لئے اثاثوں کی نیلامی کے فیصلے کے ساتھ شروعات ہو چکی ہے-

ایک نظر اس پر بھی

مرکزی حکومت کے خلاف 8/جنوری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) نے تعلیم، روزگار، خواتین کے حقوق کی پامالی، معاشی شعبہ میں گراوٹ اوربے روزگاری کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام مرکزی حکومت کے خلاف 8/جنوری کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے-

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہلیال میں دیا گیا میمورنڈم

مرکزی حکومت کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی بل منظور کیے جانے کے خلاف ہلیال میں جمیت العلماء الہند ضلع کاروارکے پرچم تلے مسلمانوں اور غیر مسلم ایس سی / ایس ٹی لیڈروں نے مشترکہ طور پر تحصیلدار کی معرفت سے صدر ہند کو میمورنڈم پیش کیا۔

شہریت ترمیمی بل کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکامسلم متحدہ محاذ کے زیر اہتمام ملّی و سماجی تنظیموں کا زبردست احتجاجی مظاہرہ

سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والے مرکزی حکومت کے شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکا متحدہ محاذ کے زیر اہتمام دوپہر 12بجے ٹاؤن ہال کے پاس ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔