آئی ایم اے سے منسوب مبینہ منصور خان کی خودکشی کی دھمکی کا آڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی ریاست کرناٹک کے عوام میں افراتفری؛ روشن بیگ نے الزامات کو کیا مسترد

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th June 2019, 10:12 PM | ریاستی خبریں | ساحلی خبریں |

بنگلور 10/جون (ایس او نیوز)  آئی ایم اے جیولس کے  مینجنگ ڈائرکٹر اور اس کے کرتا دھرتا منصور خان  سے وابستہ    ایک آڈیوکلپ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی بنگلور کمرشیل اسٹریٹ میں واقع آئی ایم اے جیولس شوروم کے باہر پیر کو سینکڑوں انویسٹرس جمع ہوگئے،  جنہوں نے اس کمپنی کے لئے   لاکھوں روپیہ سرمایہ کاری کی ہے۔ مگر منصور خان کہاں ہے اس کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔بتایا گیا ہے کہ آڈیو وائرل ہونے کےساتھ ہی منصور خان بھی غائب ہوگئے ہیں اور پولس ان کی تلاش میں جٹ گئی ہے۔

وائرل ہونے والی آڈیو کے تعلق سے عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آواز  منصور خان کی ہی ہے مگر پولس نے ابھی اس کے اصلی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے   جس میں انہوں نے  سابق وزیر اور سنئیر کانگریس لیڈر روشن بیگ پر چار سو کروڑ روپئے  لینے کا الزام لگایا ہے  اور کہا ہے کہ  پارٹی کی   ٹکٹ حاصل کرنے  میں ناکام ہونے کے بعد انہوں نے یہ رقم واپس نہیں لوٹائی ہے، اس لئے وہ خود کشی کرنے جارہے ہیں۔ 

آج جیسے ہی یہ  آڈیو منظر عام پر آیا جس میں آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان سے منسوب یہ بات کہی گئی کہ وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔آئی ایم اے کے سرمایہ کاروں میں افراتفری مچ گئی، کیونکہ آئی ایم اے کے ذمہ داروں نے آج آئی ایم اے کے دفاتر اور زیورات کا شوروم وغیرہ کھولنے کا اعلان کیا تھا، لیکن جب یہ شورومس آج غالباً سکیورٹی وجوہات کے باعث نہیں کھلے تو لوگوں کی بے چینی اور بڑھ گئی۔

اس دوران  آڈیو اور میڈیا کے مختلف چینلوں پر یہ خبر کہ محمد منصور خان ملک چھوڑ چکے ہیں۔ آگ  پر تیل کا کام کرگئی۔ کیونکہ اس سارے انتشار کو ختم کرنے کے لئے کمپنی کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آئی تھی، لیڈی کرزن روڈ، جمعہ مسجد روڈ، اور بورنگ اسپتال روڈ پر جمع سرمایہ کاروں کی بھیڑ کی صبر کا دامن ٹوٹتا نظر آیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کمرشل اسٹریٹ پولیس کی طرف سے سرمایہ کاروں کو آئی ایم اے کمپنی میں سرمایہ کاری کے متعلق اپنے دستاویزات کی نقل پولیس کے سپرد کرنے اور اگر کوئی شکایت ہوتو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

دیر شام ملی اطلاع کے مطابق ایک ہزار سے زائد لوگوں نے اپنے دستاویزات کی نقول پولیس حکام کے سپرد کیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس انیل کمار نے بھی جو آئی ایم اے ٹاور کے پاس موجود تھے کل دیر رات منظر عام پر آنے والے مبینہ آڈیو کے اصلی ہونے پر شبہ ظاہر کیا اور کہاکہ اس معاملے کی جانچ کافی سختی سے کی جائے گی۔ انہو ں نے لیڈی کرزن روڈ پر احتجاج کے لئے جمع سرمایہ داروں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ آئی ایم اے کے دفاتر فی الوقت بند ہیں اسی لئے ان کے سامنے کھڑے رہنے یا احتجاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اگر ان کی کوئی شکایت ہے تو پولیس کی طرف سے کیمپ لگایا گیا ہے وہ وہاں پہنچ کر اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں۔ ڈی سی پی کی اس اپیل کو بھی لوگوں نے ان سنا کردیا اور دیر شام تک بڑی تعداد میں لوگ آئی ایم اے ٹاور کے پاس جمع رہے۔ 

مجھ پر 400کروڑ روپے لینے کا الزام  من گھڑت،تحقیقات کا سامنا کرنے تیار؛ روشن بیگ کی وضاحت
 سینئر کانگریس لیڈر اور شیواجی نگر کے رکن اسمبلی  روشن بیگ نے آئی ایم اے گروپ آف کمپنیز کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان سے منسوب  آڈیو میں 400کروڑ روپے لینے کے متعلق عائدکئے گئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس آڈیو کی سختی سے جانچ کی جائے۔ ضرورت پڑنے پر انہوں نے ان الزامات کی کسی بھی ایجنسی کے ذریعے جانچ کا سامنا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

 سوشیل میڈیا میں محمد منصور خان سے منسوب  وائرل   آڈیو کے منظر عام پر آتے ہی نہ صرف شہر بنگلور بلکہ ریاست بھر میں مچی افرا تفری کو دیکھتے ہوئے دہلی میں اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے  سابق وزیر اور رکن اسمبلی  روشن بیگ نے آڈیو میں لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئی ایم اے گروپ کی تجارت یا اس کے مالی لین دین سے ان کا  کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم اے گروپ کی سماجی خدمات کی حد تک ان کی وابستگی رہی ہے۔بالخصوص شیواجی نگر میں سرکاری وی کے عبید اللہ اسکول کی پی پی پی ماڈل کی بنیاد پر تعمیر اور اس کا انتظامیہ چلانے میں آئی ایم نے جو نمایاں خدمت انجام دی ہے، اس کو انہوں نے بارہا سراہا ہے۔خود ریاست کے وزیر اعلی نے اس اسکول کا افتتاح کیا اور انہوں نے بھی اس کام کی ستائش کی تھی۔ اس کے علاوہ آئی ایم اے کے کسی بھی کاروبار یا مالی لین دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

بھٹکل سے بھی کافی لوگوں نے کی ہے آئی ایم اے میں سرمایہ کاری:   خبر ملی ہے کہ بنگلور کی آئی ایم اے  کمپنی میں بھٹکل سے  بھی کافی لوگوں نے سرمایہ کاری کی ہے، سننے میں آیاہے کہ گلف میں مقیم کافی لوگوں نے  دس دس لاکھ روپیہ لگایا ہے، ایک شخص نے بتایا کہ اُس نے  24 لاکھ روپیہ آئی ایم اے میں لگایا ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے پانچ پانچ لاکھ اور کافی لوگوں نے ایک ایک لاکھ روپیہ  سرمایہ کاری کی ہے، ایک اندازے کے مطابق بھٹکل سے سو کروڑ سے بھی زائد رقم اس کمپنی میں لگائی گئی ہے۔ اس بات کی بھی خبر ملی ہے کہ حال ہی میں ہیرا گولڈ ، ایمبیڈینٹ اور  فلولیس کمپنی میں  دھوکہ دہی کی باتیں سامنے آنے کے بعد کافی لوگوں نے اپنا سرمایہ نکال بھی لیا تھا۔ اب جن لوگوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے ،  آج کی خبر کے بعد  کافی لوگوں کے ہوش اُڑ گئے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

گجرات کے سورت سے نکلی ٹرین ، بہار کے چھپرا کے بجائے پہنچی کرناٹک کے بنگلورو: مزدورں کا حال بے حال

لاک ڈاؤن کی مدت میں مزدوروں کو ان کے وطن لوٹانے گجرات سے نکلی ایک مزدور ٹرین (شریمک ریل ) بہار پہنچنے کے بجائے کرناٹکا کے بنگلورو پہنچ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ گرچہ یہ ایک مذاق لگتا ہے مگر ہے حقیقت۔ اسی طرح اور ایک خصوصی مزدور ریل گجرات کے سورت سے 1200مزدوروں کو لے کر بہار کے ...

کیا کرناٹکا میں یکم جون سے مسجد، گرجا گھر اور مندروں کو کھولنے کی دی جائے گی اجازت ؟

کورونا وائرس کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ملک میں لاک ڈاؤن لاگو ہے۔لاک ڈاؤن 4.0 میں حکومت کی جانب سے بہت سی مراعات دی گئی ہیں، تاہم مندر، مسجد کو لے کر پابندیاں جاری ہیں لیکن حکومت نے لاک ڈاؤن میں رعایت کو لے کر ریاستوں کو بھی فیصلہ لینے کا حق دیا تھا۔دریں اثنا کرناٹک ...

حاملہ خاتون کی رپورٹ  کورونا پوزیٹو آنے پر  ہوسکوٹے کے ایک گائوں میں4 ہزار لیٹر دودھ نالی میں بہادینے کی واردات

کرناٹک کے ہوسکوٹے کے قریب چکّا کوریٹی گاؤں کے دودھ تیار کرنے والے کسانوں کو مجبوراً 4ہزار لیٹر دودھ نالی میں بہا دینا پڑا کیونکہ گاؤں میں کورونا کا مریض ہونے کی وجہ سے فیڈریشن نے دودھ لینے سے انکار کردیا۔

کرناٹک میں مجموعی طورپر100افراد میں کورونا کی تصدیق؛ تعداد بڑھ کر ہوگئی 2282

آج منگل کو کرناٹک میں مجموعی طورپر100افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے‘ جبکہ 17افراد کورونا کو شکست دے کر اپنے گھر واپس چلے گئے ہیں۔ آج سو لوگوں کی رپورٹ پوزیٹو آنے کے ساتھ ہی ریاست میں مریضوں کی جملہ تعداد بڑھ کر 2282 ہوگئی ہے جن  میں سے722افراد علاج کے بعد صحت مند ہوکر اسپتال سے ...

ضلع اُترکنڑا میں کورونا کےپھر 6 معاملات؛سداپور میں بھی پہنچ گیا کورونا

ضلع اُترکنڑا میں آج بدھ کو مزید چھ  کورونا پوزیٹو معاملات سامنے آنے کے ساتھ ہی  ضلع میں کورونامتاثرین کی تعداد بڑھ کر 73 ہوگئی ہے۔  ضلع میں انکولہ، ہلیال اور سداپور  ایسے تعلقہ جات تھے جہاں اب تک کورونا نے دستک نہیں دی تھی، مگر آج سداپور کے ایک شخص میں بھی کورونا کے اثرات ...

بھٹکل میں خدمات انجام دینے والے کورونا کے خصوصی آفسر ڈاکٹر شرتھ نائیک اب ہوں گے ضلع ہیلتھ آفسر

بھٹکل میں کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے کاروار سے ڈاکٹر شرتھ نائیک کو بھٹکل روانہ کرکے انہیں نوڈل آفسر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اُنہیں اب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کے طور پرخدمات انجام دینے والے  ڈاکٹر ...

بھٹکل میں ایک شخص نے کی خودکشی

یہاں آزادنگر فورتھ کراس میں ایک 22 سالہ نوجوان نے گھر کے ایک کمرے میں ہی  چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی جس کی شناخت محمد مستقیم شیخ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

بھٹکل کے کورونا سے متاثرہ مزید چار لوگ صحت یاب ہوکر کاروار اسپتال سے ڈسچارج؛ پہنچے بھٹکل

مینگلور اسپتال لنک کے جن 29 لوگوں کو کاروار کمس اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا، اُس میں سے 20 لوگوں کو سنیچر کے دن اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا ، اُن ہی میں سے مزید چار لوگوں کو آج کمس  سے ڈسچارج کیا گیا ہے۔ چاروں بذریعہ ایمبولنس آج منگل کو بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچے جہاں سے ضروری ...

بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور سابق ایم ایل اے کے تعاون سے کیا گیا مہاجر مزدوروں کی روانگی کا انتظام

اوڈیشہ اور جھار کھنڈ کے سیکڑوں مزدور جو ماہی گیری اور دیگر سرگرمیوں میں خدمات انجام دے رہے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان تھے ان کو اپنے گھروں کے لئے روانہ کرنے کا انتظام بھٹکل تعلقہ انتظامیہ اور سابق ایم ایل اے منکال وئیدیا کی جانب سے کیا گیا۔