روشن بیگ،آئی ایم اے گھپلہ میں کسی بھی جانچ کا سامنا کرنے تیار؛ کہا، منصورخان سے میرے کاروباری تعلقات نہیں -غریبوں کی رقم واپس دلوانے میں بھرپورتعاون کروں گا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 10:46 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍جون(ایس او نیوز) سابق ریاستی ورکن اسمبلی آرروشن بیگ نے آج پھر آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان سے 400 کروڑ روپئے لینے کی تردید کی ہے اورکہا کہ اس معاملہ میں وہ کسی  بھی جانچ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں - یہاں بنگلور پریس کلب میں ایک پرہجوم اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روشن بیگ نے کہاکہ وہ اس پونزی کمپنی میں سرمایہ لگانے والے غریب اور مزدور پیشہ سرمایہ کاروں کے ساتھ ہیں - اس معاملہ کی ایس آئی ٹی جانچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے روشن بیگ نے کہاکہ اس گھپلہ میں غریبوں کے کروڑوں روپئے لگے ہوئے ہیں اس لئے پورے معاملہ کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ ہوتو بہتر ہے -

نامہ نگاروں کے مختلف سوالات پر جواب دیتے ہوئے روشن بیگ نے کہا کہ 400 کروڑ روپئے بہت بڑی رقم ہوتی ہے -ایک دھوکہ باز نے مجھ پر بے بنیاد الزام لگایا اور میڈیا نے کیسے اعتماد کرلیا؟ میں ایک سیاست دان ہی نہیں بلکہ سماجی کارکن بھی ہوں -شادی بیاہ اور مختلف تقاریب میں شرکت کرتاہوں ان تقاریب میں منصورخان جیسے کئی لوگ آتے ہیں اگر ان سے ملاقات ہوگئی یا مصافحہ کرلیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے میرے تعلقات ہیں -

وی کے عبیداللہ اسکول:انہوں نے بتایا کہ میں خود وی کے عبیداللہ اسکول کا ایک طالب علم رہا ہوں -یہ اسکول خستہ حال میں تھی - اس اسکول کوترقی دے کر گود لینے منصور خان آگے آئے -میرے حلقہ میں ایک اچھا کام ہورہاتھا میں نے ہاں کہہ دی-اس اسکول کے افتتاحی اجلاس میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے بھی شرکت کی -اس سرکاری اسکول کو ترقی دینے پر انہوں نے بھی منصورخان کی ستائش کی تھی -انہوں نے یہ بھی کہاکہ ایک اردو اخبار روزنامہ سیاست کا بنگلور ایڈیشن پچھلے 20 سالوں سے میری نگرانی میں چل رہا ہے - پچھلے ڈیڑھ سال سے منصورخان کی کمپنی اس اخبار کو چلارہی ہے -اخبار کے تمام اخراجات چیک کے ذریعہ ادا کئے جاتے ہیں -ایک سوشیل خدمات کے جذبے سے منصور خان نے روزنامہ سیاست کو گود لیا تھا -اس کے علاوہ آئی ایم اے سے میرا کوئی تعلق نہیں - اس کمپنی سے نہ میں نے کوئی قرضہ لیا ہے اورنہ ہی کوئی رقم لی تھی - آڈیو میں مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات غلط اوربے بنیاد ہیں -یہ آڈیو حقیقی ہے یا نہیں اور آواز منصورخان ہی کی ہے ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے -اس لئے میں معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے ذریعہ کروانے کا مشورہ دے رہاہوں تاکہ معاملہ کی تیز اور منصفانہ جانچ ہو-

چارٹرڈپرواز:انہوں نے بتایا کہ ان کے فرزند آررومان بیگ پر چارٹرڈ پرواز سے سفرکرنے کا الزام لگایا گیا ہے -دراصل رومان بیگ نے چارٹرڈ پرواز سے کبھی سواری ہی نہیں کی ہے -اس کے برعکس کن لوگوں نے کس وقت چارٹرڈ پرواز کا استعمال کیا ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے- 

مسلم قیادت سرگرم: روشن بیگ نے پوچھاکہ اس سے قبل اس طرح کی پونزی کمپنیوں امبیڈنٹ،اعلیٰ،اجمیرہ اور انجازکے بھی دھوکہ دہی کے معاملے پیش آئے تھے -ایک مسلم قیادت خاموش تماشائی بنی رہی اب اچانک آئی ایم اے کا معاملہ اتنا گرم کیوں ہوگیا ہے؟ اس سے قبل بھی تقریباً 13 پونزی کمپنیاں دھوکہ دے چکی ہیں تب مسلم قیادت حرکت میں کیوں نہیں آئی؟ انہوں نے کہاکہ آئی ایم اے کے ساتھ میرے کوئی کاروباری یا لین دین کے تعلقات نہیں اس کے باوجود لوگوں کو تسلی نہیں ہوئی ہے تو میں کسی بھی جانچ کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں -ایک سوال کے جواب میں روشن بیگ نے  کہا کہ مسلمانوں کو نظرانداز کرنے پر میں نے ریاستی کانگریس قیادت پر انگلی اٹھائی تھی لیکن اب بھی میں کانگریس کا ایک سچا سپاہی ہوں -اتفاق سے آئی ایم اے گھپلہ اس وقت پیش آیا ہے جب میں ریاستی کانگریس قیادت سے ناراض ہوں - لیکن مجھے کسی پر بھی شک نہیں - ریاستی وزیر ضمیراحمدخان میرے چھوٹے بھائی جیسے ہیں ان پر بھی مجھے کوئی شبہ نہیں -

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کے اسمبلی حلقہ میں آئی ایم اے کا صدر دفتر ہے یہاں زیورات کا اتنا بڑا کاروبار ہورہاتھا -ڈپازیٹرس کو اچھا منافع دیا جاتا تھا کیا آپ کو ایک بار بھی اس کمپنی پر شک وشبہ نہیں ہوا؟ روشن بیگ نے کہا کہ  کسی نے مجھ سے ایسی شکایت نہیں کی ورنہ میں ضروراس کمپنی کے خلاف فوری کارروائی کرنے حکومت سے شکایت کرتا- انہوں نے بتایا کہ آج صبح ہی انہوں نے وزیراعلیٰ اوروزیرداخلہ امور سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تھی -لیکن ان سے ملاقات  نہیں ہو سکی- انہوں نے بتایا کہ غریب ڈپازیٹرس کی رقم واپس دلانے کے وہ پابند ہیں - اس سلسلے میں وہ عوام اور حکومت کا بھرپور تعاون کریں گے اس سلسلہ میں وہ بہت جلد وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ امور سے بھی ملاقات کریں گے اوراس سے قبل دھوکہ دینے والی پونزی کمپنیوں کے خلاف بھی جانچ کرنے کا مطالبہ کریں گے -

ایک نظر اس پر بھی

سولیا: پہاڑی مہم جو ٹیم کا ایک رکن ہوگیا لاپتہ۔قریبی جنگلات میں جاری ہے تلاشی مہم 

بنگلورو کی ایک کمپنی کے ملازمین کی ٹیم سبرامنیا میں واقع پہاڑی ’کمارا پروتا‘ کو سر کرنے کی مہم پر نکلی تھی۔ لیکن واپسی کے وقت ٹیم کا ایک رکن جنگلات میں اچانک لاپتہ ہوگیا ہے، جس کی شناخت سنتوش (25سال) کے طور پر کی گئی ہے۔

سیلاب متاثرین سے وزیر اعظم کو کوئی ہمدردی نہیں منڈیا میں منعقدہ پرتیبھا پرسکار کے جلسہ سے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کا خطاب

ملک کے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ پچھلے ایک سو سال سے کبھی نہ دیکھا گیا سیلاب ریاست میں آیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگی تباہ ہوچکی ہے۔

آئی ایم اے فراڈ کیس کا ایک نیا موڑ، قدآور شخصیات راڈر پر، منصور خان نے سابق وزیر دیش پانڈے پر 5/کروڑ روپئے طلب کرنے کا الزام لگایا 

آئی ایم اے فراڈ کیس دن بدن نیا زاویہ اختیار کرتا جارہا ہے، اس کیس کے کلیدی ملزم اور آئی ایم اے کے سربراہ منصور خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ریاستی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر آر وی دیش پانڈے نے آئی ایم اے کو 600کروڑ روپئے کا قرضہ حاصل کرنے کے لئے نو آبجیکشن سرٹی فکیٹ (این او سی) جاری ...