آئی آئی ایم سی انتظامیہ کی تحریری یقین دہانی طلبا کی بھوک ہڑتال ختم

Source: S.O. News Service | Published on 21st February 2020, 11:51 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،21/فروری(ایس او نیوز/یو این آئی) ایشاء میں سرفہرست عوامی ذرائع ابلاغ کے ادارے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی میں ہر سال دس فیصد کے اضافے سے بڑھنے والی فیس کے خلاف تین ماہ سے جاری احتجاج کے بھوک ہڑتال میں تبدیل ہونے کے بعد آج چوتھے دن آئی آئی ایم سی انتظامیہ نے تحریری یقین دہانی جاری کی ہے جس کے سبب طلبہ میں خوشی کی لہر ہے۔

آئی آئی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے سرکلر میں کہا گیا ہے،’ 12 فروری 2020 کےسرکلر کے تناظر میں تمام پوسٹ گریجویٹ (پی جی) ڈپلومہ کے طلبہ کو مطلع کیا کیا جاتا ہے کہ فیس کی دوسری اورا ٓخری قسط جمع کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے دو مارچ 2020 سے 31 مارچ 2020 اور ایگزیکیٹو کونسل کی 142 ویں اجلاس کے فیصلے کے مطابق ادارے میں کفایتی فیس نظام کے مختلف پہلوؤں پر غوروخوض کرنے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر جدید فیس نظام کو حتمی شکل دیے جانے /نوٹیفائی کیے جانے تک، جو بھی بعد میں ہو اس تک بڑھا دی گئی ہے‘۔

قابل ذکر ہے کہ متعدد اہم شخصیات نے آئی آئی ایم سی کے طلبہ کی حمایت کی تھی۔ بھوک ہڑتال کے حوالے سے راہل یادو کے ٹویٹ’ ’آئی آئی ایم سی کے طلباءگذشتہ 3 دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ہم کفایتی فیس ڈھانچے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ ہر عام آدمی اپنے بچے کو آئی آئی ایم سی ’ملک کے پریمیئر میڈیا انسٹی ٹیوٹ‘ میں پڑھانے کے بارے میں سوچ سکے‘‘ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئےسوراج انڈیا کے صدر یوگیندر یادو نے لکھا،’آئی آئی ایم سی کے طلبہ اور ان کے جدوجہد کے ساتھ ہوں‘ ۔

آٹھ طلبہ جو بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے ان میں اونتیکا تیواری، آکاش پانڈے، راجن راج، جاگرتی کماری، دیویش مشرا، حامد رضا، رشی کیش شرما، آستھا ستیہ ساچی، گوتم کمار شامل ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ بھوک ہڑتال اس لیے کی کیونکہ انتظامیہ دھوکہ دہی سے کام لے رہا تھا ۔ ان کے مطابق اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ فیس اضافہ یونہی جاری رہا تو اعلیٰ تعلیم متوسط اورپچھڑے طبقوں کی قوت سےباہر ہوجائے گی۔

ہندی جرنلزم کے طالب علم راجن راج نےردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آنے والے طلبہ (بیچ) اس لڑائی کو جاری رکھیں،اگر یہ ادارہ ایک بار پھر دھوکہ دیتا ہے تو انھیں تیار رہنا چاہیے۔ جیت کی خوشی تو ہے لیکن اس سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے حسب روایت آنے والے بیچز کے لیے ہم نے پھر جدوجہد کا راستہ ہموار کر دیا ہے جیسے ہمارے سینیئر نے ہاسٹل اور لائبریری کے لیے جہد و جہد کی تھی۔قابل برداشت فیس ڈھانچہ جو بھی ہو اگر قابل اطمینان ہوتو ٹھیک ہے ورنہ مستقبل میں جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے۔ بہرحال یہ بڑی جیت ہے ۔ اس سے غریب عوام کو بہت فائدہ ہوگا۔

واضح رہے کہ آئی آئی ایم سی میں 2009۔10میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ (پی جی) ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کی فیس 76000، پی جی ڈپلومہ ایڈ-پی آر(اشتہار، رابطہ عامہ)کی فیس 48000، پی جی ڈپلومہ انگلش جرنلزم کی فیس 34000،پی جی ڈپلومہ ہندی جرنلزم کی فیس 34000 اور پی جی ڈپلومہ اردو، اڑیہ، ملیام جرنلزم کی فیس 20000 روپیے تھی جو ہر سال دس فیصد کے اضافے کے ساتھ علیٰ الترتیب فی الحال 168500، 131500، 95500، 95500 اور 55500 روپیے ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ دس برسوں کے اندر فیس میں علیٰ الترتیب 121 فیصد، 173 فیصد، 181 فیصد، 181 فیصد اور 175 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی