فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے والی آئی اے ایس آفیسرروہینی سندھوری کا تبادلہ۔ حکومت کی نیت پر کھڑے ہوئے سوال!

Source: S.O. News Service | Published on 24th September 2019, 1:29 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو24/ستمبر (ایس او نیوز)ریاستی حکومت نے کرناٹکا بلڈنگ اینڈ آدر کنسٹرکش ورکرز ویلفیئر بورڈ کی سیکریٹری کے طور پرتعینات آئی اے ایس آفیسر روہینی سندھوری کا تبادلہ کردیا ہے جس کے بارے میں عوام کی طرف سے وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ روہینی سندھوری اپنے محکمے میں موجود مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے مختص فنڈز کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کررہی تھیں۔یہ بات بدعنوان ٹھیکیداروں کو پسند نہیں آئی اور حکومت پر دباؤ بناکر انہیں ٹرانسفر کروایاگیاہے۔

20ستمبر کو ریاستی حکومت نے سندھوری کو ہٹانے کے بعد اس بورڈ کے سیکریٹری کے طورپر لیبر کمشنر کے جی شانتارام کو یہ عہدہ سونپا گیا ہے۔ خیال رہے کہ لیبر منسٹر کا قلمدان وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے پاس ہے۔

 معلوم ہوا ہے کہ لیبر ویلفئیربورڈ کے پاس 8ہزار کروڑ کا کارپس فنڈ ہے، جوکہ سرکاری و نجی تعمیری منصوبوں پر 1%سیس کے ذریعے وصول ہوا ہے۔  سندھوری بورڈ کے فنڈ ز کے استعمال کو صحیح سمت دینا چاہتی تھیں۔ کیونکہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران صرف 8کروڑ روپے ہی مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کیے گئے تھے۔ لیکن مبینہ طور پر سندھوری پر دباؤ بنایاجارہاتھا کہ اتنے بڑے فنڈ کو دوسرے طریقوں سے خرچ کرڈالے جس کے لئے سندھوری راضی نہیں تھیں اور وہ اسے بدعنوانی کی سمت ایک قدم کے طور پر دیکھ رہی تھیں۔

دیگر آئی اے ایس افسران نے بھی بورڈ کے معاملات اور سندھوری کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سینئر آئی اے ایس آفیسر نے سندھوری سے مطالبہ کیا کہ بورڈ کے منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے ٹینڈر طلب کیے بغیر ہی حکومت کے ایک اور شعبے کرناٹکا اسٹیٹ الیکٹرانکس ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈ کو کام سونپا جائے۔ سندھوری اس شعبے کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھیں اور انہوں نے کھلے بازار سے ٹینڈر طلب کرکے بورڈ کے منصوبے دینے کا فیصلہ کیا۔اس کے علاوہ لیبر سیکریٹری پی منی ونن کی طرف سے’کیونکس‘ کو دوسرا ایک اور منصوبہ سونپنے میں تیزی لانے کے لئے دباؤ بنایا جارہا تھا۔

یہ بھی معلوم ہواہے کہ لیبر ویلفئیر بورڈ کے فنڈ کا ایک بڑا حصہ سیلاب زدگان کی راحت رسانی کے لئے منتقل کرنے کے لئے بھی سندھوری پر دباؤ ڈالا جارہا تھا۔ اس زمرے میں پہلے 3ہزار کروڑ روپے طلب کیے گئے تھے، بعد میں ایک ہزار کروڑ روپوں کا مطالبہ کیا گیا۔ سندھوری نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ سیس کے ذریعے جو فنڈ جمع ہوتا ہے اس کے اخراجات کی نگرانی سپریم کورٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔اور اخراجات کے سلسلے میں واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ سندھوری نے مناسب جوا ز کے بغیر فنڈ سے رقم منتقل کرنے میں آنا کانی کی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر منتقل کیے گئے فنڈ کا صحیح استعمال نہ ہونے کے امکانا ت موجود ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے روہینی سندھوری جب ضلع ہاسن کی ڈپٹی کمشنر تھیں تو اس وقت وزیر ایچ ڈی ریونّا اور اے منجو کے ساتھ ان کی ٹھن گئی تھی، کیونکہ وہ ضابطے سے ہٹ کر اور سیاسی دباؤ میں آکر کسی قسم کے اقدامات کرنے پر راضی نہیں ہوئی تھیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں وہاں سے بھی ہٹادیاگیا تھا۔

ان سب حالات کے پیش نظرعوام کا احساس ہے کہ حکومت کی طرف سے ایک ضابطے کی پابند اور بدعنوانی سے پاک آفیسر کو اس طرح اچانک اپنے عہدے سے ہٹادیناخود حکومت کے منشاء اور شفافیت پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کے وجیا پور میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ۔سیاسی و سماجی لیڈروں نے کیا 2لاکھ سے زائد افرادسے خطاب 

شہریت سے متعلقہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر قوانین کے خلاف”دستور بچاؤ“ عنوان کے تحت ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ وجیاپور میں منعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ ایسے قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے مرکزی حکومت ملک کے آئین کی دھجیاں اڑانے کا کام ...

کرناٹک کے اقلیتی بجٹ میں 40فیصد تک کٹوتی کے آثار،2019/20کے 2950کروڑ کے مقابلے 2000کروڑ بھی مل گئے تو غنیمت

ایسے مرحلے میں جبکہ وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے ریاستی بجٹ کی تیاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے افسروں سے وزیر اعلیٰ کی میٹنگوں کا سلسلہ بھی تکمیل کی طر ف گامزن ہے۔

انڈر ورلڈ ڈان روی پجاری کو بنگلورو لایا گیا؛ عدالت میں پیش ، 14؍ دنوں تک پولیس کی حراست میں

متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب انڈرورلڈ ڈان روی پجاری کو پیر کی صبح اولین ساعتوں میں کرناٹکا پولیس کی ٹیم سنیگیل سے بنگلورو لے آئی۔ بنگلورو آمد کے بعد اسے شہر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے 14؍ دن کی پولیس حراست میں دیا گیا۔

ٹرمپ کے بھارت دورے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں : حزب مخالف لیڈر سدرامیا

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے ہمارے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مودی بھی جب امریکہ کا دورہ کئے تھے تو  کیا ہمارے ملک کو فائدہ ہواتھا ؟ ۔ ودھان سبھا میں حزب مخالف لیڈر سدرامیا نے ٹرمپ کے دورے کو لے کر سوال کیا۔

آئین نے ہی ایک چائے بیچنے والے کو وزیر اعظم کا عہدہ دیا؛ بیدر ضلع کے بسواکلیان میں سیاہ قوانین کے خلاف جلسہ عام ۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا و دیگر کا خطاب

بیدر شہر کے تعلقہ اسٹیڈیم میں کل شام جوائنٹ ایکشن کمیٹی بسواکلیان کے زیر اہتمام مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کئے گئے سیاہ قوانین سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے خلاف جلسہ عام منعقد ہوا۔جس میں بسواکلیان کے علاوہ ضلع بیدر ، کلبرگی ، عمرگہ ، سولہ پور، لاتو، نیلنگہ سے بھی عوام ...