پاکستان پر فضائی حملے سے بی جے پی کے لئے پارلیمانی الیکشن کا راستہ ہوگیا آسان !  

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 27th February 2019, 12:42 PM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 27؍فروری (ایس او نیوز)پاکستان کے بہت ہی اندرونی علاقے میں موجود دہشت گردی کے اڈے پر ہندوستانی فضائی حملے سے بی جے پی کو راحت کی سانس لینے کا موقع ملا ہے اور آئندہ پارلیمانی انتخابات جیتنے کی راہ آسان ہوگئی۔اور اب وہ سال2017میں یو پی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کی طرز پر درپیش لوک سبھا انتخابات جیتنے کے تعلق سے بھی پر اعتماد ہوگئی ہے۔کیونکہ 2017میں یوپی اسمبلی انتخابات سے ذرا قبل پاک مقبوضہ کشمیر کی سرحدپرُ یوری میں’سرجیکل اسٹرائک‘ کیا گیا تھااور اس کی وجہ سے بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو اُس وقت بڑا سہارا ملاتھا۔اور اب لوک سبھا انتخابات سے چند ہی مہینے پہلے ’فضائی اسٹرائک‘ کیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ انتخابی نقطۂ نظر سے اس کا راستہ بالکل صاف ہوگیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے 27فروری بدھ کے دن اپنے قریبی حلیفوں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ نئے منظر نامے میں پارلیمانی الیکشن جیتنے کے تعلق سے امکانات اور وسائل پر کھل کرگفتگو کرتے ہوئے منصوبے بنائے جائیں۔دوسری طرف پاکستانی سرزمین پر فضائی حملے کی تفصیلات عام ہوتے ہی بی جے پی کی طرف سے ’کمل جیوتی‘ مہم بھی شروع کردی گئی ہے تاکہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔

بی جے پی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ’’سال 2017کے یو پی اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے مہاگٹھ بندھن کے مقابلے میں بی جے پی کو شکست ہونے کے پورے امکانات دکھائی دے رہے تھے۔لیکن سیاسی پنڈت اُس وقت 26دسمبر 2016کو کیے گئے ’ سرجیکل اسٹرائک‘سے پیدا ہونے والی انتخابی زیریں لہروں کو سمجھنے میں ناکام تھے۔اور اب پاکستان کے اندرونی علاقے میں گھس کر جوتازہ فضائی حملہ کیا گیا ہے اس سے وزیراعظم نریندرا مودی کی حمایت میں بہت ہی بڑی اور تیز زیریں لہریں دوڑنے لگی ہیں۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا احساس ہے کہ اس تازہ حملے کے بعدبی جے پی کے لئے یو پی اور بہار میں ذات اور طبقات کی بنیاد پر بنے مہاگٹھ بندھن کے سامنے قومیت کاجذبہ ابھارتے ہوئے اور ’مودی کی طاقتور و فیصلہ کن قیادت ‘ کے نام پرمقابلہ کرنا بالکل آسان ہوجائے گا۔وزیر اعظم مودی خود بھی اپنی حالیہ تقریروں میں دہشت گردی کے خلاف سخت ترین موقف اور اقدامات کی باتیں زور و شور سے کررہے ہیں۔اب چونکہ ہرایک ہندوستانی کی زبان پر فضائی حملہ اور اس کے اثرات کا ہی چرچا ہے تو بی جے پی خود سمجھنے لگی ہے کہ بے روزگاری اور زراعتی مسائل وغیرہ جو کہ اس کے لئے دردِ سر بنے ہوئے تھے وہ سب اب پیچھے چلے گئے ہیں اورانتخابات کے لئے اب وہ رکاوٹ پیداکرنے والے مسائل نہیں رہیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد دیناکرن کا الیکشن کمیشن سے سوال؛ ڈالے گئے ووٹ پارٹی کو کیوں نہیں ملے ؟

 لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں  ا ی وی ایم پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔پہلے بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر غور کرنا چاہئے۔

سنئیر لیڈران کا بیٹوں کو آگے بڑھانے پر راہول کو اعتراض؛ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ میں پارٹی کے صفایاپر راہل ناراض؛ استعفیٰ دینے پر بضد

کانگریس کے بعض سنئیر لیڈران اور بعض وزراء اعلیٰ کا اپنے بیٹوں کو ہی آگے بڑھانے میں لگے ہونے پر اعتراض جتاتے ہوئے راہول گاندھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر بضد ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو  لوک سبھا انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی  اپنے عہدے سے استعفیٰ ...

وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ کی وزیراعظم مودی سے ملاقات، آندھرا کو خصوصی درجہ دینے پر زور

 وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اتوار کو دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔اس کے بعد انہوں نے بغیر کسی طے پروگرام کے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ سے ملاقات کی۔

گذشتہ دس سالوں سے جیل میں مقید مسلم نوجوان کو قانونی کی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت، جمعیۃ علماء نے قانونی امداد کے ساتھ ساتھ تعلیمی وظیفہ بھی دیا، پہلے مرحلہ کا نتیجہ اطمنان بخش: گلزار اعظمی

ممبئی کی خصوصی مکوکا(این آئی اے) عدالت نے جھوٹے دہشت گردانہ معاملے کا سامنا کررہے ایک مسلم نوجوان کو قانون کی تعلیم جاری رکھنے اور اسے امتحان میں شرکت کرنے کی مشروط اجازت دی۔13-7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے کا سامنا کررہے ملزم ندیم اختر کو ایل ایل بی پہلے سال کے دوسرے مرحلہ ...

مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا، رافیل معاہدہ میں پی ایم اوکادخل نہیں، تمام عرضیاں ہوں مسترد

لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن نے رافیل لڑاکا طیارے معاہدے میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے اسے سب سے بڑا مسئلہ بنایا۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس معاہدے کے لئے براہ راست طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار بتایا۔

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...