خرطوم میں سیکڑوں افراد کا احتجاج،مقتول مظاہرین کے انصاف کا مطالبہ

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 2nd December 2019, 10:48 PM | عالمی خبریں |

خرطوم، یکم دسمبر(آئی این ایس انڈیا) سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں سیکڑوں افراد نے ہفتے کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور معزول صدر عمر حسن البشیر کے خلاف احتجاجی تحریک میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔سوڈان میں دسمبر 2018ء کے بعد صدر عمرالبشیر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں تشدد کے واقعات میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔اس عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں سوڈانی فوج نے عمرالبشیر کو 11 اپریل کو معزول کردیا تھا۔ان کے خلاف یہ تحریک ملک کو درپیش معاشی مسائل،بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف شروع ہوئی تھی اور ان کے تیس سالہ دور اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔مظاہرین نے خرطوم کے مرکزی چوک سے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے دفتر تک مارچ کیا۔انھوں نے بشیر مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور ان کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔وہ وزیراعظم کے دفتر کے باہر جمع ہوکر خون کے بدلے خون کے نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات تھی۔مظاہرے میں شریک ایک شخص نزار بن سفیان کا کہنا تھا کہ ہم شہداء کا انصاف چاہتے ہیں۔ہمیں یہ خدشہ ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین عبوری حکومت کے سابق صدر کے نظام اور سابق حکمراں جماعت کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا تو خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم نے اس حکومت کی جانب سے ابھی تک احتجاجی تحریک کے دوران میں لاپتا ہونے والے افراد کو بازیاب کرانے یا مقتولین کے قاتلوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے کوئی اقدام ملاحظہ نہیں کیا ہے۔عمرالبشیر اور ان کے دور کے متعدد اعلیٰ عہدے دار اس وقت جیلوں میں بند ہیں اور ان کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔خود سابق صدر کو بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا ہے۔سوڈان میں اگست سے فوج اور سویلین پر مشتمل ایک خود مختار کونسل کاروبار حکومت چلا رہی ہے۔اس کے سربراہ فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان ہیں۔وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے زیر قیادت عبوری کابینہ تشکیل دی گئی ہے۔ وہ تین سال تک ملک کا نظم ونسق چلائے گی اور اقتدار کی فوج سے سول حکومت کو منتقلی کے لیے اقدامات کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

جرمنی: سی ایس یو کی طرف سے پہلا مسلمان میئر اُمیدوار

اسلام اور جرمنی کی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین کے مابین تعلقات کو ایک حساس اور مشکل موضوع تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب اسی جماعت نے میئر کی سیٹ کے لیے ایک 37 سالہ مسلمان امیدوار اوزان ایبش کا انتخاب کیا ہے۔ اس مسلمان امیدوار کا انتخاب میونخ کے شمال میں واقع قصبے 'نوئے فارن‘ کی سی ...

کولمبیا میں حکومت مخالف مظاہروں میں جھڑپیں 

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کی شاہراہوں پر حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے تین پولیس اہلکار تھے۔ منگل کے روز بوگوٹا سٹی ہال میں 20 مظاہروں کی اطلاع دی گئی، جن میں سے بیشتر کو پر امن بتایا گیا۔

انڈونیشیا میں پل گرنے سے9 افراد دریا میں ڈوب کرہلاک؛ 17 کو بچالیا گیا

انڈونیشی جزیرے سماٹرا میں پیدل چلنے والے افراد کے لیے بنائے گئے پل کے گرنے سے نو افراد دریا میں ڈوب گئے ہیں۔ کسی حد تک کمزور پل دریا میں آنے والے زوردار سیلابی ریلے کو برداشت نہ کر سکا۔ اس سیلاب کی وجہ اتوار انیس جنوری کو ہونے والی زور دار بارش تھی۔

آسٹریلیا میں شدید ژالہ باری اور طوفان باد و باراں 

مختلف آسٹریلوی علاقوں کو آج زوردار طوفانِ باد و باراں کے ساتھ ساتھ شدید ژالہ باری کا سامنا رہا۔ انتہائی تیز ہوا، شدید بارش اور ژالہ باری نے لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ کم از کم دو افراد ژالے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔