بہار: شہریت قانون کے خلاف 25 جنوری کو بنے گی انسانی زنجیر، تیاریاں مکمل

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2020, 9:19 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،24/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) بایاں محاذ کی پارٹیوں نے 25 جنوری یعنی ہفتہ کے روز شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف بطور احتجاج انسانی زنجیر بنانے کا اعلان کیا ہے اور اس میں سبھی سے شرکت کی اپیل کی ہے۔ گزشتہ 22 جنوری کو امارت شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ (بہار) میں منعقد کل جماعتی میٹنگ میں اس انسانی زنجیر کی حمایت کا فیصلہ لیا گیا۔ 34 سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں نے بھی لیفٹ پارٹیوں کی اس انسانی زنجیر میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہار میں مودی حکومت کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ احتجاج درج کریں گے۔ امارت شرعیہ نے سبھی سے گزارش کی ہے کہ ہفتہ کے روز دوپہر 2 بجے سے 3 بجے کے درمیان بننے والی اس انسانی زنجیر میں شامل ہوں اور مرکزی حکومت کو بتائیں کہ انھیں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی منظور نہیں ہے۔

امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے اپنے ایک بیان میں امارت شرعیہ کے انسانی زنجیر کی حمایت کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ 22 جنوری کو امیر شریعت حضر ت مولانا محمد ولی رحمانی کی قیادت میں بہار کی چھوٹی بڑی 34 سیاسی و غیر سیاسی پارٹیوں کے رہنما جمع ہوئے اور انہوں نے متفقہ طور پر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے مکمل بائکاٹ کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں شریک سبھی جماعتوں نے مل کر 25 جنوری کو لیفٹ پارٹیوں کی طرف سے بننے والی انسانی زنجیرمیں شریک ہونے اور 29 جنوری کو ہونے والے بھارت بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

امارت شرعیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ پوری طرح سے اس انسانی زنجیر کی حمایت میں ہیں اور امارت شرعیہ میں اس کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ تمام قضاة، نقباء، نائبین نقباء، ارکان شوریٰ و عاملہ، ارباب حل و عقد، ضلع اور بلاک سطح کے ذمہ داروں، ائمہ کرام اور سیاسی و سماجی کارکنان کو انسانی زنجیر میں شریک ہونے کی دعوت دی جارہی ہے۔

مولانا محمد شبلی القاسمی نے میڈیا کو بتایا کہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی مخالفت ہر ہندوستانی کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ضرور کرنا چاہئے اور ملک و دستور کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہنا چاہئے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس مہم (انسانی زنجیر) کو کامیاب بنانے کے لیے ابھی سے سرگرم کردار ادا کریں، لوگوں سے اس مہم میں شریک ہونے کی درخواست کریں، ائمہ کرام سے بھی درخواست ہے کہ جمعہ میں اس کا اعلان کر دیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا ...

سپریم کورٹ کے معاملہ کو ملتوی کرنے پر شاہین باغ کی مظاہرین کا رد عمل

 قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23 مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کر دیا ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔