ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 24th May 2019, 7:56 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 24/مئی (ایس او نیوز) ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

 معروف سیاست داں ملیکا ارجن کھر گے کو کلبرگی علاقے میں ان کے اپنے سیاسی شاگرد ڈاکٹر امیش جادو(بی جے پی) کے سامنے 95,168 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست ہوئی ہے۔یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اس سے قبل کھرگے مسلسل 11مرتبہ جیت درج کرتے رہے ہیں۔اسی طرح کولار میں بی جے پی امیدوار ایس منی سوامی کے مقابلے میں کے ایچ منی اپا کو 2لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے ہتک آمیز شکست ہوئی ہے۔اس طرح آٹھویں مرتبہ پارلیمان میں داخل ہونے کا منی اپا کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے۔

 معروف کانگریسی لیڈرسابق وزیراعلیٰ کرناٹکا ویرپا موئیلی کو چکبالاپور حلقے میں بی جے پی کے امیدوار بی این بچے گوڈا کے مقابلے میں 1.81لاکھ ووٹوں کے فرق سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ سابق وزیراعظم اورجنتادل ایس سپریموجیسے ایچ ڈی دیوے گوڈا کوٹمکورو میں اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے کانگریس کے ہاتھوں سے چھین کر لی گئی سیٹ پربی جے پی امیدوار جی ایس بسواراجو کے ہاتھوں 12,387ووٹوں سے شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔جس کی وجہ سے دیوے گوڈا کے پانچویں مرتبہ پارلیمان میں داخلے کی راہ فی الحال بند ہوگئی ہے۔لیکن ہاسن سے جیت درج کرنے والے ان کے پوتے پرجاول ریونا نے جیت کے دوسرے دن ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ اپنی سیٹ سے مستعفی ہوکر دیوے گوڈا کے لئے ہاسن سے جیتنے اور پارلیمان میں داخل ہونے کی راہ ہموار کرنے کے لئے تیار ہے۔

 چکوڈی حلقے سے انتخابی میدان میں اترنے والے کانگریس جے ڈی ایس کے مشترکہ امیدوار پرکاش ہوکیری کو بی جے پی امیدوار انّا صاحب جولّے کے ہاتھوں 1.16لاکھ ووٹوں سے شکست کھانی پڑی ہے۔پرکاش تیسری مرتبہ پارلیمان میں داخل ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے۔بلاری کے ضمنی انتخاب میں زبردست جیت درج کرنے والے وی ایس اوگرپّا کو بی جے پی کے دیویندرپّا نے 55,707 ووٹوں سے شکست دی ہے۔جبکہ چامراج نگر میں آر دھرونارائین کو بی جے پی کے امیدوار وی شرینواس پرساد کے ہاتھوں صرف1,347ووٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اڈپی ڈکیتی معاملہ پولیس نے 24گھنٹے کے اندر کیا حل۔ دو ملزمین گرفتار۔مسروقہ نقدی اور چاندی بر آمد

اڈپی ضلع کے اولاکاڈو علاقے میں 12ستمبر کو ڈکیتی کی جو واردات پیش آئی تھی اور چوروں نے 22لاکھ روپے نقد اور آدھا کلو چاندی پر جو ہاتھ صاف کیا تھا اس معاملے کو پولیس نے 24گھنٹے کے اندر حل کرتے ہوئے دو ملزمین کو مہاراشٹرا اور مڈگاؤں ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کرلیاہے۔ 

بھٹکل تعلقہ فاریسٹ زمین حق کے لئے اتی کرم دارہوراٹ گارر ویدیکے کی جانب سے 17ستمبر کو میٹنگ

بھٹکل تعلقہ کے تحصیل اور فاریسٹ اتی کرم داروں کے علاقے میں شیموگہ جنگلات زون میں شامل کئے جانے کے پس منظر میں 17ستمبر 2019بروز منگل کی صبح 10بجے شہر کے ستکار ہوٹل کے صحن میں تعلقہ فاریسٹ اتی کرم داروں کی میٹنگ انعقاد کئے جانے کی بھٹکل تعلقہ فاریسٹ ہوراٹ گارر ویدیکے کے تعلقہ صدر ...

سرسی کے پی یو کالج میں منایا گیا’موبائل ہیمرنگ ڈے‘۔ چوری چھپے کلاس روم میں لائے گئے موبائل فون پر چلایا گیا ہتھوڑا!

پری یونیورسٹی بورڈ کی طرف سے کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے کالج احاطے میں موبائل لانے اوراس کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن ریاست بھر میں تقریباً ہر پی یو سی کالج میں طلبہ اساتذہ کی نظریں بچاکر موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

کاروار:مساجد اور گھروں میں جاکر امداد مانگنے والے کشمیری نوجوانوں کو پولیس نے لیاحراست میں۔ گہری تفتیش کے بعد ہوئی رہائی

کاروار کی لاڈج میں کشمیری نوجوان کے قیام اور ان کے ذریعے با ر بار کشمیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیے جانے کی اطلاع سرکاری خفیہ ایجنسی کی طرف سے ملنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کے دن آدھی رات کو مذکورہ تین کشمیری نوجوانوں کو اپنی حراست میں لیا۔ پھر گہری چھان بین اور ...

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔