کمپیوٹر کمپنی ایچ پی کی تنظیم نو، 9 ہزار ملازمتوں کی کٹوتیاں

Source: S.O. News Service | Published on 9th October 2019, 6:02 PM | عالمی خبریں |

 واشنگٹن  9اکتوبر (آئی این ایس انڈیا) کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور پرنٹر بنانے والی امریکی کمپنی ایچ پی اپنے ادارے کی تنظیم نو کے لئے تقریباً نو ہزار ملازمتیں ختم کر رہی ہے۔ اس سے بھارت میں بھی اس کی لگ بھگ 500 ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔اکنامک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ پی کمپنی اپنے اخراجات میں کمی کے لیے سن 2022 تک عالمی سطح پر اپنے کارکنوں کی تعداد سات سے نو ہزار کے درمیان کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ایچ پی نے اپنے ملازمتوں کی کٹوتی میں بھارت کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ بھارت میں اس کے کمپیوٹروں کی فروخت گر رہی ہے۔کمپنی سے منسلک ایک عہدے دار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اکنامک ٹائمز کو بتایا کہ بھارت میں کارکنوں کی تعداد کم کی جا رہی ہے کیونکہ کمپیوٹر کے کئی ماڈلز ختم کر دیے گئے ہیں اور پرسنل کمپیوٹرز کی طلب مسلسل گھٹ رہی ہے۔ اسی طرح کمپیوٹرز کی خرید کے سلسلے میں حکومتی پراجکٹس میں بھی تسلسل نہیں ہے۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ بھارت میں اس کے کارکنوں کی تعداد کیا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کی کٹوتیوں کا سب سے کم اثر بھارت پر ہو گا۔چند روز پہلے ایچ پی کے سی ای او نے کہا تھا کہ کمپنی اس سال 9000 ملازمتیں ختم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔کمپیوٹرز اور پرنٹرز کی معروف کمپنی 2022 تک اپنے اخراجات میں کمی کے لیے 16 فی صد کارکنوں کو فارغ کرنا چاہتی ہے۔یو ایس اے ٹو ڈے کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ پی کے دنیا بھر میں کارکنوں کی تعداد 55000 کے لگ بھگ ہے جس میں سے وہ تقریباً 9000 ہزار کو نکال دے گی جس سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔کمپنی اپنی تنظیم نو کے ایک تین سالہ منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے جس میں کیلی فورنیا میں اس کے مرکز سے 5000 ملازموں کی کٹوتیاں بھی شامل ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں: امریکی اہلکار 

امریکی وائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار نے دئے گئے خصوصی بیان میں باور کرایا ہے کہ ترکی پر پابندیاں سنجیدہ اور بھرپور نوعیت کی ہیں جو اس کی معیشت کو نقصان پہنچائیں گی۔ذمے دار کا کہنا تھا کہ اب ہمارا مقصد شام میں فائر بندی تک پہنچنا ہے۔