کاروار:  ہوٹل اور ریسارٹ والوں کو کوارنٹین کی سہولت فراہم کرنا پڑا مہنگا۔ کئی افراد نکلے پوزیٹیو۔ ہوٹل ہوگئے سیل ڈاؤن!

Source: S.O. News Service | Published on 1st June 2020, 12:35 PM | ساحلی خبریں |

کاروار،یکم جون (ایس او نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار بالکل بند رہنے سے ہوٹل، لاڈج اور ریسارٹ مالکان بہت ہی زیادہ پریشان ہوگئے تھے۔ اس موقع پر ضلع کے باہر سے آنے والوں کو سرکاری طورپر کوارنٹین کرنے کے لئے مناسب انتظام نہ ہونے پر کچھ ہوٹلوں اور ریسارٹس کو کوارنٹین مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز سامنے آئی تو ہوٹل مالکان نے اسے غنیمت سمجھا۔لیکن اب ان کا یہی اقدام ایک مصیبت بن گیا ہے کیونکہ کوارنٹین کیے گئے کچھ لوگوں کی رپورٹ پوزیٹیو آنے کے بعد ان ہوٹلوں اور ریسارٹس کو سیل ڈاؤن کیا گیا ہے۔

سرکار ی محکمہ کی طرف سے لوگوں کو کوارنٹین کرنے کی جب پیش کش ہوئی تو کاروباری بدحالی کا شکار کچھ ہوٹل مالکان نے ایک ہی جھٹکے میں اپنے نقصان کی بھرپائی کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اچھی خاصی رقم کرایے میں وصول کرنا شروع کیا تھا۔ لیکن اب جب کچھ کوارنٹین کیے گئے افراد کی رپورٹس پوزیٹیو آنے لگی ہیں تو پولیس والے ایسے ہوٹل، لاڈج یا ریسارٹ کو پوری طرح خالی کرواکے اسے مکمل سیل ڈاؤن کرنا شروع کیا ہے۔

ایسا ہی ایک تازہ معاملہ کاروار شہر میں پیش آیا ہے جہاں قلب شہر میں واقع ایک مشہور ہوٹل میں ممبئی سے لوٹی ہوئی ایک فیمیلی کو کوارنٹین کیاگیا تھا۔ اس میں سے ایک حاملہ خاتون کی رپورٹ پوزیٹیو آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کے  ساتھ رہنے والے ایک فرد کی رپورٹ نگیٹیو آئی ہے جبکہ ایک اور ساتھی کی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ایک مقامی سیاست دان سے رابطے کے بعد صحت کے مسائل کے پیش نظر یہ فیمیلی ممبئی سے کاروار لوٹی تھی اور سیدھے اس ہوٹل میں مقیم ہوگئی تھی۔اب رپورٹ پوزیٹیو آنے کے بعد پولیس نے راتوں رات ہوٹل کو سیل ڈاؤن کردیا تھا اور اس کے اطراف بیریکیڈس لگادئے تھے۔اتوار کی شام کو یہاں سے بیریکیڈس ہٹادئے گئے ہیں۔

عام طور پر کوارنٹین کے لئے استعمال کیے گئے ہوٹل یا ریسارٹ میں کوئی کیس پوزیٹیو نکلتا ہے تواس کو سیل ڈاؤن کرکے پوری طرح سینیٹائز کیا جاتا ہے اور پھر دو تین دن بعد اسے دوبارہ عوامی استعمال کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ لیکن جن ہوٹلوں میں پوزیٹیو کیس نکلتے ہیں وہاں پر عوام جانے سے گھبراتے ہیں اور ان ہوٹلوں کا عام کاروبار شروع کرنے میں دقت پیش آنا یقینی بات ہے۔ہوٹل والوں کے لئے ایک اور اضافی مشکل یہ ہوتی ہے کہ پوزیٹیو کیس نکلنے کے بعد سوشیل میڈیا میں اس ہوٹل کا نام اور فوٹو وغیر ہ فوری طور پر وائرل ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں فطری طور پرہوٹل کا کاروبار متاثرہوجاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا سے اُڈپی میں مرنے والوں کی تعداد ہوگئی 6؛ بھٹکل میں بھی ایک شخص کی موت

جمعرات کو اُڈپی میں مزید ایک شخص کی کورونا سے موت واقع ہونے کے بعد ضلع میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی ہے۔ اسی طرح بدھ کی شب کو بھٹکل میں بھی ایک شخص کی موت واقع ہونے کی خبر  موصول ہوئی ہے جس کی رپورٹ آج جمعرات کو کورونا پوزیٹیو آنے کی اطلاع ملی ہے۔اس طرح بھٹکل ...

مینگلور : دکشن کنڑا میں ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے لاک ڈاون کا آج سے ہوا نفاذ، راستے سنسان، دکانیں بند، عام زندگی مفلوج

کورونا کے بڑھتے معاملات اور روز بروز اضافہ کو دیکھتے ہوئے  ایک ہفتہ طویل لاک ڈاون کا آج  سے مینگلور سمیت دکشن کنڑا ضلع میں نفاذ عمل میں آیا جس کے دوران شہر کی سڑکیں سنسان اور بہت زیادہ چہل پہل والے علاقوں میں بھی سناٹا نظر آیا۔ 

بنگلورکے ساتھ ساتھ ساحلی کرناٹکا میں کورونا کا قہر جاری؛ اُترکنڑا میں 76 معاملات؛ بھٹکل میں پھر ایک شخص کی موت

ریاست کرناٹک بالخصوص بنگلور میں کورونا کا قہر جاری ہے مگر ساحلی کرناٹکا میں بھی کورونا کے معاملات رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایک طرف آج ضلع اُترکنڑا میں کورونا کے 76 معاملات سامنے آئے تو وہیں پڑوسی ضلع اُڈپی میں 52 اور دکشن کنڑا میں 76 پوزیٹیو کیسس کی تصدیق ہوئی ہے۔