ہوناور فرقہ وارانہ فسادات اورپریش میستا کی موت کا معاملہ ؛ فورنسک رپورٹ سے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو زبردست جھٹکا

Source: S.O. News Service | Published on 12th December 2017, 5:22 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 12؍دسمبر(ایس او نیوز) ہوناور میں معمولی سڑک حادثے سے شروع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد میں بدلنے اور اطراف کے علاقوں تک تشدد پھیل جانے کے پس منظر میں پریش میستا نامی نوجوان کی ہلاکت کو مسلم دہشت گردی سے جوڑنے کی جو سازش اور کوشش بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کی طرف سے کی گئی تھی، اسے پوسٹ مارٹم کے بعد فورنسک جانچ کی رپورٹ سے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔

الیکشن میں فائدہ حاصل کرنے کی نیت سے شوبھا کرندلاجے، اننت کمار ہیگڈے اور بی جے پی و سنگھ پریوار کے دیگرلیڈران نے پریش کی موت کو مسلمانوں کی طرف سے پھیلائی جارہی دہشت کا نام دے کر پورے ضلع میں احتجاجی ہنگامہ آرائی برپاکررکھی تھی اور یہاں تک کہ اسے بھٹکل سے جوڑنے کا کام بھی شروع ہوگیاتھا۔ اسی قسم کے احتجاج کے دوران نہ صرف پولیس عملے پرحملے ہوئے بلکہ آئی جی پی نمباولکر کی پارک کی ہوئی سرکاری کار کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ 

لیکن اب کچھ وقفے کے لئے ہی سہی، فرقہ پرستوں اور فسطائیوں کے منصوبوں پر پانی پھِر گیا ہے، کیونکہ پریش کملا کر میستا (۱۸سال) کی گمشدگی کے بعد برآماد ہونے والی لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد ہوناور پولیس اسٹیشن کے پروبیشنری سرکل انسپکٹر رنگناتھ جی نیلمّناور کی طرف سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو فورنسک جانچ کے لئے کے ایم سی اسپتال منی پال کے فورنسک ڈپارٹمنٹ کو بھیجاگیا تھا۔اس کی جو رپورٹ آئی ہے ، وہ سنگھ پریوارکی طرف سے گھڑی گئی قتل کی تھیوری کو مسترد کررہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ساتھ جو سوالنامہ بھیجا گیا تھا، اس کے جواب میں ڈاکٹر شنکر ایم بکنّاور ایسوشی ایٹ پروفیسر ، ڈپارٹمنٹ آف فارنسک میڈیسن، کستوربا میڈیکل کالج منی پال نے اپنی رائے جو بھیجی ہے وہ اس طرح ہے :
سوال نمبر ۱: کیا لاش کے جسم پر ہتھیارسے ہونے والے زخموں کا ثبوت ہے؟اگر ہے تو وہ قسم کاہتھیار ہے؟کُند طاقت والا یا دھاروالا؟
جواب: لاش کے جسم پر ہتھیار سے ہونے والے زخم کاکوئی ثبوت نہیں ہے۔ بیرونی زخم نمبر۱ (خراش؍رگڑ) اور بیرونی زخم نمبر ۲(خراش؍رگڑ)جس کا ذکر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا گیا ہے وہ کسی کُندطاقت سے لگنے والی چوٹ ہوسکتی ہے۔

سوال نمبر ۲: فوت ہونے والے کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا ہے۔ کیا یہ کسی حملے کا نتیجہ ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر یہ کیسے ہوا ہوگا؟
جواب: لاش کی چہرے کے رنگ میں تبدیلی  حملے کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ  putrefaction (موت کے بعد جسم کے سڑنے کے مرحلوں میں سے ایک مرحلہ) کا نتیجہ ہے۔

سوال نمبر۳:  کیا لاش کے جسم پر ناخن یا سوئی چبھونے کے نشان موجود ہیں؟
جواب: لاش کی جسم پر کوئی ایساثبوت موجود نہیں ہے جو ناخن یا سوئی جبھونے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

سوال نمبر ۴: کیا لاش کے جسم پر کوئی ٹٹّو کا نشان موجود ہے؟
جواب: جیساکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے، لاش کے سیدھے ہاتھ پر کلائی سے 7سنٹی میٹر اوپر شیواجی کی صورت اور "مراہٹہ"کے الفاظ والا ٹٹّو مارک موجود ہے۔

سوال نمبر ۵: کیا موت سے پہلے یا موت کے بعد یہ ٹٹّو مٹادیا گیا ہے؟
جواب: مذکورہ ٹٹو مٹایا  نہیں گیا ہے۔

سوال نمبر ۶: کیا فوت ہونے والے پر گرم پانی یا تیزاب جیسے کیمیاوی مادّے سے حملہ ہوا تھا؟
جواب: لاش کے جسم پر ایسے ثبوت موجود نہیں ہیں جن سے یہ اشارہ ملتا ہوکہ اس پر گرم پانی یا تیزاب جیسے کیمیکل سے حملہ کیا گیا ہو۔

سوال نمبر ۷: کیا فوت ہونے والے کے منھ کے اندر کسی قسم کے انجانے مادّے کی موجودگی کا پتہ چلاہے؟
جواب: ہاں۔ لاش کے منھ کے اندر، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں میں کالے رنگ کا مادہ ملا ہے ، جسے کیمیاوی تجزیے کے لئے محفوظ کیا گیا ہے۔

سوال نمبر ۸: کیا لاش کے منھ میں پیشاب؍ پاخانہ ملنے کا کوئی ثبوت ہے؟
جواب: لاش کے منھ میں پیشاب؍ پاخانہ ملنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

سوال نمبر۹:  کیا فوت ہونے والے کے جسم میں اس کا آلۂ تناسل اورخصیہ دان (فوطہ )درست حالت میں موجود تھا؟یا کسی حملے کے ثبوت موجود ہیں؟
جواب: لاش کے اندر آلۂ تناسل اور خصیہ دان پھولا ہواپایا گیاجو کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج بیان کے مطابق لاش کے سڑنے کی وجہ سے ہونے والی تبدیلی ہے۔

سوال نمبر ۱۰: کیا فوت شدہ شخص کے ہاتھوں اور پیر وں پر رسی یا کسی اور چیز سے باندھنے کے نشان موجود ہیں؟
جواب: لاش کے ہاتھوں اور پیر وں پر ایسے ثبوت موجود نہیں ہیں جورسی  یا کسی یا چیز سے باندھنے کا اشارہ کرتے ہوں۔

سوال نمبر ۱۱: جسم کے اوپر چھالے موجود ہیں۔ ان چھالوں کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟
جواب: فوت شدہ شخص کے جسم پر موجود چھالے لاش کے سڑنے کے مرحلے کا نتیجہ ہے۔

سوال نمبر ۱۲: کیا فوت شدہ شخص کے کانوں پر زخموں کے نشان موجود ہیں؟
جواب: نہیں۔ لاش کے کانوں پر زخموں کے نشان موجود نہیں تھے۔

سوال نمبر۱۳: کیا لاش کے جسم پر خون کے نشانات موجود ہیں؟ اوراگرموجود ہے تو پھر اس کے اسباب کیا ہیں؟
جواب: لاش کے جسم پر خون کا اشارہ کرنے والے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔البتہ پوسٹ مارٹم کے بعد صفائی کے لئے استعمال ہونے والا سیال موجود تھا۔

سوال نمبر ۱۴: کیا فوت ہونے والے کے سر پر حملے کے ثبوت موجود ہیں؟
جواب: فوت ہونے والے کے سرپر حملے کا اشارہ کرنے والے ثبوت لاش پر موجودنہیں ہیں۔

سوال نمبر ۱۵: کیا لاش کے سر یا جسم کے کسی حصے میں خون بہہ گیا ہے؟ اگر ہے تو کیا وہ حملے کی وجہ سے ہوا ہے؟
جواب: لاش کے سر یا جسم کے کسی حصے میں خون بہنے کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔البتہ پوسٹ مارٹم کی صفائی کا سیال دونوں نتھنوں اور منھ کے اندر موجود تھاجیسا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ پوسٹ مارٹم کی صورت میں ہونے والی ایک عام تبدیلی ہے۔

سوال نمبر ۱۶: کیا لاش کے جسم پر ایسے ثبوت موجود ہیں جو یہ بتاتے ہوں کہ ہاتھوں سے اس کا گلا دبایا گیا ہویا پھر اس کی سانس روکنے کے لئے رسی یا دوسری کسی چیز سے گلا گھونٹاگیا ہو؟
جواب: سانس روکنے کے لئے ہاتھ سے گلادبانے یا کسی چیز سے گلا گھونٹنے کے کوئی ثبوت لاش پر موجود نہیں ہیں۔ گلے کو بغیر خون کے چیرنے desection سے ایسی کوئی خاص بات ظاہر نہیں ہوئی ہے۔ گلے کے گوشت کو histppathology (لیباریٹری ) جانچ کے لئے محفوظ کرلیا گیا ہے۔

سوال نمبر ۱۷: کیا لاش کی کولھوں اور مقعد پر حملے کے نشان موجود ہیں؟
جواب: ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جو فوت ہونے والے کے کولھوں اور مقعد پر حملے کی طرف اشارہ کرتا ہو۔

سوال نمبر ۱۸: کیا فوت شدہ شخص کی انگلیاں اور انگوٹھے صحیح حالت میں موجود ہیں؟ یا کہیں اس پر حملے کے ثبوت پائے جاتے ہیں؟
جواب: انگلیاں اور انگوٹھے صحیح حالت میں موجود ہیں۔ کسی حملے کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔

سوال نمبر ۱۹: معدے کی جانچ کی بنیاد پر کیا ایسا کوئی ثبوت موجود ہے جو اس بات کا اشارہ کرتا ہوکہ فوت شدہ شخص بڑے عرصے کے لئے فاقے سے تھا؟
جواب: معدے کی جانچ کی بنیاد پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جو اس بات کا اشارہ کرتا ہوکہ فوت شدہ شخص بڑے عرصے کے لئے فاقے سے تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بجلیوں کی چمک اور بادلوں کی گرج کے ساتھ موسلادھار بارش؛ بینگرے میں ایک گھرکو نقصان، ماولی میں الیکٹرانک اشیاء جل کر راکھ؛ الیکٹرک سٹی سپلائی بری طرح متاثر

آج منگل دوپہر کو ہوئی موسلادھار بارش اور بجلیاں گرنے سے ایک مکان کو نقصان پہنچا وہیں دوسرے ایک مکان کی الیکٹرانک اشیاء جل کر خاک ہوگئی۔

بھٹکل: جے این یو کے لاپتہ متعلم نجیب احمد کو ڈھونڈ نکالنے  اور اُس کے ساتھ انصاف کرنے  کا مطالبہ لے کر ایس آئی اؤ آف انڈیا کا ملک گیر احتجاج : بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو بھی دیا گیا میمورنڈم

15اکتوبر 2016کو جواہر لال یونیورسٹی میں ایم ایس سی کےفرسٹ ائیر میں زیر تعلیم نجیب  احمد یونیورسٹی کے ہاسٹل سے لاپتہ ہوئے تین سال ہورہےہیں ،گمشدگی کی پہلی رات کو ہاسٹل میں اے بی وی پی کے کارکنان نے حملہ کیا تھا، مگر اس معاملے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہونے پر اسٹوڈنٹس اسلامک ...

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا کا تبادلہ :ایماندار آفسران کے تبادلوں پر عوام میں حیرت ؛کے اے ایس آفیسر  اے رگھو ہونگے نئے اے سی

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا کا تبادلہ کرتےہوئے ریاستی حکومت نے حکم نامہ جاری کیا ہے، ساجد ملا کے عہدے پر کے اے ایس جونئیر گریڈ کے پروبیشنری افسر اے رگھو کا تقر ر کیاگیا ہے۔ اس طرح تعلقہ کے اہم کلیدی عہدوں پر فائز ایماندار افسران کے تبادلوں کولے کرعوام تعجب کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ جنگلات کے افسران کے خلاف بھٹکل پولس اسٹیشن کے باہر احتجاج؛ اے ایس پی کو دی گئی تحریری شکایت

جنگلاتی زمین کے حقوق کے لئے لڑنے والی ہوراٹا سمیتی کے کارکنان نے آج بھٹکل ٹاون پولس تھانہ کے باہر جمع ہوکر محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بھٹکل سب ڈیویژن کے اسسٹنٹ ایس پی  کے نام میمورنڈم پیش کیا۔ 

ضلع شمالی کینرا میں آج بھی 24ہزار خاندان گھروں سے محروم ! کیا آشریہ اسکیم کے ذریعے صرف دعوے کئے جاتے ہیں ؟

حکومت کی طرف سے بے گھروں کو مکانات فراہم کرنے کی اسکیمیں برسہابرس سے چل رہی ہیں۔ اس میں سے ایک آشریہ اسکیم بھی ہے۔ سرکاری کی طرف سے ہر بار دعوے کیے جاتے ہیں کہ بے گھروں اور غریبو ں کا چھت فراہم کرنے کے منصوبے پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں۔

بھٹکل کے آٹو رکشہ ڈرائیور بھی ایماندار؛ بھٹکل میں تین لاکھ مالیت کے زیورات سے بھری بیگ لے کر رکشہ ڈرائیور پہنچا پولس اسٹیشن

  بھٹکل میں  راستے پر  کوئی  قیمتی چیز کسی کو گری ہوئی ملتی ہے  تو اکثر لوگ  اُسے اُس کے اصل مالک تک  پہنچانے کی کوشش کرنا عام بات ہے،  بالخصوص مسلمانوں کو راستے میں پڑی ہوئی  کوئی قیمتی چیز مل جاتی ہے تو     لوگ یا تو خود سے سوشیل میڈیا  میں پیغام وائرل کرکے  اُسے اُس کے اصل ...

رام ہندوستان میں نہیں تھائی لینڈ میں پیدا ہوئے تھے؛ گلبرگہ میں ایک بدھسٹ سنت کا دعویٰ

یہاں پرمنعقدہ ایک مذہبی پروگرام میں معروف بدھسٹ سنت بھنتے آنند مہشتویرنائب صدر اکھل بھارتیہ بِکّو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ رام ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا جنم تھائی لینڈ میں ہوا تھا۔اور اس مسئلے پر وہ کسی کے ساتھ بھی کھلی بحث کرنے اور اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے تیار ...

شموگہ میں عشق ومحبت کی شادی کا المناک انجام۔ وہاٹس ایپ پر طلاق دئے جانے کے بعدڈی سی دفتر کے باہرمطلقہ خاتون کادھرنا؛ مسلم تنظیموں کو توجہ دینے کی ضرورت

عشق و محبت کے چکر میں مبتلا ہوکر جس لڑکے سے شادی کی تھی اسی نے وہاٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے کر اپنی زندگی سے الگ کردیا تو مطلقہ خاتون ڈپٹی کمشنر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئی۔

عالمی یوم بنات کے موقع پر بنگلور کی اقرا اسکول کی نور عائشہ کا لڑکوں کی تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور

عالمی یوم بنات کے موقع پر  اقرا انٹرنیشنل اسکول بنگلور کی بانی ڈائرکٹر نور عائشہ نے   معاشرتی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلمانوں کو لڑکیوں کی تعلیم پر بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت وہ لڑکوں کی تعلیم پر دیتے ہیں۔ کارڈف سے بزنس گریجویٹ نور ...

بنگلور میں منعقدہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیراہتمام دلت-مسلم مذاکرہ میں سماجی اتحاد کی کوششوں کو مضبوط کرنے کا عزم

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے زیرِ اہتمام منعقدہ دلت-مسلم مذاکرہ میں شریک مندوبین نے زمینی سطح پر سماجی اتحاد کی تعمیر کے لئے قدم اٹھانے اور دلتوں اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا

این آر سی کے متعلق مسلمان پریشان کیوں نہ ہوں؟ امیت شاہ کا فرمان اور ریاستی وزیر داخلہ بومئی کا متضاد بیان- کسے مانیں کسے چھوڑیں؟

کیا کرناٹک میں این آر سی کے نفاذ کے معاملے میں ریاستی حکومت کا موقف مرکزی حکومت خاص طور پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف سے مختلف ہے- حالانکہ امیت شاہ نے حال ہی میں مغربی بنگال میں ایک بیان دیا تھا کہ اس ملک میں این آر سی کا عمل پورا ہونے کے بعد غیر ملکی قرار پانے والے ہندو، ...

سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافہ کیلئے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ضروری

ریاستی حکومت کی طرف سے آر ٹی ای قانون میں ترمیم کے بعد جاریہ تعلیمی سال اگرچہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کے معاملہ میں کچھ اضافہ دیکھا گیا ہے، مگر محکمہ تعلیم اس اضافہ سے مطمئن نہیں ہے اس لئے کہ یہ نتائج اس کی امیدوں کے مطابق نہیں رہے ہیں،