زبردست بارش سے ہوناور کے شراوتی بیلٹ کے دیہات پانی میں ڈوب گئے؛ ولکی اصلاح اسپورٹس کے نوجوانوں نے متاثرہ لوگوں کو پہنچایا راحت سینٹر

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th August 2019, 3:01 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 8/اگست (ایس او نیوز)  پڑوسی ضلع شموگہ میں 5 اور 6 اگست کو ہوئی زبردست بارش کے بعد  شراوتی ندی کے ذریعے جب بھاری مقدار میں پانی  ہوناور تعلقہ کے شراوتی بیلٹ میں   داخل ہوا  تو  ولکی سمیت اطراف کے کئی دیہات ڈوبنے لگے، ایسے میں علاقہ میں  سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہوگئی اور کئی ایک مکان اس کی زد میں آگئے۔ لوگوں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے جہاں کئی نوجوان  انفرادی طور پر ایک دوسرے کی مدد کے لئے پہنچ گئے تو وہیں ولکی  اصلاح اسپورٹس کے نوجوانوں نے    کشیتوں کا انتظام کرتے ہوئے کافی لوگوں کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ،اُن کے  گھروں سے بحفاظت  نکال کر  محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ساحل آن لائن کی ٹیم جب متاثرہ علاقہ  پہنچی تو لوگوں نے بتایا کہ  یہاں کے مسلم نوجوانوں نے  اُن کی بھرپور مدد کی اور  رات رات بھر محنت کرکے اُنہیں گھروں سے نکال کر کشتیوں کے  ذریعے قریبی اسکولوں میں پہنچایا ، ان اسکولوں کو بعد  میں سرکار نے  راحت کیمپ   میں منتقل کیا۔  لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنا سبھی سامان، کپڑے و دیگر چیزیں اپنے ہی گھروں میں  رکھ کر جان بچاکر آئے ہیں، گھروں میں  قیمتی سامانوں کا کیا ہوا، اُس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔   لوگوں نے بتایا کہ رات قریب  گیارہ، ساڑھے گیارہ  بجے ہی ندی کا پانی  اوپر آنا شروع ہوگیا تھا بارہ بجنے تک پانی گھروں  کے اندر داخل ہونا شروع کیا، ہم لوگ سوچ رہے تھے کہ پانی کچھ ہی دیر میں نیچے چلا جائے گا اس لئے ہم انتظار میں تھے، مگر  پانی کی سطح بڑھتے بڑھتے اتنی اوپر چلی گئی کہ  لوگ کرسیوں پر اور ٹیبلوں پر کھڑے ہوگئے، بعض لوگ گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے، ایسے میں اگر جوگ سے بھی  پانی چھوڑتے تو  بہت زیادہ  مسئلہ ہوسکتا تھا مگر جوگ سے پانی نہیں چھوڑا گیا اس کے باوجود پانی  چھ سے سات فٹ اوپر آگیا۔

ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ  پانی جب ساڑھے چھ فٹ تک اوپر آگیا تو لوگوں کو محفوظ مقامات پر شفٹ کرنا  بہت بڑا مسئلہ بن گیا ، ایسے میں کوئی بڑی کشتی لے کر آگیا، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کشتی  ہمارے علاقہ کے اندر نہیں آسکتی تھی جہاں ایک دوسرے سے لگے ہوئے مکانات ہیں، کشتی کو کافی دور ہی  روک دیا گیا تھا، مگر کشتی پر لوگوں کو کیسے لے جایا جائے، یہ بڑا مسئلہ بن گیا۔ لیکن پھر مسلم نوجوان چھوٹی چھوٹی کشتیاں لے کر ہمارے پاس آگئے اور ان ہی کشتیوں پر سوار کرکے لوگوں کو ہم نے بڑی مشکل سے  محفوظ مقامات پر پہنچایا۔  علاقہ کے لوگوں نے مسلم نوجوانوں کی بے حد سراہنا کی اور کہا کہ یہاں ہندو۔مسلم  بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آرہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے دکھ درد میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں۔

بارش سے  ہوناور کے شراوتی ندی کے کنارے واقع کافی دیہات ڈوب گئے ہیں بالخصوص ولکی کے قریبی علاقے  نات کیری ہاڈین بال، کاوور، ہوساڈ، کٹگیری اور بیرلّی وغیرہ شامل ہیں جہاں شراوتی ندی کا پانی اُبل کر کھیتوں اور باغات سے ہوتا ہوا مکانوں کے اندر داخل ہوا۔یہاں  کافی مکانوں پر  درخت گرنے سے بھی نقصانات ہوئے ہیں جبکہ  کئی مکانوں میں پانی داخل ہوجانے سے کئی قیمتی چیزیں برباد ہوگئی ہیں۔  

راحت کیمپوں میں  پہلے دن  سرکار کی طرف سے گنجی کھانا دیا گیا، اگلے روز  اصلاح اسپورٹس سینٹر کے نوجوانوں نے پورا دن کھانے کا انتظام کیا، جبکہ آج جمعرات کو  بھٹکل سے پیام انسانیت کی ایک ٹیم تین سو لوگوں کے کھانوں کے ساتھ ولکی کے راحت کیمپ پہنچی  ہے  ۔

مقامی لوگوں نے فون پر بتایا  کہ آج جمعرات کو صبح سات بجے سے گیارہ بجے تک اچھی بارش ہوئی ہے، مگر اب بارش کا سلسلہ رُکا ہوا ہے،  پانی ویسے تو  نیچے اُترچکا ہے اور کافی لوگ اپنے اپنے گھروں میں پہنچ کر صاف صفائی کرنے میں لگے ہیں، البتہ لوگوں کو ڈر اس بات کا ہے کہ شام تک دوبارہ بارش  شروع ہوئی تو واپس پانی مکانوں میں آسکتا ہے، اسی طرح قریب میں واقع جوگ  (جوگ فالس) سے  پانی اگر چھوڑا گیا تو پھر ایک بار تباہی آسکتی ہے۔

خیال رہے کہ ولکی میں  بارش سے متاثرہ لوگوں کی  مدد کرنے میں  ولکی جماعت المسلمین  جناب  محمد میراں سدی باپا کی قیادت میں  اصلاح اسپورٹس سینٹر  کے کارکن  بالخصوص  افراز ہگلواڑی، فیروز ہگلواڑی، انصار بونگیا، فہیم سدی باپا، عمران شیخ، توفیق جِدّہ، مختار  وغیرہ  لوگ نہایت  سرگرم  رہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل تعلقہ بیلکے ہائی اسکول میں ایندھن کے صحیح استعمال پر آئیل کمپنی بیلگام کے ریجنل مینجر کا خطاب

جہاں بھی ایندھن کا استعمال کریں ہم ضرورت کے تحت کریں آج کل ایندھن کازیادہ تر غلط استعمال ہورہاہے جس کے نتیجے  میں آئندہ حالات  بگڑ سکتےہی۔ آئی اؤ سی ایل  بیلگام کے چیف ریجنل مینجر وی رمیش بابو نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

کاروار: ای۔جائیداد کے متعلق الجھن اور پیچیدگی پیدا نہ کریں : وڈیوکانفرنس کے ذریعے ڈی سی کی ضلع و تعلقہ جات افسران کو ہدایت

اترکنڑا ضلع کے شہری علاقوں میں 95فی صد ای ۔ جائیداد کا سافٹ وئیر تیار ہے۔ مقامی افسران کسی بھی پیچیدگی کو جگہ نہ دیتے ہوئے سرگرم ہونے کی ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے ہدایات جاری کی ہیں۔

ضلع پنچایت سی ای او کے حکم پر بھٹکل تحصیلدار نے ہٹائیں مرڈیشور میں غیرقانونی دکانیں

ترکنڑا ضلع پنچایت چیف ایکزی کوٹیو آفسر(سی ای او)  محمد روشن کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے بھٹکل تحصیلدارکی قیادت میں ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے افسران نے جمعرات کو دکانداروں کی مخالفت کے باوجود مرڈیشور کے سڑک کنارے بنی ہوئی غیر قانونی دکانوں کو ہٹانے کی کارروائی انجام دی۔

بھٹکل کاراسٹریٹ پر رات کے اندھیرے میں کچرا پھینکنے والوں کا بالاخر پتہ چل گیا، سی سی ٹی وی میں قید ہوگیا منظر

یہاں کار اسٹریٹ جیسی مصروف سڑک پر رات کے اندھیرے میں کچرے کا ڈھیر لگانے والوں سے عوام اور دکاندار بہت ہی زیادہ پریشان تھے اور کچرہ پھینکنے والوں کا پتہ لگانے کی کوششوں میں مصروف تھے، مگر بدھ کی شام کو بالاخر ایک رکشہ سے کچرہ پھینکنے کا منظر قریب میں واقع سی سی  ٹی وی کیمرے میں ...

بھٹکل نوائط کالونی کے عوام کی ہیسکام سے شکایت؛ 15 دنوں کی زائد میٹر ریڈنگ کے ساتھ تھمایاجارہا ہے بِل

بھٹکل ہیسکام کی جانب سے ہر ماہ 4, 5 اور 6  تاریخ کو گھروں میں دیا جانے والا بِل 18, 19 اور 20 تاریخوں کو دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں  12 سے 15 دنوں کی میٹر  Reading زائد ہوجاتی ہے اور ریڈنگ مطلوبہ یونٹ سے زائد ہونے کی صورت میں ہیسکام کی طرف سے پینالٹی بھی ڈالی  جاتی ہے، اس طرح کی شکایتیں ...

اترکنڑا ضلع میں موسلادھار بارش اور سیلاب سے سڑکیں خستہ : مسافر، عوام اورڈرائیور پریشان

اترکنڑا ضلع میں موسلادھار بارش اور سیلاب و طغیانی کی وجہ سے سب سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ عام زندگی معمول پر لوٹ کر ایک ماہ ہونےکو ہے لیکن راستوں کی حالت اب بھی خستہ حال ہے جس سے مسافروں کو کافی پریشانی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔