ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th December 2019, 7:10 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ہوناور 7/ستمبر (ایس او نیوز) اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ضلع شمالی کینرا میں نہ صرف تناؤ پید اکیا گیا تھا بلکہ ہوناور، کمٹہ اور سرسی میں پر تشددمظاہرے بھی کیے گئے تھے۔بی جے پی کے ارکان پارلیمان اور ارکان اسمبلی نے اشتعال انگیز بیانات دے کر ماحول کو مزید گرمایاتھا۔ اس وقت سدارامیا کی قیادت والی ریاستی حکومت نے بی جے پی کی مانگ پر یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیاتھا۔

 فرقہ وارانہ کشیدگی:    اس واقعے کے بعد ہوناور میں کئی دنوں تک بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ کشیدگی بنی رہی اور آج تک اس کی چنگاریاں پرامن ماحول کی راکھ میں دبی ہوئی محسوس کی جاتی ہیں، کیونکہ سی بی آئی تحقیقات جاری رہنے کی بات تو ہورہی ہے مگر اس مشکوک موت کے پیچھے کیا راز ہے اسے ظاہر نہیں کیاجارہا ہے۔ اس سے دوسال پہلے لوگوں کے دماغ میں جو بات بیٹھی تھی کہ یہ فرقہ وارانہ قتل ہے، وہی گمان ابھی بھی بنا ہوا ہے۔ اوراس موت کے لئے مسلم فرقے کو ہی ذمہ دار سمجھا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسال پہلے حالات بگڑنے کے بعدشہر میں پولیس بندوبست کے طور پر سڑک کے ایک کنارے دیودار کے درختوں کے نیچے پولیس ویان کو جہاں کھڑا کیا گیا تھا وہ آج بھی اسی مقام پر کھڑی ہوئی نظر آتی ہے۔

 اب منھ پر لگے ہیں تالے:    دوسری طرف اس مسئلے پر فرقہ وارانہ نفرت بھڑکانے والے بی جے پی کے شوبھا کرندلاجے اور اننت کمار ہیگڈے جیسے اراکین پارلیمان اور دیگر لیڈران انتخابی فائدہ اٹھانے کے بعد اب اس معاملے میں منھ پر تالے لگائے گھوم رہے ہیں۔انصاف پسند عوام کا ایک طبقہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ پریش میستا، ڈاکٹر چترنجن، تِمّپا نائک، یمونائک جیسے قتل کے معاملات میں بی جے پی کی دلچسپی متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے بجائے صرف اپنے لئے سیاسی مفاد حاصل کرنے تک محدود ہوتی ہے۔

 کیونکہ مرکز اور ریاست میں برسراقتدار بی جے پی کے لیڈران سے پریش میستا کیس کے تعلق اگر کوئی کچھ پوچھے تو ان کے پا س رٹا ہوا ایک ہی جواب ہے کہ سی بی آئی جیسی ایک آزاد مرکزی تحقیقاتی ایجنسی تفتیش کررہی ہے، جو بھی حقیقت ہوگی وہ سامنے آکر رہے گی۔دوسری طرف حزب مخالف کے کارکنان اور لیڈران سے سوال کریں تو ان کاجواب یہ ہوتا ہے کہ پریش میستا معاملے کو سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرکے ہمارے ہاتھ سے اقتدار چھین لینے والے بی جے پی لیڈران پوچھو۔ ہم اس معاملے میں کیوں سر درد مول لیں۔

 کہاں ہیں انصاف دلانے والے:    پریش میستا کی موت کے پس منظر میں کینرا رکن پارلیمان اننت کمار  ہیگڈے نے گرجتے ہوئے کہاتھا کہ خون کے ایک ایک قطرے کو انصاف دلایاجائے گا۔ لیکن انتخابات ختم ہونے اور سی بی آئی کو معاملہ سونپ دئے جانے کے بعد اننت کمار ہیگڈے ہوناور سمیت ضلع کے کئی مقامات کا دورہ کرتے رہے ہیں اور بیانات بھی جاری کرتے رہے ہیں۔ مگر کبھی بھول کر بھی انہیں پریش میستاکی یاد نہیں آئی اور تحقیقات کے سلسلے میں ایک جملہ بھی ان کے منھ سے نہیں نکلا ہے۔اور تعجب اس بات پر ہے کہ اننت کمار کی آواز میں جھنڈ کی شکل میں احتجاج کے لئے سڑکوں پر اترنے والے مقامی پارٹی کارکنان میں اتنا بھی دم نہیں ہے کہ وہ اننت کمار سے تحقیقات کے بارے میں کوئی سوال کرکے دیکھیں۔

 چابی کس کی مٹھی میں ہے:    سوال یہ اٹھتا ہے کہ پریش میستا کے متاثرہ خاندان کو آخر انصاف کب ملے گا۔ پریش میستا سے خون اور خاندا ن کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود اپنے لیڈروں کی اشتعال انگیزی کا شکار ہوکر سڑکوں پر اترنے اور فساد برپا کرنے کے مقدمات میں پھنسے ہوئے سیکڑوں  نوجوان کب اس عذاب سے نکلیں گے۔ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بننے والی مشکوک موت کی اصل حقیقت اور راز کب کھل کر سامنے آئیں گے، تاکہ ہوناور کا ماحول واقعی پرامن ہوسکے اورحقیقی معنوں میں سابقہ آپسی بھائی چارگی کی فضا دوبارہ قائم ہوسکے۔

 مگر ایسا لگتا ہے کہ ان سوالات کے جوابات جس الماری میں بند ہیں اس کی چابی سیاسی مفاد پرستی اور اشتعال انگیزی کرنے والے لیڈروں کی مٹھی میں بند ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

کاسرگوڈ: چوتھی جماعت کی طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کے ملزم ٹیچرکو عدالت نے دی20سال قید بامشقت کی سزا

یہاں کے ایڈیشنل سیشنس کورٹ نے چوتھی جماعت کی طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ایک  ٹیچر کو 20سال قید بامشقت اور 25ہزار روپے جرمانے کی سز اسنائی ہے۔ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید 2سال کی سزا کاٹنے کا حکم دیا ہے۔

رات بارہ بجے ہی بھٹکل میں منائی گئی یوم جمہوریہ کی تقریب؛ ہندوستانی آئین کی تجاویز پڑھ کر سنائی گئیں؛سینکڑوں لوگوں کی شرکت

بھٹکل میں  وی دی انڈین (بھٹکل) کی جانب سے تعلقہ اسٹڈیم کے باہر رات بارہ بجے یوم جمہوریہ کی تقریب نظر آئی جہاں  عوام نے  ہندوستانی آئین کی تجاویز پڑھ کر  ہندوستانی دستور کے تحفظ  کا عہد لیا۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

عوا م کے آدھار کارڈ سے ووٹر کارڈ کا لنک : پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کی تیار ی میں ہے حکومت ؛ کیاایک سے زائد ووٹ کو روکنے کے مقصد سے ہورہا ہے؟

پان  کارڈ، راشن کارڈ، بینک کھاتوں کے بعد اب بہت جلد عوام کے ووٹرکارڈ سے بھی آدھارکارڈ لنک کرنالازمی ہوجائے گا۔ ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق 121کروڑ عوام آدھارکارڈ کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں۔ بھارت کی کل آبادی کے 92فی صدعوام آدھار کارڈ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی روک سے پہلے ...

منگلورو ائیرپورٹ میں بم رکھنے والے دہشت گرد کو آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل، ایس ڈی پی آئی نے وزیر اعلی او ر وزیر داخلہ سے مانگا استعفیٰ

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے منگلور ایر پورٹ میں بم رکھنے والے دہشت گرد آدتیہ راؤ معاملے میں سچائی کو سامنے لانے اور وزیر اعلی و وزیر داخلہ کے استعفی کے مطالبے کو لیکر بنگلور ٹاؤن ہال میں ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔

26جنوری کو احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں:پولیس کمشنر بھاسکر راؤ

شہرکے پولیس کمشنر بھاسکر راؤ نے یوم جمہوریہ تقریبات کیلئے شہراور مانک شاہ پریڈ گراؤنڈ پر سکیورٹی انتظامات کی تفصیلات پیش کرنے کے دوران واضح کیا کہ 26جنوری کو شہر بھر میں یوم جمہوریہ تقریبات منانے والے اداروں انجمنوں پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے -

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

کنڑا روزنامہ کا بی جے پی پر پھر وار؛ لکھا،کرناٹک سے بی جےپی کے 25ایم پی منتخب ہونے کے باوجود مرکز نے کیا کرناٹک کو نظر انداز

بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے ، جس کا ترجمہ قارئین ...