بابری مسجد تاریخ کے آئینہ میں؛ 1528 میں بابری مسجد کی تعمیر کے بعد 1949 سے 2020 تک

Source: S.O. News Service | Published on 6th August 2020, 9:06 PM | اسپیشل رپورٹس | ملکی خبریں |

نئی دہلی 5 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) ایک طویل عدالتی جد و جہد کے بعد گزشتہ سال نومبر کی 9 تاریخ کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا۔

واضح رہے کہ ایودھیا تنازعہ میں 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اپنے فیصلے میں 2.77 ایکڑ متنازع اراضی کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے درمیان برابر یعنی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے خلاف 14 فریقین نے عدالت میں اسپیشل پرمیشن پٹیشن (خاص اجازت عرضی) دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ 5 دسمبر 2017 کو واضح کیا تھا کہ وہ 8 فروری سے ان درخواستوں پر سماعت شروع کرے گا۔

اب 5 اگست کو حکومت ہند کی جانب سے ایودھیا میں شاندار تقریب کے دوران رام مندر تعمیر کے لئے بھومی پوجن کی گئی اور وزیر اعظم نریندر مودی خود اس تقریب میں شامل ہوئے اور 40 کلو چاندی کی اینٹ سے بنیاد رکھی۔ آئیے اس موقع پر جانتے ہیں کہ ایودھیا میں سنہ 1528 سے لے کر آج تک تاریخ در تاریخ کیا کیا ہوا؟

ایودھیا کی تاریخ

1528 ۔ ایودھیا میں میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کرائی۔

1949 ۔ خفیہ طور سے بابری مسجد میں رام کی مورتی رکھ دی گئیں۔

1959۔ نرموہی اکھاڑے کی طرف سے متنازعہ مقام کے تعلق سے ٹرانسفر کی عرضی داخل کی ۔ بعد ازیں 1961 میں یو پی سنی سنٹرل بورٹ نے بھی بابری مسجد پر قبضہ کی عرضی داخل کی۔

1986۔ متنازعہ مقام کو ہندو عقیدت مندگان کے لئے کھول دیا گیا۔ اسی سال بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل ہوئی۔

1990 ۔ لال کرشن اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا کا آغاز کیا۔

1991 ۔ رتھ یاترا کی لہر سے بی جے پی اتر پردیش کے اقتدار میں آ گئی۔ اسی سال مندر تعمیر کے لئے ملک بھر سے اینٹیں بھیجی گئیں۔

6 دسمبر 1992 ۔ ایودھیا پہنچ کر ہزاروں کار سیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد جگہ جگہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ پولس نے لاٹھی چار ج کیا اور فائرنگ میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔ جلد بازی میں ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤنے مسجد کی از سر نو تعمیر کا وعدہ کیا۔

16 دسمبر 1992 ۔ بابری مسجد انہدام کے لئے ذمہ دار صورت حال کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن تشکیل دی گئی۔

1994۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں بابری مسجد انہدام کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا۔

4 مئی 2001 ۔ خصوصی جج ایس کے شکلا نے بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی سمیت 13 رہنماؤں کو سازش کے الزام سے بری کر دیا۔

یکم جنوری 2002 ۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک ایودھیا کمیشن کا قیام کیا جس کا مقصد تنازعہ کو حل کرنا اور ہندو و مسلمانوں سے بات کرنا تھا۔

یکم اپریل 2002 ۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مالکانہ حق کے تعلق سے الہ آباد ہائی کورٹ کی تین ججو ں کی بنچ نے سماعت کاآغاز کیا۔

5 مارچ 2003 ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کرنے کا حکم دیا تاکہ مندر یا مسجد کے حوالے سے ثبوت مل سکیں۔

22 اگست 2003 ۔ محکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کے باقیات کا اشاروہاں ملتا ہے۔ اس رپورٹ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے چیلنج کیا۔

ستمبر 2003 ۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسجد انہدام کے لئے اکسانے والے 7 ہندو رہنماؤ ں کو پیشی پر بلایا جائے۔

جولائی 2009 ۔ لبراہن کمیشن نے کمیشن تشکیل کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔

26 جولائی 2010۔ معاملہ کی سماعت کر رہے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھا اور تمام فریقین سے آپسی رضامندی سے حل نکالنے کی صلاح دی۔ لیکن کوئی فریق آگے نہیں آیا۔

28 ستمبر 2010 ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازعہ معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کردی جس کے بعد فیصلہ کی راہ ہموار ہوئی۔

30 ستمبر 2010 ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازعہ زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا ۔

9 مئی 2011 ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔

21 مارچ 2017 ۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کو آپسی رضامندی سے حل کرنے کی صلاح دی۔

19 اپریل 2017 ۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کا حکم سنایا۔

16 نومبر 2017۔ ہندو گرو شر ی شری روی شنکر نے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش شروع کی اور اس ضمن میں انہوں نے کئی فریقوں سے ملاقات بھی کی۔

فروری 2018۔ باقاعدگی سے سماعت کی اپیل خارج کر دی گئی۔ 8 فروری کو سنی وقف بورڈ کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل راجیو دھون نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر باقاعدہ سماعت کریں لیکن بنچ نے ان کی اپیل مسترد کر دیا۔

27 ستمبر 2018۔ ’مسجد اسلام کا لازمی جز نہیں‘ معاملہ کو بڑی بینچ کے سامنے بھیجنے سے انکار۔ عدالت نے 1994 کے اسماعیل فاروقی بنام یونین آف انڈیا معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا کہ ’مسجد اسلام کا لازمی جز نہیں‘۔ اس کو چیلنج کرنے والی عرضی کو سپریم کوٹ مسترد کر دیا لیکن یہ بھی واضح کیا کہ وہ فیصلہ مخصوص صورت حال میں زمین کو تحویل میں لینے کے لئے دیا گیا تھا اور اس کا اثر کسی دوسرے معاملہ پر نہیں ہوگا۔

29 اکتوبر 2018۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی جلد سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ کو جنوری 2019 تک کے لئے ملتوی کر دیا۔

8 مارچ 2019۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو ثالثی کے لئے بھیجا۔ پینل سے 8 ہفتوں میں کارروائی ختم کرنے کو کہا گیا۔

اگست 2019: ثالثی پینل حل تلاش کرنے میں ناکام رہا

یکم اگست کو ثالثی پینل نے رپورٹ پیش کی۔ 2 اگست کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ثالثی پینل اس کیس کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس معاملہ کی روزانہ سماعت 6 اگست سے سپریم کورٹ میں شروع ہوئی۔

16 اکتوبر 2019۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد معاملہ کی سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ رکھا گیا۔

9 نومبر 2019۔ سپریم کورٹ کی طرف سے فیصلہ سنایا گیا کہ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کے لئے اراضی ٹرسٹ کو سونپ دی جائے اور حکومت اس ٹرسٹ کو تشکیل دے۔ اس کے علاوہ متبادل کے طور پر سنی وقف بورڈ کو کسی دوسرے مقام پر مسجد تعمیر کے لئے زمین دی جائے۔

اس کے بعد حکومت کی طرف سے ٹرسٹ کا اعلان کر دیا گیا اور اب 5 اگست کو وزیر اعظم نریندرمودی  خود اپنے ہاتھوں سے مندر تعمیر کے لئے بھومی پوجن کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

ساحلی علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکزبننے جارہا ہےانکولہ شہری ہوائی اڈہ، بندرگاہ اور انڈسٹریل ایسٹیٹ کے تعمیری کام سے بدل رہا ہے نقشہ

آج کل  شمالی کینرا کے شہر انکولہ میں بڑے اہم سرکاری منصوبہ جات پر کام شروع ہورہا ہے جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ  مستقبل قریب میں یہاں کا نقشہ ہی بدل جائے گا اور پورے ساحلی علاقوں میں  انکولہ شہر کاروباری سرگرمیوں کا اہم مرکز بن جائے گا اورانکولہ  پورے ملک کی توجہ اپنی طرف ...

کاروار: سمندر میں غذاکی کمی سے  مچھلیوں کی افزائش اورماہی گیری کا کاروبار ہورہا ہے متاثر۔ ۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی رپورٹ 

ساحلی علاقے میں مچھلیوں کی افزائش میں کمی سے اس کاروبار پر پڑنے اثرا ت کے بارے میں مختلف ماہرین نے اپنے اپنے اندازمیں تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے۔کاروار ہریکنترا مینو گاریکے سہکاری سنگھا کے صدر کے سی تانڈیل کا کہنا ہے کہ ندیوں سے بہتے ہوئے  سمندر میں جاکر ملنے والا پانی بہت زیادہ ...

ملک تباہ، عوام مطمئن، آخر یہ ماجرا کیا ہے!۔۔۔۔ آز:ظفر آغا

ابھی پچھلے ہفتے لکھنؤ سے ہمارے عزیزداروں میں سے خبر آئی کہ گھر میں موت ہو گئی۔ پوچھا کیا ہوا۔ پتہ چلا کورونا وائرس کے شکار ہوئے۔ ایک ہفتے کے اندر انتقال ہو گیا۔ پوچھا باقی سب خیریت سے ہیں۔ معلوم ہوا ان کی بہن بھی آئی سی یو میں موت و زندگی کے درمیان ہیں۔

 کاروار:پی ایس آئی کے نام سے فیس بک پر نقلی اکاؤنٹ۔ آن لائن دھوکہ دہی کا نیا طریقہ ۔ تیزی سے چل رہا ہے فراڈ  کا کاروبار 

ڈیجیٹل بینکنگ اور بینک سے متعلقہ کام کاج انٹرنیٹ کے ذریعے انجام دینے کی سہولت اس لئے عوام کو فراہم کی گئی ہے تاکہ لوگ کم سے کم وقت میں بغیر کسی دقت کے اپنی بینکنگ کی ضرورریات پوری کرسکیں ۔ نقدی ساتھ لے کر گھومنے اور پاکٹ ماری کے خطرے جیسی مصیبتوں سے بچ سکیں۔لیکن اس سسٹم نے جتنی ...

بھٹکل کے بلدیاتی اداروں میں چل رہا ہے سرکاری افسران کا ہی دربار۔ منتخب عوامی نمائندے بس نام کے رہ گئے

ریاستی حکومت کی بے توجہی اورغلط پالیسی کی وجہ سے مقامی  بلدیاتی اداروں میں عوامی منتخب نمائندے بس نام کے لئے رہ گئے ہیں اور خاموش تماشائی بنے رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔جبکہ ان اداروں میں سرکاری افسران کا ہی دربار چل رہا ہے۔بھٹکل میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت  وغیرہ کا بھی یہی ...

بالاسبرامنیم اس ملک کے موسیقی اورلسانی ثقافت کی ایک عمدہ مثال تھے: سونیا گاندھی

کانگریس  کی  چیئرپرسن سونیا گاندھی نے موسیقی کی دنیا کی ایک عظیم ہستی بالاسبرامنیم کے انتقال پراپنے گہرے رنج  وغم  کا اظہار کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی  موسیقی اور لسانی  ثقافت کے عمدہ مثال تھے اور ان کے نہیں رہنے  سے آرٹ اور کلچرل کی دنیا پھیکی پڑگئی ہے۔

الطاف بخاری کا راجوری کے تین متاثرہ کنبوں کو معقول معاوضہ و نوکریاں فراہم کرنے کا مطالبہ

اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ پولیس کی فارنسک رپورٹ میں امشی پورہ شوپیاں انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے راجوری ضلع کے 3 مقتول مزدوروں کی شناخت کی تصدیق سے قانون کے تحت سزا یقینی ہے