ہندوتوا فاشزم کا ہتھکنڈا "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" ملک کے کئی حصوں میں خفیہ طور پر جاری

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 22nd January 2017, 8:53 AM | ساحلی خبریں | ملکی خبریں | اداریہ |

بھٹکل22/جنوری (ایس او نیوز)آر ایس ایس کے ہندو فاشزم کے نظریے کو رو بہ عمل لانے کے لئے اس کی ذیلی تنظیمیں خاکے اور منصوبے بناتی رہتی ہیں جس میں سے ایک بڑا ایجنڈا اقلیتوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہراساں کرنا اور خوف و دہشت میں مبتلا رکھنا ہے۔ حال کے زمانے میں سنگھ پریوار کی تنازعات کھڑا کرنے کے لئے صف اول کی تنظیم وشوا ہندو پریشد نے اپنی ذیلی تنظیم بجرنگ دل کے تعاون سے چلائی گئی مہمات "گھر واپسی"کے اہتمام اور "لو جہاد"مفروضے کے ذریعے ملک بھرمیں نفرت اور اشتعال کا ماحول پیدا کیاتھا۔جس کی مخالفت میں ملک کے سیکیولر اور امن پسند شہریوں نے آواز بھی بلند کی تھی۔

 لیکن اپنے فسطائی منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے فسطائی لیباریٹری میں نئے نئے تجربات کرنا اور نئی نئی اسکیمیں تیار کرنا سنگھ پریوار کے معمولات میں شامل ہے۔میڈیا کی رپورٹ پر بھروسہ کریں تو وشواہندو پریشد کی یوتھ ونگ یعنی بجرنگ دل  "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" مہم جسے فروری 2014 میں شروع کیا گیا تھا، مگر بعد میں اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں معاملہ اُٹھانے پر اسے کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کردیا گیا تھا، مگر سوشیل میڈیا میں آئے دن مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں کے ساتھ ہورہی شادیوں کی خبروں سے ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ خفیہ طور پر یہ مہم جاری ہے۔

میڈیا کی خبروں پر بھروسہ کریں تو  "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" کے تین مقاصد بتائےگئے تھے نمبر ایک ان ہندو لڑکوں کو تحفظ فراہم کرنا جو مسلم یا عیسائی لڑکیوں سے شادیاں رچاتے ہیں۔ دوسرے ہندو خاندانوں میں بیداری پیدا کرنا تا کہ ہندو لڑکیاں مسلم یا عیسائی لڑکوں کے ساتھ عشق ومحبت میں گرفتار ہوکر ان سے شادیاں نہ رچائیں۔تیسرا ہندولڑکوں کو مسلم اور عیسائی لڑکیوں کے ساتھ عشق لڑانے اور "جوابی لوجہاد"کے ذریعے انہیں ہندو دھرم میں لانے کی مہم چلانے پر اکسانا۔وشوا ہندو پریشدکے ذمہ داروں کے مطابق ان منصوبے کی تمام تفصیلات پر وی ایچ پی کی گولڈن جوبلی کے تناظر میں ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والے "ہندوسمیلن "میں بحث کرکے فیصلے لیے گئے تھے۔

 میڈیا رپورٹوں کے مطابق بجرنگ دل  نے ہندو لڑکیوں کے ساتھ کیے گئے نام نہاد،لو جہاد کے جواب میں "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" کارروائی کامنصوبہ بنایا ۔جس کے تحت مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو ہندو خاندانوں کی بہو بنا کر لایا جائے گا۔ بتایا گیا تھا کہ  بجرنگ دل کی "بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" مہم کے تحت ہندو لڑکوں کو دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کو دھوکا دینے یا پیسے کا لالچ دینے  کے لئے نہیں کہا جائے گا۔بلکہ صرف ایسے جوڑوں یعنی ہندو لڑکا اور مسلم یا عیسائی لڑکی کوشادی سے پہلے یا بعد میں لڑکی کے خاندان والوں سے کسی قسم کا خطرہ ہونے کی صورت میں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔خاندان والوں کی طرف سے شادی کی مخالفت سامنے آنے پر بجرنگ دل والے آگے بڑھ کرایسے جوڑوں کی شادی کروانے میں مدد کریں گے۔

بتایا گیا تھا کہ مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو ہندو خاندانوں کی بہو بنانے کی یہ مہم ملک کے کئی حصوں  خاص کر اُترپردیش ،کیرالہ اور کرناٹکا میں  چلائی جائے گی۔"بہو لاؤ،بیٹی بچاؤ" مہم کو عام کرنے اور بیداری لانے کے لئے نکڑ ناٹک (اسٹریٹ پلے)، پمفلیٹس اور بینرس کا سہارا بھی لیا جائے گا۔

مرکزمیں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جب اس مہم کے تعلق سے پارلیمنٹ میں آواز اُٹھی تو  آر ایس ایس کی یوتھ وینگ وشوا ہندو پریشد نے بجرنگ دل کو  ہدایت دی تھی کہ فی الحال کچھ عرصہ کے لئے یہ مہم ملتوی کی جائے ۔ بتایا گیا تھاکہ اس سلسلے میں اُترپردیش اقلیتی کمیشن کی طرف سے آگرہ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو نوٹس جاری کی گئی تھی کہ اس مہم کے تعلق سے کس طرح کی کاروائی کی گئی ہے، اُس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔جس کو دیکھتے ہوئے اس مہم کو ملتوی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

بھلے ہی یہ مہم کچھ عرصہ کے لئے ملتوی کرنے کی بات میڈیا میں دی گئی تھی، مگر سوشیل میڈیا بالخصوص وہاٹس آپ پر آئے دن مسلم لڑکیوں کی مندروں میں ہونے والی شادیوں کی تصاویر اور خبریں تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں ، ان خبروں پر بھروسہ کریں تو اس طرح کی شادیاں زیادہ تر اُترپردیش کے مختلف علاقوں میں ہورہی ہیں، ساتھ ساتھ کچھ واقعات کرناٹک اور کیرالہ کے بعض علاقوں کی بھی وہاٹس آپ پر گردش کرتی دیکھی گئی ہیں،  جس کو  دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جارہی ہے کہ بجرنگ دل اور وی ایچ پی کی یہ مہم کھلے عام نہ سہی، خفیہ طور پر برابر جاری ہے، جس کے لئے ان کے نوجوان سرگرم ہوکر کام کررہے ہیں اور مسلم لڑکیوں کو ورغلاکر اُنہیں مندروں میں لے جاکر شادیاں رچائی جارہی ہیں۔اس تعلق سے مسلم تنظیموں نے مسلم نوجوانوں بالخصوص خواتین سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے اور بجرنگ دل کے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے باخبر رہنے کی تاکید کی ہے۔

(اوپرتصویر میں کیرالہ کے ایک مندر میں ہورہی شادی کا منظر؛جس میں ایک ہندو لڑکا مسلم لڑکی کے گلے میں منگل سوترپہنا رہا ہے تو دیگر تصویروں میں ہاروں کا تبادلہ ہورہا ہے)

ایک نظر اس پر بھی

انکولہ میں اندوہناک حادثہ؛ ہائی وے پردوڑتی لاری کو الیکٹرک وائر چھوگئی، ڈرائیور ہلاک

اگر آپ کسی بڑی سواری پر سفر کررہے ہیں تو   ہوشیار،  آپ کی سواری اوپر سے گذرتی ہوئی الیکٹرک وائر کو چھوسکتی ہے جس کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو نا یقینی ہے۔ جی ہاں، ایسا ممکن ہے کیونکہ   اتوار کو ہبلی انکولہ نیشنل ہائی وے پر اس طرح کا حادثہ پیش آچکا ہے جس میں لاری ڈرائیو کی ...

یلاپور میں کار اور ٹینکر کی بھیانک ٹکر؛ دلہا ہلاک چار دیگر شدید زخمی

یلاپور نیشنل ہائی وے 63 پر کار اور ٹینکر کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر میں کار پر سوار دُلہا کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ کار پر سوار دیگر رشتہ دار شدید زخمی ہوگئے۔ حادثہ اتوار کو ملن ہوٹل  کے قریب واقع ایک موڑ پر پیش آیا۔

یلاپور ضمنی انتخابات :ہیبار صاحب تمہارے پوتوں کو نااہل کا مطلب کیا بتائیں گے : ٹی ایشور

یلاپور ضمنی انتخابات میں گرمی آتی جارہی ہے، مخالف فریقوں کے درمیان بیان بازی شروع ہوچکی ہے۔ کانگریس پسماندہ طبقات شعبہ کے ریاستی صدر ٹی ایشور نے بی جےپی امیدوار شیورام ہیبار کا مذاق اڑاتے ہوئے سوال پوچھا کہ   ہیبار صاحب ! آپ کے پوتے ہونگے ؟ جب وہ آپ سے  نااہل کے  مطلب پر سوال ...

پنجابی دوشیزہ کی عصمت دری، ناگپاڑہ پولس نے ملزم کو سی سی ٹی وی کی مدد سے کیا گرفتار

نجاب سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ دوشیزہ جو اپنے گھر سے بھاگ کر ممبئی پہنچی تھی اس کی عروس البلاد ممبئی کے سرخ بتی والے علاقہ کماٹی پورہ میں عصمت دری کی گئی بعد میں مقامی ناگپاڑہ پولس اسٹیشن نے عصمت دری کے ملزم اختر ریاض الدین قریشی کو کماٹی پورہ میں نصب شدہ خفیہ سی سی ٹی وی کے ...

کانگریس این سی پی چھوڑ کر جانے والے لیڈران کی گھر واپسی کے سلسلے کا آغاز

مہاراشٹر میں انتخابات سے قبل کانگریس اور این سی پی کے میونسپل کونسلرز ، اراکین اسمبلی اور لیڈران نے ایک طرح سے بی جے پی اور شیوسینا میں شامل ہو کر جس طرح سے بھگوا سیاسی جماعتوں کو طاقت دی تھی اب وہی لیڈران ریاست میں بی جے پی سینا حکومت کے قائم نہیں ہونے کے آثار سے کانگریس این سی ...

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سےمیڈیا میں خواتین کے موضوع پرمذاکرہ؛ میڈیا سے وابستہ خواتین کی صلاحیتوں کا استعمال بے حد کم ہونے پر تشویش

جماعت اسلامی حلقہ دہلی کی شعبہ خواتین نے میڈیا میں خواتین کے موضوع پر ایک مباحثہ کا انعقاد  مرکز جماعت اسلامی ہند، ابولفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد کیا۔ جس میں مختلف میڈیا میں کام کر رہی خواتین جرنلسٹ کے علاوہ میڈیا میں زیر تعلیم طالبات اور دیگر خواتین نے بھی حصہ لیا۔ پروگرام ...

چنمیانند کو جھٹکا، متاثرہ کے ’بیان کی کاپی‘ استعمال کرنے کے فیصلہ پر روک

 الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پر سپریم کورٹ نے اسٹے لگا دیا ہے جس میں سابق مرکزی وزیر چنمیانند کو شاہجہان پور کی قانون کی طالبہ کے ذریعہ درج کرائے گئے بیان کی مصدقہ کاپی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

گاندھی سے گوڈسے کی طرف پھسلتے ہوئے انتخابی نتائج   ۔۔۔۔    اداریہ: کنڑاروزنامہ ’وارتا بھارتی‘  

لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے  اور بی جے پی کو تاریخ سازکامیابی حاصل ہونے پر مینگلور اور بنگلور سے ایک ساتھ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ وارتھا بھارتی نے  بے باک  اداریہ لکھا ہے، جس کا اُردو ترجمہ بھٹکل کے معروف صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے کیا ہے،  ساحل ا ٓن لائن ...

امن پسند ضلع شمالی کینرا میں بدامنی پھیلانے والوں کی تعداد میں اچانک اضافہ؛ الیکشن کے پس منظر میں 1119 معاملات درج

عام انتخابات کے دنوں میں محکمہ پولیس کی طرف سے امن و امان بنائے رکھنے کے مقصد سے شرپسندوں اور بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ایک عام سی بات ہے۔ لیکن اکثر و بیشتر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سماج میں مجرمانہ کردار رکھنے والے افراد کے علاوہ برسہابرس پہلے کسی جرم کا سامنا کرنے ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

امن کے باغ میں تشدد کا کھیل کس لئے؟ خصوصی اداریہ

ضلع شمالی کینر اکو شاعرانہ زبان میں امن کا باغ کہا گیا ہے۔یہاں تشدد کے لئے کبھی پناہ نہیں ملی ہے۔تمام انسانیت ،مذاہب اور ذات کامائیکہ کہلانے والی اس سرزمین پر یہ کیسا تشددہے۔ ایک شخص کی موت اور اس کے پیچھے افواہوں کا جال۔پولیس کی لاٹھی۔ آمد ورفت میں رکاوٹیں۔ روزانہ کی کمائی سے ...

کیا ساحلی پٹری کی تاریکی دور ہوگی ؟ یہاں نہ ہواچلے ، نہ بارش برسے : مگر بجلی کے لئے عوام ضرورترسے

ساحلی علاقہ سمیت ملناڈ کا کچھ حصہ بظاہر اپنی قدرتی و فطری خوب صورتی اور حسین نظاروں کے لئے متعارف ہو، یہاں کے ساحلی نظاروں کی سیر و سیاحت کے لئے دنیا بھر کے لوگ آتے جاتے ہوں، لیکن یہاں رہنے والی عوام کے لئے یہ سب بے معنی ہیں۔ کیوں کہ ان کی داستان بڑی دکھ بھری ہے۔ کہنے کو سب کچھ ہے ...