حجاب اگر رائج ہے تو پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے، راجیو دھون نے کہا کہ اس معاملہ میں مسلم معاشرہ کی روایت کو دیکھنا ضروری ہے ، احمدی نے بتایا کہ پابندی کی وجہ سے17ہزار لڑکیوں نے امتحان نہیں دیا

Source: S.O. News Service | Published on 15th September 2022, 11:24 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 15؍ستمبر (ایس او  نیوز؍ایجنسی) کرناٹک  کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری مقدمات کی شنوائی کے دوران بدھ کو ملک سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون اور حذیفہ احمدی نےمسلم طالبات کی جانب سے دلائل دئیے اور کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ساتھ کرناٹک کی بی جے پی حکومت کے فیصلے کو انصاف کے منافی قرار دیا۔ جسٹس دھولیا اور جسٹس گپتا کی بنچ کے سامنے  بحث کی شروعات کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون  نے بہت زوردار دلائل پیش کئے۔

 سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون جو بہت کم معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں،  نے اس معاملے میں مسلم طالبات کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے بنچ کے سامنے دلیل دی کہ کرناٹک ہائی کورٹ کو حجاب پر پابندی کا فیصلہ کرنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ اس نے جو فیصلہ دیا اس میں بھی کئی غلطیاں ہیں جن کی جانب سے اس سے قبل ہی نشاندہی ہوئی ہے اور اب میں بھی وہی بتارہا ہوں ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہائی کورٹ اسی بات کو مد نظر رکھ لیتا کہ حجاب مسلم معاشرے میں رائج ہے یا نہیں تو اسے اس طرح کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔  راجیو دھون کے مطابق مسلم معاشرے میں ایک زمانے سے  حجاب پوری پابندی کے ساتھ رائج ہے۔ جو عورتیں اسے استعمال نہیں کرتیں وہ استثنیٰ ہیں کیوں کہ حجاب عمومی طور پر رائج ہیں اور جو حجاب نہیں لیتی ہیں وہ بھی کسی نہ کسی سطح پر   حجاب کا اہتمام کرتی ہیں۔ اس لئے ان خواتین کے انتخاب کی بنیاد پر پورے مسلم معاشرے کے لئے ایسا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ راجیو دھون نے دوسری اہم دلیل دی کہ حجاب  پہننا لباس کے انتخاب کے                    اختیار کے تحت آتا ہے جو اظہار رائے کی آزادی کا اہم حصہ ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے کیسے اور کس بنیاد پر اتنی  بڑی بات سے صرف ِنظر کیا ۔ 

 راجیو دھون نے ہائی کورٹ کے حکم کی بنیاد پرہی یہ سوال پوچھا کہ اگر ہائی کورٹ یا کرناٹک حکومت کا حکم کہتا ہے کہ کلاس روم میں برقعے کی اجاز ت نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اس سے چہرہ نظر نہیں آتا ہے ، یہ بات قابل غور ہو سکتی ہے لیکن یونیفارم کے ساتھ  سر پر اسکارف باندھنے والی بچیوں کو اسی حکم کے تحت روک دیا گیا۔ کیا یہ کھلی نا انصافی نہیں ہے ؟ کیا سرکار نے اپنے بے وقوفی بھرے قدم کے ذریعے لاکھوں طالبات کامستقبل اندھیرے میں نہیں ڈھکیل دیا ہے؟ راجیو دھون  نے کیرالا حکومت کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ وہاں حجاب کو فرض مانا  گیا ہے اور اس کی بنیاد قرآن و حدیث ہیںلیکن ہم اس کی فرضیت میں نہ پڑیں تب بھی میری یہی دلیل ہے کہ اگر معاشرے میں حجاب رائج ہے اور اسے پوری طرح اپنایا جاتا ہے تو اس پر پابندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔حکومت کو اس معاملے میں یہی رویہ اپنانا چاہئے اور سپریم کورٹ کو بھی اسی بنیاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دینا چاہئے۔ 

 ایڈوکیٹ راجیو دھون کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایڈوکیٹ  حذیفہ احمدی نے اپنے دلائل کی شروعات کی ۔ انہوں نے کرناٹک حکومت کے ہدایت نامہ پر تنقیدیں کرتے ہوئے کہا کہ اس ہدایت نامہ کی رُو سے دیکھا جائے توریاست میں یکجہتی لانے کے لئے سب کو ایک جیسا پہننے کا فرمان دیا گیا جبکہ ریاستی حکومت یہ بھول گئی کہ یکجہتی کثرت میں   وحدت کے سبب  ہی آسکتی ہے اور یہ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کثرت میں وحدت کو فروغ دیں ’یک رنگی ‘ سے پرہیز کریں۔

 ایڈوکیٹ احمدی نے اس دوران یہ دعویٰ بھی کیا کہ حجاب پر پابندی کے بعد سے ریاست میں ہزاروں لڑکیوں نے اسکول یا کالج چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح سے تو ہم لڑکیوں کو تعلیم سے دور کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دلائل کے ساتھ جسٹس راجندر سچر کی  تیار کردہ مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی پسماندگی سے متعلق جامع رپورٹ کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ اس رپورٹ کو اگر ہم مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا معیار تسلیم کرلیں تو  یہ بات کھل کرسامنے آئے گی کہ مسلم لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ صرف حجاب کی وجہ سے کتنا تعصب ہو تا ہے۔ ایسے میں کرناٹک حکومت کا حکم تو انہیں اور بھی زیادہ شکار بناسکتا ہے۔ ایڈوکیٹ احمدی کے مطابق اب تک کی رپورٹس یہی کہہ رہی ہیں کہ کرناٹک حکومت کے مذکورہ احکام کے بعدریاست میں ۱۶؍ سے ۱۷؍ ہزار لڑکیوں نے امتحا ن نہیں دیا ہے ۔ یہ بہت بڑا نمبر ہے۔ ہمیں بہت ہمدردی کے ساتھ اس پر غور کرنے کی ضرو رت ہے۔ ایڈوکیٹ احمدی نے اس کے بعد دستور کی تمہید کو بھی بطور دلیل پیش کیا اور اس میں پیش کئے گئے الفاظ کا تجزیہ بنچ کے سامنے کرکے دکھایا۔

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...

ہنڈن برگ رپورٹ معاملہ: ’کروڑوں ہندوستانیوں کی جمع پونجی ڈوبا دی گئی‘، کانگریس کا پی ایم مودی پر شدید حملہ

اڈانی گروپ سے متعلق ہنڈن برگ کی رپورٹ پر سیاسی ہلچل تیز ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ آج کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کر مرکز کی مودی حکومت پر شدید حملے کیے۔

نئے ٹیکس نظام پر چدمبرم نے پھر اٹھائے سوال، کہا- اخبارات میں شائع ہونے والے تجزیہ سے کھل رہے ہیں راز

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کے ذریعہ بجٹ میں پیش کیے گئے نئے ٹیکس نظام پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس سسٹم کے راز معروف اخبارات میں شائع ہونے والے تجزیوں اور رپورٹس سے کھل رہے ہیں جو سب کے سامنے آ رہا ہے۔

اپوزیشن گوتم اڈانی پر بحث چاہتی تھی، بحث سے قبل ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

گوتم اڈانی خود تو پریشان ہیں ہی ساتھ میں ان کی وجہ سے حکومت بھی تناؤ میں ہے۔ آج ایوان میں بجٹ سفارشات پر بحث ہونی تھی لیکن حزب اختلاف نے اڈانی پر بحث کو لے کر ہنگامہ کر دیا، جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

دسمبر 2022 میں تقریباً 37 لاکھ ہندوستانی واٹس ایپ اکاؤنٹس پر لگائی گئی پابندی، کمپنی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف

واٹس ایپ کے ذریعہ ہندوستانی اکاؤنٹس پر گزشتہ کچھ ماہ میں بڑی تعداد میں پابندی لگائی گئی ہے اور کمپنی کی تازہ رپورٹ میں دی گئی تعداد نے ایک بار پھر لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔