حجاب تنازعہ: سپریم کورٹ نے سماعت 16 ستمبر تک مکمل کرنے کا دیا اشارہ، کرناٹک حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے ملا 2 دن کا وقت

Source: S.O. News Service | Published on 12th September 2022, 7:09 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ میں آج ایک بار پھر حجاب تنازعہ پر مسلم فریق کی طرف سے دلائل پیش کیے گئے۔ پیر کے روز جسٹس ہیمنت گپتا نے اشارہ دیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعہ عائد کی گئی پابندی کے خلاف داخل عرضی پر جاری سماعت 16 ستمبر تک پوری کی جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے وکلاء سے 14 ستمبر تک دلیل مکمل کرنے کے لیے بھی کہا ہے۔

آج ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کرناٹک حکومت سے بھی اس معاملے میں اپنی بات رکھنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ 14 ستمبر تک سبھی جانکاریاں حاصل کرنے اور دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ فیصلے سے متعلق اپنا رجحان تیار کرے گا۔ گویا کہ 16 ستمبر تک اس معاملے میں کوئی فیصلہ صادر ہو سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعرات (8 ستمبر) کو سپریم کورٹ نے کرناٹک حجاب پابندی معاملے میں عرضی دہندگان سے مسلمانوں اور سکھوں کی رسموں کا موازنہ نہ کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ مذہب کی رسموں کا موازنہ کرنا بہت مناسب نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ وہ ملک کی ثقافت میں اچھی طرح سے گھل مل گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی ہٹانے سے انکار کرنے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج پیش کرنے والی کئی عرضیوں پر مشترکہ سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ مذہب میں پانچ ’ک‘ (کیش، کڑا، کنگھا، کچھا، کرپان) پوری طرح سے لازم ہیں۔

جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے اس معاملے میں ایک عرضی دہندہ کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کے ذریعہ سکھ مذہب اور پگڑی کی مثال دیئے جانے کے بعد یہ تبصرہ کیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ سکھ مذہب کے حقوق یا رسموں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آئین کے شق 25 کا حوالہ دیا اور کہا تھا کہ یہ سکھوں کی طرف سے ’کرپان‘ لے جانے کی سہولت دیتا ہے۔

دراصل عرضی دہندگان میں سے ایک کی طرف سے پیش سینئر وکیل دیودَت کامت نے بنچ کو بتایا تھا کہ کرناٹک حکومت نے کہا ہے کہ اگر طالبات سر پر دوپٹہ پہن کر آئیں گی تو دیگر لوگ ناراض ہوں گے، لیکن یہ اس پر پابندی لگانے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا تھا کہ سر پر دوپٹہ پہننا شق 19 اور 21 میں موجود بنیادی حقوق کا حصہ ہونے کے علاوہ مذہبی اعتقاد کا بھی ایک حصہ ہے۔ کامت نے کچھ وکلا کی پیشانی پر لگائے جانے والے نشان ’نمام‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہندو مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے، لیکن اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا تھا کہ یہ عدالت میں ڈسپلن کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟ کیا یہ عوامی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے؟

ایک نظر اس پر بھی

بجٹ 2023: ’کوئی امید نہیں، بجٹ ایک بار پھر ادھورے وعدوں سے بھرا ہوگا‘، سدارمیا کا اظہارِ خیال

یکم فروری کو مرکز کی مودی حکومت رواں مدت کار کا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے والی ہے۔ مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ذریعہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل بجٹ 2023 کو لے کر کانگریس کے کچھ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔

کرناٹک ہائی کورٹ کی وارننگ، کہا: چیف سکریٹری دو ہفتوں میں لاگو کرائیں حکم

کرناٹک ہائی کورٹ نے منگل کو انتباہ دیا کہ اگر ریاستی حکومت دو ہفتوں کے اندر سبھی گاؤں اور قصبوں میں قبرستان کے لئے زمین فراہم کرانے کے اس کے حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔

منگلورو: محمد فاضل قتل میں ہندوتوا عناصر ملوث ہونے کا دعویٰ - اپوزیشن پارٹیوں نےکیا کیس کی دوبارہ جانچ کامطالبہ 

بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین نیٹارو قتل کے بدلے میں عناصر کی طرف سے سورتکل میں محمد فاضل کو قتل کرنے کا کھلے عام دعویٰ کرنے والے وی ایچ پی اور بجرنگ دل لیڈر شرن پمپ ویل کے خلاف کانگریس ، جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی جیسی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قتل کیس کی ازسر نو جانچ کا مطالبہ کیا ...

ٹمکورو میں اشتعال انگیز بیان دینے والے شرن پمپ ویل سمیت دیگر ہندوتوا لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ لے کر اے پی سی آر نے ایس پی کو دیا میمورنڈم

حال ہی میں ریاست کرناٹک کے  ٹمکور میں  منعقدہ شوریہ یاترا کے دوران وی ایچ پی لیڈر شرن پمپ ویل نے جو متنازع اور اشتعال انگیز بیان دیا  تھا ، اس پر کٹھن کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتارکرنے کا مطالبہ لے کر  ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) کے  ایک وفد نے ٹمکورو ...

ہنڈن برگ رپورٹ معاملہ: ’کروڑوں ہندوستانیوں کی جمع پونجی ڈوبا دی گئی‘، کانگریس کا پی ایم مودی پر شدید حملہ

اڈانی گروپ سے متعلق ہنڈن برگ کی رپورٹ پر سیاسی ہلچل تیز ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ آج کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کر مرکز کی مودی حکومت پر شدید حملے کیے۔

نئے ٹیکس نظام پر چدمبرم نے پھر اٹھائے سوال، کہا- اخبارات میں شائع ہونے والے تجزیہ سے کھل رہے ہیں راز

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے ایک بار پھر مرکزی حکومت کے ذریعہ بجٹ میں پیش کیے گئے نئے ٹیکس نظام پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس سسٹم کے راز معروف اخبارات میں شائع ہونے والے تجزیوں اور رپورٹس سے کھل رہے ہیں جو سب کے سامنے آ رہا ہے۔

اپوزیشن گوتم اڈانی پر بحث چاہتی تھی، بحث سے قبل ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

گوتم اڈانی خود تو پریشان ہیں ہی ساتھ میں ان کی وجہ سے حکومت بھی تناؤ میں ہے۔ آج ایوان میں بجٹ سفارشات پر بحث ہونی تھی لیکن حزب اختلاف نے اڈانی پر بحث کو لے کر ہنگامہ کر دیا، جس کی وجہ سے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

دسمبر 2022 میں تقریباً 37 لاکھ ہندوستانی واٹس ایپ اکاؤنٹس پر لگائی گئی پابندی، کمپنی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف

واٹس ایپ کے ذریعہ ہندوستانی اکاؤنٹس پر گزشتہ کچھ ماہ میں بڑی تعداد میں پابندی لگائی گئی ہے اور کمپنی کی تازہ رپورٹ میں دی گئی تعداد نے ایک بار پھر لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

کیرالہ کے ’بے باک‘ صحافی صدیق کپن جیل سے رہا،یو اے پی اے کو قرار دیا سیاسی آلہ

  سخت غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت 27 ماہ سے جیل میں بند کیرالہ کے صحافی صدیق کپن جمعرات کی صبح لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل سے رہا ہوگئے۔