69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملہ میں سی بی آئی جانچ کی درخواست خارج

Source: S.O. News Service | Published on 28th July 2020, 11:38 AM | ملکی خبریں |

الہ آباد،28؍جولائی(ایس او نیوز؍یو این آئی) الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئو بینچ نے ریاست کے پرائمری اسکولوں میں 69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملہ میں سی بی آئی جانچ کرائے جانے کے مطالبہ والی پی آئی ایل کو خارج کردیاہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل راگھویندر سنگھ وساتھی ایڈیشنل چیف مستقل اٹارنی رن وجے سنگھ نے سماعت کے وقت عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ میں حکومت کے ذریعہ پہلے سے جانچ چل رہی ہے اور متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔یہ بھی کہا کہ پی آئی ایل برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

جسٹس پنکج کمار جیسوال و جسٹس کرونیش سنگھ پنوار کی بینچ نے یہ حکم مقامی وکیل ستیندر کما رسنگھ کی جانب سے دائر مفاد عامہ عرضی کو خارج کرتے ہوئے دیا۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ ریاست میں 69 ہزار اساتذہ بھرتی معاملہ کے نام پر لوگوں سے بہت زیادہ پیسہ لیا گیا۔اس معاملہ میں کئی لوگوں و تعلیمی مافیاوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔درخواست گزار نے پی آئی ایل میں بیسک ایجوکیشن وزیر ستیش چندر دویدی کو بھی پارٹی بناتے ہوئے پورے معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے سماعت کے وقت اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا کہ درخواست گزار وزیرتعلیم کو نام سے فریق کیسے بنا سکتا ہے،کہا کہ اس معاملہ میں درخواست گزار کی ساکھ و انٹینشن دونوں پر شک دکھائی دے رہا ہے۔مزید کہا کہ پورا معاملہ پریاگ راج ضلع سے متعلق ہے اور اس میں ایس ٹی ایف جانچ کررہی ہے اور کئی ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔لہٰذا درخواست پری میچیور ہے۔عدالت نے درخواست گزار کے واپس لینے کی اپیل پر درخواست خارج کردی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔

ممبئی میں طوفانی بارش سے سیلابی صورتحال، عام زندگی مفلوج، متعدد رہائشی کالونیاں زیر آب

ملک کی تجارتی راجدھانی ممبئی میں گزشتہ شب سے جاری بھاری بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں اس طرح کی بارش نے ایک بار پھر شہر کی عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔