’یو این قراردادوں کے مطابق سبھی کو برابری کا حق، حکومت ہند اس کی پابند‘

Source: S.O. News Service | Published on 4th March 2020, 12:08 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

نئی دہلی،4؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) اقوام متحدہ انسانی حقوق کی ہائی کمشنر (یو این ایچ سی ایچ آر) نے سپریم کورٹ میں منگل کو مداخلت کی عرضی دائر کرکے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کے سلسلے میں کچھ اعتراضات درج کروائی ہیں۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کی کمشنر مشیل بچلیٹ نے سی اے اے کے سلسلے میں چیلنج کرنے والی عرضیوں میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔ بچلیٹ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ مَینُوَل 2013 کے حکم 17، ضابطہ 3 کے تحت یہ درخواست دائر کر رہی ہیں۔

درخواست گزار نے سی اے اے کے دائرے کو سنگین قرار دیتے ہوئے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون ہندوستان آنے والوں کے لیے صرف مذہبی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ قانون چند مخصوص نسلی مذہبی گروپ تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تجویز 48/141 کے تحت فراہم کردہ تمام انسانی حقوق کے تحفظ اور اصلاحات کے دائرہ کار کے تحت دیو مکھرجی اور دیگر بمقابلہ حکومت ہند کے معاملے میں انصاف دوست کے طور پر مداخلت کرنا چاہتی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کو دی گئی درخواست میں مشیل نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی کنونشنوں اور اعلامیوں کے مطابق تمام شہری یا غیر شہری تارکین وطن چاہے تمام انسانی حقوق اور مساوات کے حقوق کے مستحق ہیں اور حکومت ہند اس کی پابند ہے۔

گذشتہ دسمبر میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی بنیاد پر ستائے گئے اقلیتی افراد کو ہندوستانی شہریت دینے کا قانون فراہم کرتا ہے۔ ان تین ممالک کی اقلیتوں میں ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ مت، جین اور پارسی شامل ہیں۔ اپوزیشن اس قانون کی مخالفت کر رہا ہے۔ اپوزیشن اور ملک کے لاکھوں افراد کی دلیل ہے کہ مذہبی بنیاد پر شہریت دینا غلط ہے اور یہ آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔

سی اے اے کے خلاف پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے جاری ہیں۔ سب سے پہلے مخالفت کے شعلے آسام اور پھر مغربی بنگال میں پھیلے۔ مغربی بنگال میں سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد دہلی، اتر پردیش، ممبئی سمیت ملک کے کئی شہروں میں سی اے اے کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کے دوران تقریباً 25 افراد ہلاک ہوگئے۔ سب سے زیادہ 18 اموات اتر پردیش میں ہوئیں۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا ہنوز جاری ہے۔

سپریم کورٹ میں اس قانون کو چیلنج کرنے والی کم از کم 200 عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ہوائی سفر کرنے والے 800 افراد کورونا متاثر پائے گئے

گھریلو پروازیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد تقریباً ڈیڑھ ماہ میں 800 افراد سے زیادہ ہوائی سفر کے بعد کووڈ۔19 سے متاثر پائے گئے ہیں لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ طیارے کے اندر وائرس کے پھیلنے کا اب تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

لاء اینڈ آرڈر: یوپی حکومت پر کانگریس کے حملے میں مزید شدت

اترپردیش میں جرائم کے بڑھتے واقعات اور ریاست میں نظم ونسق کے معاملے میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئےیوپی کانگریس نے بدھ کو ریاست سے بی جے پی حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا۔

چین کی انتقامی کارروائی،امریکی شہریوں پر ویزا سے متعلق پابندی عائد کرے گا چین

چین نے ہانگ کانگ سے وابستہ امور پر کھل کر اپنے خیالات کااظہار کرنے والے امریکی شہریوں پر ویزا سے متعلق پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے،چین کے اس اقدام کو امریکہ کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کورونا: عراق میں ریکارڈ معاملے آئے سامنے، 24 گھنٹے میں 2741 کیسز درج

عراق میں کورونا وائرس کے ایک دن میں2741 نئے کیسز درج ہوئے ہیں۔ عراق کے ایک افسر نے اس تعلق سے اطلاع فراہم کی ۔ پارلیمانی ہیلتھ کمیٹی کے رکن حسن خلاطی نے بیان جاری کر کے کہا ’’اس وبا کے خلاف جنگ ایک طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ اس دوران عراق کو اس سے لڑنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنا ...

خطرے میں اسپین، 95 فیصد آبادی ہو سکتی ہے کورونا کا شکار: تحقیق

کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 کے حوالہ سے اسپین میں کی گئی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپین کی آبادی کا صرف 5فیصد ہی اینٹی باڈیز تیار کرسکا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ’ہرڈ امیونٹی‘ حاصل نہیں کی جاسکتی۔