بھٹکل میں ہیسکام کے بجلی بل کی ادائیگی کو لے کر تذبذب : حساب صحیح ہے، میٹر چک کرلیں؛افسران کی گاہکوں کو صلاح

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 16th June 2020, 11:36 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:16؍جون (ایس اؤ نیوز) تعلقہ میں لاک ڈاؤن کے بعد  ہیسکام محکمہ کی طرف سے جاری کردہ بجلی بلوں  کو لے کر عوام تذبذب کا شکار ہیں۔ ہاتھوں میں بل لئے ہیسکام دفتر کاچکر کاٹنے پر مجبور ہیں، زیادہ تر لوگ بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پلٹ رہاہے۔ بجلی بل ایک  معمہ بن گیا ہے نہ سمجھ میں آر ہاہے نہ سلجھ پارہاہے۔

ماہانہ ادا کئے جانے والے بجلی بل کا لاک ڈاؤن کے بعد دئیے گئے تین ماہ پر مشتمل بل سے موازنہ کرنے پر کافی فرق نظر آنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بجلی ادا کرنے میں گاہکوں کو کوئی پریشانی یا مشکلات نہیں ہونی چاہئے ، لیکن جو بل گھروں  میں دیاگیا ہے اس میں کافی فرق دیکھا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران میں دکانیں اور چند گھر بند رہنے پر بھی 10-10ہزار روپیوں کا بل آیاہے۔ اسی کو لے کر عوام کافی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ اور الزام لگارہے ہیں کہ ہیسکام محکمہ گاہکوں کو پریشان کررہاہے۔

حساب صحیح ہے ، دفتر سے مسئلہ حل کرلیں :بجلی بل ادائیگی کو لے کر جاری کشمکش پر ہیسکام افسران نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بل بالکل صحیح حساب سے دیا گیا ہے۔ بل میں کہیں بھی اضافہ نہیں کیاگیا ہے۔ عام طورپر ہرسال اپریل ، مئی کے مہینوں میں بجلی کا زیادہ استعمال ہوتاہےاگر عوام گزشتہ سال کے انہی مہینوں کے بجلی بل کے ساتھ موازنہ کریں گے تو انہیں بات سمجھ میں آئے گی۔ اسی طرح رمضان میں بھی زیادہ بجلی استعمال ہوتے دیکھاگیا ہے۔ اب دو تین مہینوں کا بل بیک وقت ہاتھ میں تھماتے ہی آنکھیں چار ہوگئی  ہیں، رقم زیادہ لگتی ہے، جو بھی بجلی بل دیا گیا ہے وہ سب کمپیوٹرائز ہونے سے کہیں بھی زیادہ فیس کو شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح چند جگہوں پر بجلی کا استعمال نہ ہونے کے باوجود ہزاروں روپئے کا بل آیا ہے تو بجلی میٹر کی خرابی ہوسکتی ہے، ایسے موقعوں پر میٹرکی درستی لازمی ہوجاتی ہے۔ افسران نے کہاکہ کوئی بھی ہو ، بجلی بل کی ادائیگی سے پہلے اپنی پیچیدگیوں کو حل کرلینا بہتر ہے۔ جس کے لئے ہیسکام افسران اور عملہ تعاون کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔

بھٹکل ہیسکام انجنئیر منجوناتھ نے عوامی تشویش کو دور کرتے ہوئے کہاکہ بجلی بل میں جس کسی کو شبہ یا پیچیدگی نظر آتی ہے وہ اپنے بل کے ساتھ ہیسکام دفتر پہنچ کر مسئلہ کو حل کرسکتےہیں۔ اس میں کوئی زور زبردستی نہیں کی جائے گی اورنہ  اس کی ضرورت ہے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں ایک کار سے ایک گولڈ بسکٹ سمیت دو سونے کی سلاخیں برآمد کرتے ہوئے دو لوگوں کو پولس نے کیا گرفتار

بھٹکل میں بدھ کی دیر رات کو بھٹکل ٹاون پولس نے ایک کار پر سے تین گولڈ بسکٹ برآمدکرتے ہوئے  کار پر سوار دو لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے، بعد میں آج جمعرات صبح مزید دو لوگوں کو  تحویل میں لئے جانے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

ساحلی کرناٹکا میں موسلادھار بارش؛ انکولہ ۔یلاپور ہائی وے پانی میں ڈوب گیا؛ چلتی کار پرردرخت گرنے سے کاروار کا ایک شخص ہلاک؛ ہوناور کے ولکی میں پانی کمپاونڈوں میں گھس گیا

ساحلی کرناٹکا میں گذشتہ تین چار دنوں سے زوردار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں سے نقصانات کی خبریں آرہی ہیں۔  یلاپور سے ملی اطلاع کے مطابق زبردست بارش کے نتیجے میں انکولہ۔یلاپور ہائی وے  پانی میں ڈوب  گیا ہے۔ یہ سڑک بند ہوجانے سے   انکولہ۔ ہبلی نیشنل ہائی ...

بھٹکل: مرڈیشور میں علاج نہ ملنے سے مریض کی موت۔ ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے لئے اے سی کو دیا گیا میمورنڈم

دل کا دورہ پڑنے پر مریض کو کورونا وباء کے شک میں مرڈئشور سرکاری اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم نہ کرنے سے موت واقع ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مریض کے گھروالوں کے علاوہ مقامی افراد نے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم دیا جس میں سرکار ی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیاگیا ...

کاروار؛ شمالی کینرا میں چار طلبہ نے پاس کیا سول سروس امتحان؛ ضلع میں پہلی مرتبہ 2لڑکیوں کو بھی ملی کامیابی

یونین پبلک سروس کمیشن(یو پی ایس سی) کے تحت منعقد کیے جانے والے امتحان میں امسال شمالی کینرا سے کُل 4طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جس میں شمالی کینرا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 2لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

بھٹکل میں طوفانی ہواوں کے ساتھ زوردار بارش؛ کئی درخت اُکھڑ گئے، الیکٹرک ٹرانسفارمر سمیت کئی کھمبوں کو نقصان؛ بجلی کی انکھ مچولیاں

بھٹکل میں آج منگل صبح سے طوفانی ہواوں کے ساتھ زور دار بارش کے نتیجے میں کئی علاقوں میں درختوں کے اُکھڑنے کے ساتھ ساتھ بجلی کے کھمبوں کے گرنے اور کئی مقامات پر الیکٹرک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس کی وجہ سے پورا دن  بجلی کی انکھ مچولیاں جاری رہیں۔

بابری مسجد تاریخ کے آئینہ میں؛ 1528 میں بابری مسجد کی تعمیر کے بعد 1949 سے 2020 تک

ایک طویل عدالتی جد و جہد کے بعد گزشتہ سال نومبر کی 9 تاریخ کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک ...

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

بابری مسجد کے "بے گناہ" مجرم ............ تحریر: معصوم مرادآبادی

بابری مسجد کا انہدام صدی کا سب سے گھناؤناجرم تھا۔ 6 دسمبر1992کو ایودھیا میں اس پانچ سو سالہ قدیم تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کرنے والے سنگھ پریوار کے مجرم خودکو سزا سے بچانے کے لئے اب تک قانون اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں۔ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ...