اُترکنڑا میں کرناٹکا کے وزیراعلیٰ کی کارکو 13 جگہوں پر روک کر تلاشی لینے کے بعد اب سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹرکی بھی لی گئی تلاشی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 22nd April 2019, 2:12 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 21/اپریل (ایس او نیوز)  3/اپریل کو کرناٹک کے وزیراعلیٰ کماراسوامی کی کار کو قریب 13 جگہوں پر روک کر تلاشی لینے کی کاروائی   کے بعد اب اُن کے والد  اور ملک کے سابق وزیراعظم  ایچ ڈی دیوے گوڈا صاحب  کے   ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینے کی بات سامنے آئی ہے، جس پر سیاسی لیڈران  مرکزی حکومت  پر یکطرفہ کاروائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سخت تنقید کررہے  ہیں ۔

آج اتوار کو جیسے ہی جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا کا ہیلی کاپٹر ہوناور  کے رام تیرتھ کے قریب واقع ہیلی پیڈ پر اُترا،  الیکشن آفسرس  فوراً ہیلی کاپٹر کی طرف لپکنے لگے اور جیسے ہی  دیوے گوڈا صاحب ہیلی کاپٹر سے باہر نکلے ، ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینی شروع کردی۔ قریب دس منٹ تک پورے ہیلی کاپٹر کو چھان مارا گیا، مگر کچھ بھی برآمد نہیں ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی تلاشی سے قبل اُن کو لے جانے والی کار کی بھی مکمل  تلاشی لی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ  دیوے گوڈا صاحب  شموگہ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ہوناور پہنچے تھے جہاں  اُتر کنڑا کے کانگریس۔جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدوار آنند اسنوٹیکر کی حمایت میں انہوں نے پرچار کیا اور عوام الناس سے اسنوٹیکر کے حق میں اپنا ووٹ دینے کی اپیل کی۔ہوناور سے دیوے گوڈا صاحب بھٹکل تشریف لاتے ہوئے  آنند اسنوٹیکر کے حق میں پرچار کیا اور  اس بار کے انتخابات کو یہ کہہ کر سب سے زیادہ اہم قرار دیا کہ   ملک کی جمہویت خطرے میں ہے اور اس کا تحفظ کرنا پورے ملک کے عوام کی ذمہ داری ہے۔

خیال رہے کہ  اس سے قبل جب ریاست کے وزیراعلیٰ کماراسوامی  بنگلور سے مینگلور ، پھر کنداپور اور بھٹکل ہوتے ہوئے کاروار پہنچے تھے تو کماراسوامی نے اخبارنویسوں کو بتایا تھا کہ اُن کی کار کو قریب 13 جگہوں پر روکا گیا اور پوری کار کی بار بار تلاشی لی گئی۔ کماراسوامی نے سوال کیا تھا کہ ایک وزیراعلیٰ کے ساتھ مرکزی حکومت اس طرح کا سلوک کرتی ہے تو پھر دیگر جے ڈی ایس اور کانگریسی  وزراء اور لیڈران کے ساتھ کس طرح کا امتیازی برتاو کیا جارہا ہوگا۔ انہوں نے اخبارنویسوں کے سامنے یہ بھی کہا تھا کہ بی جےپی  لیڈران اپنے آگے اور پیچھے سو گاڑیوں کو لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں مگر کسی بھی سواری کی جانچ نہیں کی جارہی ہے، انہوں نے   انتخابی  آفسران کو چیلنج کیا تھا کہ اگر اُن میں ہمت ہے تو بی جےپی  لیڈران کی سواریوں کی تلاشی لیں جن کو اس بار انتخابات میں شکست کا خوف  کھائے جارہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔ 

بی جے پی کے سینئر لیڈر آر اشوک نے سدارامیا اور کمار سوامی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا

وکھے درخت کے پتوں کی مانند جھڑرہے کانگریس اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں اندھیراچھا گیا ہے۔ انہیں آگے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ریاست کے عوام نے مخلوط حکومت کی چڈی پھاڑدی ہے۔ اس قسم کی طنزیہ باتیں بی جے پی کے سینئر قائدآر اشوک نے کہیں۔

کرناٹک پبلک اسکولوں میں سرکاری اسکولوں کو ضم نہیں کیا جائے گا

سرکاری اسکولوں کو ضم کئے بغیر ہی کرناٹک پبلک اسکول چلانے کی تجویز محکمہ تعلیمات کے زیر غور ہے ۔ سرکاری نظام کے تحت ایک ہی پلاٹ فارم پر پہلی سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کرناٹک پبلک اسکولوں کا انعقاد 2018-19 سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔

کمارسوامی نے وزیراعلیٰ کا عہدہ دیش پانڈے کو سونپنے کی رکھی تھی شرط ، کانگریس لیڈران رہ گئے دنگ؛ کماراسوامی کی قیادت پر ہی ظاہر کیا گیا اعتماد

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کی رسواکن شکست کے بعد کل وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت میں طلب کی گئی غیر رسمی کابینہ میٹنگ کے دوران وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے استعفے کی پیش کش کے متعلق چند نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔