ساحلی کرناٹکا سمیت ملناڈ میں زبردست بارش؛رامن گُلی میں سینکڑوں لوگ پھنس گئے؛ یلاپور نیشنل ہائی وے24 گھنٹوں سے بند؛ کل بدھ کو بھی اُترکنڑا اور اُڈپی کے تعلیمی اداروں میں چھٹی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th August 2019, 1:58 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 6/اگست (ایس او نیوز) پیر کی صبح  سے  جاری زبردست بارش کے نتیجے میں  ملناڈ سمیت ساحلی کرناٹکا کے  کئی علاقوں میں نقصانات کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ پیر کو ہوئی زبردست بارش سے بالخصوص ضلع شمالی کینرا کے مختلف  علاقوں میں سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہوگئی، طوفانی ہواوں کے چلتے کئی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں، اسی طرح  بھٹکل ، ہوناور، کمٹہ ، انکولہ اور کاروار میں سینکڑوں مکانوں کے اندر پانی گھس جانے سے  کافی نقصانات  ہوئے ہیں، کئی نشیبی علاقوں میں زبردست بارش سے حالات خراب ہونے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے  ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سو سے زائد خاندانوں کو  راحت سینٹر منتقل کردیا گیا ہے اور  سبھی سرکاری حکام کو  راحت رسانی کے کاموں پر لگادیا گیا ہے۔آج منگل کو بھی صبح سے بارش کا سلسلہ جاری ہے  اکثر علاقوں میں  روڈ اور گھروں کے کمپاونڈ تالاب میں تبدیل ہوگئے ہیں۔

اس دوران محکمہ موسمیات نے خبر دی ہے کہ ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ  ملناڈ کے علاقوں میں بھی زبردست بارش ہوئی ہے اور مزید اگلے  48 گھنٹوں  تک بارش کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔  ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کل پیر صبح آٹھ بجے سے آج منگل صبح آٹھ بجے تک ہوئی بارش کی تفصیلات بھی دی گئی ہے جس میں  سداپور میں سے سب سے زیادہ   282.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح  یلاپور ضلع اُترکنڑا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں   242.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔

بھٹکل میں  200.2 ملی میٹر،  سرسی میں 175.5 ملی میٹر، ہوناور میں 152.2 ملی میٹر،  کمٹہ میں 140.8 ملی میٹر،  ہلیال میں  132.8 ملی میٹر،  منڈگوڈ میں  101.2 ملی میٹر،  انکولہ میں    91.2 ملی میٹر،  جوئیڈا میں  84.6 ملی میٹر اور  کاروار میں  84.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

یلاپور میں چوبیس گھنٹوں سے ہائی وے بند:   پیر سے جاری  زوردار بارش  آج منگل کو بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں انکولہ۔یلاپور نیشنل ہائی وے 63 پچھلے چوبیس گھنٹوں سے بند ہے۔ملناڈ کے علاقوں بالخصوص سداپور اور سرسی سمیت دیگر علاقوں میں ہورہی زبردست بارش کے بعد  یلاپور  کی گنگاولی  ندی میں طغیانی آگئی ہے اور پانی پوری طاقت کے ساتھ   ندی سے اُبل کر ہائی وے پر بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے  نیشنل ہائی وے  کے دونوں طرف  پیر کی شام چار بجے سے  گاڑیوں کی قطار لگ گئی ۔ آج شام چار بجے  یعنی 24 گھنٹے گذرنے کے باوجود  ہائی وے نہیں کھل پایا ہے۔ ہبلی جانے کے لئے اکثر لوگ اسی ہائی وے کا استعمال کرتے ہیں، مگر ہائی وے بند ہوجانے سے  متبادل راستوں سے  سواریوں کو گذارا جارہا ہے۔

بھٹکل میں کئی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں، سو سے زائد مکانات کے اندر پانی :  پیر کو شروع ہوئی بارش آج منگل کو بھی جاری ہے اور آسمان  پر نظر دوڑانے سے لگتا ہے کہ پورا دن زبردست بارش ہوگی،  آسمان پرکالے بادل ایسے چھائے ہوئے ہیں کہ دوپہر کو ہی شام کو سماں لگ رہا ہے، ایسے میں طوفانی ہواوں کے چلتے خبریں آرہی ہیں کہ مختلف  علاقوں کی 25 سے زائد مکانوں کی چھتیں اُڑگئی ہیں، سو سے زائد مکانات کے اندر پانی گھس گیا ہے، ہر جگہ تالاب کا منظر ہے، بھٹکل شہر سمیت  شرالی اور مرڈیشور میں بھی  کئی نشیبی علاقے تالاب میں تبدیل ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔

بھٹکل تعلقہ کے ہیبلے، جالی، تیگنگونڈی،  بینگرے،  کائیکنی، شرالی وغیرہ علاقوں میں کم و بیش 30 مکانوں پر  درختوں کے گرنے سے  گھروں کو نقصان پہنچنے کی خبریں ملی ہیں، اسی طرح  مختلف علاقوں میں بجلی کے کھمبوں پر درخت گرنے سے 20 سے زائد بجلی کے کھمبے ٹوٹ گئے ہیں جبکہ  تین ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا ہے۔محکمہ ہیسکام نے قریب سات لاکھ روپیوں  کے نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔

اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کا اعلان:   پیر کو ہوئی   زبردست بارش کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے مختلف تعلقہ جات کے  تعلیمی آفسران کوہدایت جاری کی تھی کہ حالات پر نظر رکھتے ہوئے متعلقہ علاقوں کے اسکولوں میں  چھٹی کا اعلان کریں، جس کے بعد پیر کی رات کو ہی    اعلان کیا گیا تھا کہ  بھٹکل سمیت پورے ضلع اُتر کنڑا کے اسکولوں اور کالجوں میں منگل کو  چھٹی  ہوگی۔البتہ ہلیال اور ڈانڈیلی میں زیادہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے اُن تعلقہ جات کے تعلیمی اداروں میں چھٹی نہیں دی گئی تھی۔ 

کل بدھ کو بھی چھٹی:   اس دوران ضلع اُترکنڑا کے تقریبا تمام تعلقہ جات میں  زبردست بارش کو دیکھتے ہوئے اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے اعلان کیا ہے کہ   کل بدھ کو بھی بھٹکل تعلقہ سمیت ضلع اُترکنڑا کے سبھی اسکولس اور کالجس بند رہیں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ علاقوں کے تعلیمی آفسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم جاری کریں۔ اُدھر پڑوسی ضلع اُڈپی میں بھی زبردست  بارش اور طوفانی ہواوں کو دیکھتے ہوئے تمام اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

کمٹہ سرسی روڈ پر کشتیاں، یلاپور ہائی وے پر بھاری ٹریفک:   زبردست بارش کے نتیجے میں کمٹہ ۔سرسی روڈ پر بھاری مقدار میں پانی جمع ہوجانے سے لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے  پلاسٹک کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

رامن گُلی سے رابطہ منقطع؛  سینکڑوں لوگ پھنس گئے:   انکولہ اور یلاپور سمیت  تمام علاقوں میں کل پیر سے جاری بھاری بارش  کی وجہ سے یہاں کے نیشنل ہائی وے پر بھاری مقدار میں پانی جمع ہوجانے سے ایک طرف راستہ بند ہوگیا ہے وہیں  ان دونوں کے درمیان واقع رامن گُلی  سے  دیگر علاقوں کا  رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں سے سینکڑوں لوگوں کو  محفوظ مقامات پر منتقل کرنے   کی کوشش کی جارہی ہے مگر راستہ بند ہوجانے  اور زبردست بارش کے چلتے رامن گُلی میں   پہنچنا  ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک طرف یانا راستہ بند ہوگیا ہے تو دوسری طرف گنگاولی ندی میں  طغیانی آجانے سے یہاں  کا ہینگنگ بریج کا استعمال بھی  خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ خبر ملی ہے کہ یہاں کے لوگوں کے لئے اب کھانے پینے کا سامان نہیں ہے اور کھانے پینے کا سامان پہنچانے کے لئے  ضلعی انتظامیہ کو خبر دی گئی ہے مگر  یہاں کیسے پہنچاجائیں اُس پر  غور کیا جارہا ہے۔

شرالی میں درخت گرنے سے تین بائک کو نقصان:   بھٹکل تعلقہ کے شرالی میں طوفانی ہواوں کے  ساتھ ہوئی بارش سے ایک  درخت جڑ سمیت اُکھڑ گیا، جس کی زد میں آکر تین بائک  کو شدید نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ تین الیکٹرک کھمبے بھی گرگئے۔ اطلاع ملتے ہی درخت کو کاٹ کر بجلی سروس بحال کردی گئی ہے۔

شراوتی بیلٹ کی شراوتی ندی اُبلنے لگی:  اُدھر پڑوسی ضلع شموگہ میں بھی پیر کو زبردست بارش ہونے کی وجہ سے   وہاں سے بہتے ہوئے ضلع اُترکنڑا میں پہنچنے والی شراوتی ندی میں طغیانی آگئی جس کے نتیجے میں  شراوتی بیلٹ میں ندی اُبل گئی،  ہوناور تعلقہ کے ولکی سے خبر ملی ہے کہ وہاں ندی کا پانی باغوں اور کھیتوں میں  بھرنے کے بعد کئی مکانوں کے اندر بھی گھس گیا جس سے  لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔  ولکی ندی کنارے قائم مسجد کے کمپاونڈ سمیت اطراف کا پورا علاقہ  تالاب میں تبدیل ہوگیا ہے، یہاں پر موجود اتحاد پبلک  اسکول  کے چہاروں طرف کثیر مقدار  میں پانی جمع ہوجانے سے  اسکول انتظامیہ  بھی حرکت میں آگئی اور اسکول کے اندر پانی داخل ہونے  کے آثار کو دیکھتے ہوئے پیشگی اقدمات کرتے نظر آئی۔

کدرا  ڈیم سے پانی کا اخراج:   اُدھر  جوئیڈا میں بھی ز بردست بارش کی وجہ سے  کالی ندی میں   طغیانی آگئی  اور کدرا سمیت کوڈسلّی ڈیم میں  پانی  بھاری مقدار میں جمع ہوجانے کے بعد انتظامیہ کو دونوں ڈیموں سے پانی خارج کرنا  پڑا۔  بتایا گیا ہے کہ قریب 10,500 کوسیک پانی کو ڈیم سے چھوڑا گیا ہے۔ ڈیم سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے  علاقہ کے سات گھروں کے اندر پانی بھر گیا اور ضلعی انتظامیہ نے سات مکانوں کے 23 لوگوں کو راحت سینٹر منتقل کیا۔

کاروار میں پہاڑی پرشگاف، زمین کھسکنے کا خدشہ:   بھاری بارش کے چلتے  کاروار تعلقہ کے  بھیرا قصبہ  میں  کالی ندی کے کنارے واقع   شِم گُڈّا   پہاڑی پر شگاف دیکھے جانے کے بعد  یہاں کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پہاڑی کھسکنے  کے خدشہ کود یکھتے ہوئے  پہاڑی کے نیچے واقع تینوں  مکانوں کو خالی کرایا گیا۔

سداپور اور سرسی میں زبردست بارش، کمٹہ کی ندی میں طغیانی:   پہاڑی علاقہ سداپور اور سرسی میں زبردست بارش ہونے کے نتیجے میں  بھاری مقدار میں پانی  اگھناشنی ندی کے ذریعے کمٹہ پہنچا  جس کی وجہ سے ندی کمٹہ میں اُبل پڑی اور پانی اطراف کے باغات اور کھیتوں میں  گھستے ہوئے کئی مکانوں کے اندر بھی گھس گیا۔یہاں نشیبی علاقے تالاب میں تبدیل ہوگئے اور عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اُڈپی شموگہ ہائی وے  بند:  ضلع اُترکنڑا کے ساتھ ساتھ پڑوسی ضلع اُڈپی میں بھی زبردست بارش سے نقصانات کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ زبردست بارش سے اُڈپی   میں  بھی آج اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا، مگر اب تازہ  اطلاعات آرہی ہیں کہ طوفانی ہواوں کے ساتھ جاری بارش اور بجلیاں گرنے سے  عام زندگی مفلوج ہونے کے ساتھ ساتھ  اُڈپی کے ہیبری کے قریب بنڈی مٹھ میں سیتا ندی  بھر کر اُبلنے کی وجہ سے  اُڈپی۔شموگہ ہائی وے 169A مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے جس کے چلتے سواریوں کا گذر بند ہوگیا ہے۔ ہائی وے بند ہوجانے کی وجہ سے  علاقہ کی انتظامیہ نے سواریوں کے لئے متبادل راستوں کی نشاندہی کی ہے اور سواریاں دوسرے راستوں  سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ 

رپورٹ شائع ہونے تک  بھٹکل سمیت پورے ساحلی کرناٹک میں طوفانی ہوائوں کے ساتھ  زبردست بارش کا سلسلہ جاری  ہے اور  مغرب کا سا سماں لگ رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

ریاستی حکومت نے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کیا

ریاست کی سابقہ کانگریس جے ڈی ایس حکومت کے دور میں کی گئی مبینہ ٹیلی فون ٹیپنگ کی سی بی آئی جانچ کے ا حکامات صادر کرنے کے دودن بعد ہی آج ریاستی حکومت نے کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

بنگلورو: نشے میں دھت شخص نے فٹ پاتھ پر 7 لوگوں کو کچل دیا

شراب کے نشے میں دھت ایک شخص نے بہت تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھا دی اور فٹ پاتھ پر چل رہے 7 افراد اس کار کی زد میں آ گئے۔ زخمیوں کو فوراً اسپتال پہنچایا گیا اور خبر لکھے جانے تک ان لوگوں کی حلات نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بینگلورو کے ایچ ایس آر لے آؤٹ علاقے کا ہے۔