کمٹہ میں زبردست بارش؛ تنڈراکولی میں کئی مکانوں کے اندر پانی گھس گیا؛ مادن گیری میں نیشنل ہائی وے بلاک

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th June 2019, 10:04 PM | ساحلی خبریں |

کمٹہ 11/جون (ایس او نیوز)   آج منگل دوپہر سے  پورے کمٹہ میں طوفانی ہواوں کے ساتھ  زبردست بارش  شروع ہوگئی  جس کے ساتھ ہی  یہاں  گرمی کا زور ٹوٹ گیا  اور موسم میں اچانک تبدیلی واقع ہوگئی ۔ شام ہوتے ہوتے بادلوں کی گرجدار آوازوں کے ساتھ بجلی  بھی چمکنے لگی، جبکہ زوردار بارش کے نتیجے میں کئی علاقے تالاب میں تبدیل ہوگئے۔

دوپہر 12:30 بجے سے  جاری بارش کاسلسلہ رات کو بھی جاری رہا، جس سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوجانے سے  عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  کئی علاقوں میں راستوں میں کثیر مقدار میں پانی جمع ہوجانے سے  سواریوں کی چہل پہل بری طرح متاثر ہوئی اور عوام کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مشکلات پیش آئی۔ 

بارش سے ایک طرف عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی تو وہیں عوام نے مانسون کی آمد پر  راحت کی بھی سانس لی، خیال رہے کہ  شدت کی گرمی سے کمٹہ کے کئی علاقوں میں پانی کی بھی شدید قلت پائی جارہی تھی۔ بارش کی شروعات پر عوام میں  خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

 کئی مکانوں کے اندر پانی گھس گیا:  زوردار بارش کے نتیجے میں تعلقہ کے تنڈراکولی میں کئی مکانوں کے اندر پانی گھسنے کی اطلاع ملی ، اسی طرح   مادن گیری میں نیشنل ہائی وے پر پانی کو آگے بڑھنے کے لئے جب راستہ نہیں ملا تو پوری سڑک ہی تالاب میں تبدیل ہوگئی  جس کی وجہ سے   ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا۔ نیشنل ہائی وے پر کثیر مقدار میں پانی جمع ہوجانے کو لے کر عوام نے  نیشنل ہائی وے  کا تعمیراتی کام کرنے والی آئی آر بی کمپنی کے   غیر سائنٹیفک کام کو ذمہ دار ٹہرایا۔ عوام نے بتایا کہ فورلائن ہائی وے کی تعمیر کو لے کر آئی آر بی نے  اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں دی کہ بارش ہوگی تو پانی کی نکاسی  کا کیا انتظام ہوگا۔

زوردار بارش کے نتیجے میں کمٹہ بس اسٹائنڈ کے سامنے نیشنل ہائی وے پر بھی  پانی بھاری مقدار میں جمع ہوگیا تھا، جس سے کچھ دیر کے لئے ٹریفک نظام متاثر ہوا تھا،  مگر بارش کے تھمتے ہی  پانی اُتر گیا۔  بارش کے دوران ہیگڈے کراس سڑک پر ایک بھاری بھرکم درخت گرنے سے بھی  ٹریفک نظام کچھ دیر کے لئے متاثر ہوا۔

بڈی گونی میں  ٹینکر پلٹ گیا:  موسلادھار بارش کے چلتے  کمٹہ تعلقہ کے بڈی گونی نیشنل ہائی وے پر پٹرول سے بھرا ایک ٹینکر پلٹ گیا،   یہ تو اچھا ہوا کہ ٹینکر سے پٹرول کا رساو نہیں ہوا، ورنہ  ٹینکر کے پلٹتے ہی عوام الناس میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی تھی۔   بتایا گیا ہے  کہ ٹینکر پلٹنے سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

الیکٹری سٹی غائب:   دوپہر کو بارش شروع ہوتے ہی  الیکٹری سٹی غائب ہوگئی،  بتایا گیا ہے کہ طوفانی ہواوں کی وجہ سے الیکٹری سٹی  فیل ہوگئی تھی، مگر رات آٹھ بجے  محکمہ الیکٹری سٹی کی جانب سے بجلی بحال کی گئی۔

کئی راستوں پر پانی جمع ہوجانے سے   پولس نے سواریوں کو متبادل  راستوں کی طرف موڑ دیا تھا، رات نو بجے تک بارش میں کمی واقع ہوئی  تھی، البتہ محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹے میں مزید بارش ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔

کمٹہ کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقوں  کاروار، انکولہ، ہوناور اور بھٹکل میں بھی بارش ہونے کی اطلاعات ہیں، البتہ  پڑوسی علاقوں میں  نارمل بارش ہوئی ہے، اور کہیں پر بھی زیادہ بارش ہونے سے  پانی جمع ہونے کی بھی اطلاعات نہیں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...

نیسرگا‘طوفان کے دوران طوفانی ہوا اور بارش سے ہیسکام کو کاروار میں ایک ہی دن 8لاکھ اور بھٹکل میں 1 لاکھ سے زائد کا نقصان

مہاراشٹرامیں تباہی مچانے والا ’نیسرگا‘ طوفان ویسے تو کرناٹکا کے ساحلی علاقے کو چھوتا ہوانکل گیا، مگر جاتے جاتے بھٹکل سمیت  کاروار شہر اوراطراف میں اپنے اثرات ضرور چھوڑ گیا۔

مینگلور: آئندہ صرف کورونا سے متاثر افراد کے گھروں کو ’سیل ڈاؤن‘ کیا جائے گا۔ علاقے کو’کٹینمنٹ زون‘ نہیں بنایا جائے گا؛ میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کا بیان

سرکاری سطح پرکووِڈ 19کی وباء پر قابو پانے کے لئے ابتدا میں جوسخت اقدامات کیے جارہے تھے، اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان میں نرمی لانے کا کام مسلسل ہورہا ہے۔

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔