شموگہ میں بارش کا سلسلہ جاری؛ ہوناور کے گیرسوپا ڈیم سے پھر چھوڑا گیا پانی؛ شراوتی بیلٹ کے عوام میں خوف وہراس ،بوڑھے بزرگوں کو محفوظ مقامات پر کیا گیا منتقل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 5th September 2019, 12:23 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 4/ستمبر (ایس او نیوز) پڑوسی ضلع  شموگہ کے ہوس نگر اور تیرتھاہلّی  میں آج بدھ کو بھی  موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کی بنا پر  ہوناور تعلقہ کے گیرسوپا ڈیم سے  پانی کا اخراج کیا گیا ڈیم کے گیٹ کھولتے ہی شراوتی بیلٹ  کے کئی ایک دیہاتوں کے اندر پانی چلا گیاہے۔ اطلاع کے مطابق کھیتوں اور باغات میں آٹھ سے دس فٹ پانی  جمع ہوجانے سے عوام میں پھر ایک بار خوف کا ماحول چھا گیاہے اور رات کو مزید مسائل پیدا ہونے کے خدشات کو دیکھتے ہوئے  بوڑھے اور بزرگ لوگوں کو احتیاطی طور پر محفوظ  مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

شراوتی کونسل  کےسکریٹری جناب  مظفر یوسف صاحب نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  پڑوسی ضلع شموگہ میں زوردار بارش ہونے کی وجہ سے لنگن مکی ڈیم سے پانی چھوڑا گیا تھا ، وہاں سے پانی گیر سوپا ڈیم میں جمع ہوتا ہے، چونکہ گیر سوپا ڈیم بھی مکمل طور پر بھر چکاہے، آج دوپہر کو ڈیم سے پانی کا اخراج کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال پانی گھروں کے اندر نہیں پہنچا ہے، مگر رات میں کسی بھی وقت گھروں کے اندر پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مزید بتایا کہ اس تعلق سے ہنگامی طور پر لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنے کے لئے سرکار کی جانب سے کوئی  انتظام نہیں کیا گیا ہے البتہ  فوری طور پر شراوتی کونسل کی جانب سے ایک بڑی کشتی کو تیار رکھا گیا ہے،  جس کے ذریعے   ایمرجنسی پیش آنے کی صورت میں لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ندی کنارے واقع چار مکانوں سے لوگوں کو  خالی کراتے ہوئے انہیں محفوظ مقام پر لے جایا گیا ہے۔ جن مکانات کے اندر پانی آنے کا خدشہ ہے اُن مکانات سے  لوگوں نے اپنے گھروں میں موجود  قیمتی ساز وسامان کو نکال کر محفوظ مقام پر پہنچادیا ہے اور لوگ حالات  پر نظر رکھے ہوئے بالکل الرٹ ہیں۔ ان کے مطابق  گیرسوپا، سڑلگی، سمسی، کُروا،  ماگوڈ،  جنگوڈ،  کودرگی وغیرہ علاقوں میں پانی کمپاونڈ کے اندر تک پہنچ گیا ہے۔

بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر جناب ساجد مُلّا نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  شموگہ میں تیز بارش ہونے کی بنا پر آج دوپہر قریب تین بجے گیرسوپا ڈیم سے 70,000 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ اس بات کی پوری کوشش کی جارہی ہے کہ پانی مکانات کے اندر داخل نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود  گیرسوپا میں موجود ہیں اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...

نیسرگا‘طوفان کے دوران طوفانی ہوا اور بارش سے ہیسکام کو کاروار میں ایک ہی دن 8لاکھ اور بھٹکل میں 1 لاکھ سے زائد کا نقصان

مہاراشٹرامیں تباہی مچانے والا ’نیسرگا‘ طوفان ویسے تو کرناٹکا کے ساحلی علاقے کو چھوتا ہوانکل گیا، مگر جاتے جاتے بھٹکل سمیت  کاروار شہر اوراطراف میں اپنے اثرات ضرور چھوڑ گیا۔

مینگلور: آئندہ صرف کورونا سے متاثر افراد کے گھروں کو ’سیل ڈاؤن‘ کیا جائے گا۔ علاقے کو’کٹینمنٹ زون‘ نہیں بنایا جائے گا؛ میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کا بیان

سرکاری سطح پرکووِڈ 19کی وباء پر قابو پانے کے لئے ابتدا میں جوسخت اقدامات کیے جارہے تھے، اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان میں نرمی لانے کا کام مسلسل ہورہا ہے۔

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔